بی وائی سی کی مرکزی رکن سمی دین بلوچ کی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں سے ملاقات

130

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق تنظیم کے مرکزی رہنماء سمی دین بلوچ نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف سفیروں، سیاسی شخصیات، صحافیوں اور رپورٹرز سے ملاقاتیں کیں، انسانی حقوق سے متعلق سنگین مسائل کو اجاگر کیا اور بلوچ عوام کی آواز بلند کی۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے حقِ پُرامن اجتماع محترمہ جینا رومیر و؛ خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد سے متعلق اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ محترمہ ریم السالم (اردن)؛ اور انسانی حقوق کے نمائندوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ میری لاولر کے سینئر مشیر ایڈ او ڈونووان سے ملاقات کی۔

ان ملاقاتوں کے دوران سمی دین بلوچ نے بلوچستان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی، جہاں پُرامن اجتماع اور آزادیِ اظہار کو جرم بنا دیا گیا ہے اور عوام کو احتجاج یا ریاستی جبر کے خلاف آواز اٹھانے کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے بلوچ خواتین کے خلاف ریاستی تشدد کو بھی اجاگر کیا، جن میں خواتین اور کم عمر بچیوں کی جبری گمشدگیاں، اور بلوچ خواتین کی غیرقانونی گرفتاریاں شامل ہیں، جن میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کیس بھی شامل ہے۔

مزید برآں، انہوں نے انسانی حقوق کے محافظوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنائے جانے پر روشنی ڈالی، جنہیں دھمکیوں، ہراسانی، جبری گمشدگیوں، من مانی گرفتاریوں اور قتل کا سامنا ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ اور دیگر کے کیسز زیرِ بحث آئے۔

اقوامِ متحدہ کے نمائندوں نے ان سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ ان مسائل کو اقوامِ متحدہ کے فورمز پر اٹھانے اور ان کے حل کے لیے فعال کردار ادا کریں گے۔