کراچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی رکن فوزیہ بلوچ اور ان کے اہلِ خانہ کی رہائی کے بعد مقدمہ خارج کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ مقامی مجسٹریٹ کی جانب سے لیا گیا۔
فوزیہ بلوچ کو کل اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ کراچی پریس کلب کے باہر صحافیوں سے ملاقات کے لیے جا رہی تھیں۔ ان کے ساتھ ان کی والدہ اور دیگر اہلِ خانہ بھی موجود تھے۔ پولیس کی جانب سے ان پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 124-اے (بغاوت) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اب یہ مقدمہ ختم کر دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ اُس پس منظر میں پیش آیا جب فوزیہ بلوچ اپنے بھائی داد شاہ کی جبری گمشدگی کے خلاف آواز اٹھا رہی تھیں۔ اہلِ خانہ کے مطابق داد شاہ کو 21 اپریل کو پاکستان فورسز نے اٹھایا تھا، جس کے بعد وہ تاحال لاپتہ ہیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ انہوں نے مقامی تھانے میں ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے درخواست وصول کرنے سے انکار کر دیا۔
بعد ازاں، اہلِ خانہ نے داد شاہ کے جبری گمشدگی کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے کراچی پریس کلب کا رخ کیا، جہاں سے انہیں حراست میں لے لیا گیا۔













































