چانسلر فریڈرش میرس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں امریکہ ’’سبکی‘‘ کا سامنا کر رہا ہے اور یہ جنگ جلد ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔
اپنے آبائی علاقے مارسبرگ میں ایک اسکول کے دورے کے دوران انہوں نے کہا، ’’ایرانی توقع سے زیادہ مضبوط ثابت ہوئے ہیں اور امریکیوں کے پاس مذاکرات میں کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں۔
میرس نے کہا کہ ایسے تنازعات میں داخل ہونا جتنا مشکل نہیں ہوتا، اس سے نکلنا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے، جس کی مثالیں افغانستان اور اعراق میں دیکھی جا چکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ’’بغیر کسی حکمتِ عملی کے‘‘ اس جنگ میں داخل ہوا، جس کی وجہ سے اسے ختم کرنا مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ’’ایرانی نہایت مہارت سے مذاکرات کر رہے ہیں، یا مہارت سے مذاکرات سے گریز کر رہے ہیں۔ ایک پوری قوم کی ایرانی قیادت کے ہاتھوں سبکی ہو رہی ہے۔
چانسلر نے موجودہ صورتحال کو ’’انتہائی پیچیدہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے جرمنی کی معیشت پر بھی براہِ راست اثرات پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے بارودی سرنگیں صاف کرنے والے بحری جہاز فراہم کرنے کی پیشکش برقرار رکھے ہوئے ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے لڑائی بند ہو۔



















































