سندھ بلوچستان بس ٹرانسپورٹرز یونین کے چیئرمین اقبال شازئی نے مکران کوسٹل ہائی وے پر قائم پاکستانی فورسز کے چیک پوسٹوں پر کرپشن اور ٹرانسپورٹرز کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کر دیے ہیں۔
وندر میں ٹرانسپورٹرز کے دھرنا گاہ سے پریس بریفنگ کرتے ہوئے اقبال شازئی نے کہا کہ سیکیورٹی کے نام پر قائم مختلف چیک پوسٹوں پر ٹرانسپورٹرز کو غیر قانونی رقوم کی ادائیگی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی ضلع میں متعدد مقامات پر گاڑیوں کو روک کر نہ صرف ڈرائیورز اور کلینرز کو تنگ کیا جاتا ہے بلکہ مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس صورتحال کے باعث ٹرانسپورٹ کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور عوام میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پارلیمانی سیکرٹری برائے انرجی میر اصغر رند نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ عوام اور ٹرانسپورٹرز کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیچ اور گوادر کے بس ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا فوری نوٹس لیا جائے اور ان کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کوسٹل ہائی وے پر قائم چیک پوسٹوں کی وجہ سے نہ صرف ٹرانسپورٹرز کو پریشانی کا سامنا ہے بلکہ سب سے زیادہ متاثر غریب مسافر ہو رہے ہیں، جو شدید اذیت برداشت کر رہے ہیں۔
میر اصغر رند نے کہا کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ٹرانسپورٹرز کا مجبوراﹰ سروس معطل کرکے ہڑتال پر جانا ایک تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیک پوسٹوں پر تعینات عملے کو عوام دوست رویہ اپنانے کا پابند بنایا جائے، چیکنگ کے نظام کو شفاف اور مؤثر بنایا جائے اور گاڑیوں کو غیر ضروری طور پر طویل وقت تک کھڑا کرنے سے گریز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیک پوسٹوں کو صرف سیکیورٹی معاملات تک محدود رکھا جائے۔
انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ عوامی مشکلات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور مزید مایوسی پیدا کرنے سے گریز کیا جائے۔ میر اصغر رند نے اعلان کیا کہ وہ اس معاملے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان سے بات کریں گے اور صوبائی اسمبلی کے فلور پر بھی اس مسئلے کو اٹھائیں گے۔
ادھر مکران ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ غیر ضروری چیک پوسٹیں ختم کی جائیں یا کم از کم کوسٹل ہائی وے پر ایک ہی مرکزی چیک پوسٹ قائم کی جائے، جبکہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ فوری مذاکرات کر کے مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔


















































