پاکستانی حملوں کا عسکری جواب دینگے، پاکستان کو اپنے شرمناک اقدام کا جواب ملنا چاہیے – ذبیح اللہ مجاہد

57

پاکستانی حملوں کا عسکری جواب دینگے،ٹی ٹی پی افغانستان میں نہیں پاکستان کے اندر بڑے علاقوں پر کنٹرول رکھتی ہے، ذبیح اللہ مجاہد

افغانستان کی طالبان حکومت نے بدھ کے روز کہا کہ وہ حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کا عسکری جواب دے گی۔

طالبان نے اسلام آباد پر الزام لگایا کہ اس نے افغان شہریوں کو نشانہ بنایا اور اپنے ملک میں داعش کے جنگجوؤں کو ’محفوظ پناہ گاہیں‘ فراہم کیں۔

یاد رہے کہ پاکستان نے اتوار کی رات افغانستان کے اپنی سرحد سے متصل علاقوں ننگرہار اور جنوب مشرقی پکتیکا صوبوں میں فضائی حملے کیے۔

پاکستان کا کہنا تھا کہ یہ حملے ان عسکریت پسند گروہوں پر کیے گئے جو پاکستان میں حملوں کے ذمہ دار ہیں۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ ’قدرتی طور پر یہ عسکری جواب ہوگا، لیکن اس کی تفصیلات خفیہ ہیں۔ پاکستان کو اپنے شرمناک اقدام کا جواب ملنا چاہیے۔‘

انھوں نے الزام لگایا کہ پاکستان نے عسکریت پسندوں کے بجائے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ننگرہار میں ایک خاندان کے  17 افراد ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔ پکتیکا میں بچوں کے ایک سکول پر حملہ ہوا، جس میں ایک بچہ زخمی اور کئی عمارتیں تباہ ہوئیں۔

انھوں نے کہا کہ ’وہاں کوئی مسلح افراد نہیں تھے، صرف شہری زخمی اور ہلاک ہوئے۔‘

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش سے منسلک جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے تھے۔ کابل ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے۔

ذبیح مجاہد نے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ افغانستان عسکریت پسند گروہوں کو پڑوسی ممالک کے خلاف اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے جب بھی پاکستان میں حملے ہوتے ہیں، وہ فوراً بغیر ثبوت کے انھیں افغانستان سے جوڑ دیتے ہیں اور ہم پر الزام لگاتے ہیں۔ ہم اس کو رد کرتے ہیں۔ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جسے پاکستانی طالبان بھی کہا جاتا ہے، کی افغانستان میں کوئی موجودگی نہیں ہے۔

’یہ پاکستان کے اندرونی مسائل ہیں۔ ٹی ٹی پی پاکستان کے اندر بڑے علاقوں پر کنٹرول رکھتی ہے۔ وہ وہاں رہ سکتے ہیں، انھیں افغان زمین کی ضرورت نہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔’بغیر ثبوت یا شواہد پیش کیے، وہ صرف دعوے کرتے ہیں، پروپیگنڈا چلاتے ہیں، اور پھر ایسے اقدامات کرتے ہیں جنہیں ہم ناقابلِ معافی سمجھتے ہیں۔‘

افغان حکومت کے ترجمان نے خاص طور پر خطے کے ممالک اور مسلم اکثریتی ممالک پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے اقدامات کی مذمت کریں اور اسلام آباد کو اپنا رویہ بدلنے پر مجبور کریں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ خطے اور اسلامی ممالک اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور پاکستان کو اپنا رویہ بدلنے پر آمادہ کریں۔ تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔‘