قلات و خاران میں فورسز کی بڑی تعداد میں نقل و حرکت، آپریشن کا خدشہ

118

قلات کے پہاڑی علاقوں میں قمبر خان مینگل کے مسلح کارندے بھی فورسز کے ہمراہ

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع قلات اور خاران کے درمیانی پہاڑی سلسلے میں پاکستانی فورسز کی بڑی تعداد میں نقل و حرکت جاری ہے جبکہ علاقے میں جاسوس طیاروں کی غیر معمولی پروازیں بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق قلات کے علاقوں نیمرغ، سمالو، پارود و دیگر علاقوں میں فورسز کی بڑی تعداد جمع ہورہی ہے جبکہ خاران کے علاقے لجے، تازینہ اور لجے توک کو فورسز نے محاصرے میں لیکر داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی کردی ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق قلات پارود سے متصل پہاڑوں علاقوں میں قمبر خان مینگل کی سربرائی میں چلنے والی مسلح گروپ کے کاندوں کی گشت بھی جاری ہے۔

قلات اور خاران کے پہاڑی علاقوں بڑے فوجی آپریشن کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

واضح رہے بلوچستان کے مختلف علاقوں سمیت یہ علاقے بھی ماضی میں پاکستانی فورسز کی جانب سے کیئے گئے فوجی آپریشنوں کی زد میں رہے ہیں جس کے باعث مالداری سے منسلک عام آبادی کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ ان علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر بھی مجبور ہوئے ہیں۔