بولان: پاکستان فوج پر بم حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں ۔ بی...

بلوچ لبریشن آرمی نے آج صبح بولان میں فورسز پر ہونے والے بم حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان...

جمہوریت کے دعویدار حکومت لاپتہ افراد کے لواحقین کو سننے کے لئے تیار نہیں...

بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے بھوک ہڑتالی کیمپ پانچویں روز بھی کراچی پریس کلب کے سامنے جاری رہی- کراچی سے جبری گمشدگی کے شکار...

لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے احتجاج جاری

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتال کیمپ کو 4687 دن ہوگئے، آج احتجاجی کیمپ میں قلات سے سیاسی و سماجی کارکنانعبدالمجید بلوچ، محمد بلوچ اور دیگر لوگوں...

میرے دو بھائیوں کو فورسز نے حراست میں لینے بعد لاپتہ کیا۔ محمد عمر...

بلوچستان کے ضلع نوشکی سے تعلق رکھنے والے محمد عمر سرپرہ نے اپنے دو لاپتہ بھائیوں کے کوائف لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئےکام کرنے والی تنظیم وائس فار بلوچ مِسنگ کے پاس جمع کئے۔  محمد عمر سرپرہ نے الزام عائد کیا ہے میرے بھائی ذاکر احمد اور راشد احمد ولد محمد یوسف سرپراہ  کو پاکستانی فورسز نےحراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔  محمد عمر نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ 30اگست 2021 کو میرے بھائی ذاکر کو ڈی سی آفس نوشکی سے فورسز نے حراستمیں لے کر لاپتہ کیا جبکہ راشد کو فورسز نے گھر پر چھاپہ مارکر حراست میں لیا جس کے بعد دونوں کے حوالے سے کوئی خبر خیرموصول نہیں ہوئی ہے کہ کہاں اور کس حال میں ہے۔  انہوں نے کہا ہے کہ پورے اہل علاقہ کے سامنے میرے بھائیوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا جبکہ پولیس اور دیگر ذرائع سے انکے بازیابی اور تلاش کی کوشش کی ہے مگر جواب ایک ہی آیا ہے کہ میرے بھائی خفیہ ایجنسیوں کے تحویل میں ہے۔  خیال رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے حوالے سے فورسز پر لواحقین اور دیگر حلقے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں جہاںلوگوں کا کہنا ہے فورسز کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ وہ لوگوں کے جبری گمشدگیوں میں ملوث ہیں تاہم فورسز ان الزاماتکی تردید کرتا آرہا ہے۔

اینٹی نارکوٹیکس فورس کے کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی...

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ سرمچاروں نے گزشتہ رات ساڑھے آٹھ بجے ضلع پنجگور  کے مین بازار میں جاوید چوک کے قریب اینٹی نارکو ٹیکس فورس (اے این ایف) کے کیمپ پر دستی بموں سے حملہ کیا۔ دستی بم کیمپ کے اندر گرے جس سے فورسز کو جانی و مالی نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض فورسز پر حملے مقبوضہ بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔

بولان میں پاکستانی فورسز پر بم حملہ

بلوچستان کے ضلع بولان میں نامعلوم افراد نے پاکستانی فورسز کو ایک بم حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ حملہ آج صبح پیراسماعیل میں منصور ٹاپ کے علاقے میں پاکستانی فورسز...

ہنہ اوڑک میں عوامی اراضیات پر ایف سی کا قبضہ غیر قانونی ہیں –...

نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے جنرل سیکرٹری مزمل شاہ نے اپنے بیان میں ضلع کوئٹہ کی پرفضا وادی ہنہ میں عوامی ملکیت کیاراضی، پانی اور عوام و شہریوں کی سیروتفریح...

کیچ: پاکستانی فورسز پر حملے، کیپٹن زخمی، دو اہلکار ہلاک

بلوچستان کے ضلع کیچ میں دو مختلف حملوں میں پاکستانی فورسز کے دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ ذرائع  کے مطابق منگل کے روز عبدوئی اور زامران کے علاقوں میں پاکستانی فورسز پر دو الگ حملوں میں دو اہلکار ہلاک اور ایکزخمی ہوا ۔ تفصلات کے مطابق تحصیل تمپ کے علاقہ عبدوئی زامری میں نامعلوم مسلح افراد  کی فائرنگ سے پاکستانی فورس کا اہلکار سپاہیوحید گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرے واقعہ میں تحصیل بلیدہ زامران کے علاقہ میں گولڈ سمڈ لائن پر باڑ لگانے والوں کےسیکورٹی پر مامور فورسز کے اہلکاروں پر فائرنگ کے نتیجے میں سپاہی محمد عثمان ولد لیاقت علی سکنہ نوشہروزفیروز سندھ ہلاکہوگیا جبکہ کیپٹن علی زین گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔ ذرائع کے مطابق زخمی اور لاشوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایف سی ہیڈکوارٹر تربت منتقل کردیا گیا۔ واقعہ کے بعد سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیراؤ میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا ہے اور فوجی ہیلی کاپٹروںسے فضائی نگرانی بھی جاری ہے ۔ یاد رہے کہ مذکورہ علاقوں میں اس سے پہلے پاکستانی فورسز پر حملے ہوئے ہیں جنکی ذمہ داری بلوچستان میں سرگرم آزادی پسندتنظیمیں قبول کرتے آرہے ہیں،تاہم آج ہونے والے حملوں کی ذمہ داری ابتک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

کوئٹہ: لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے احتجاج جاری

وائس فار بلوچ مسنگ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4686 دن مکمل ہوگئے، آج سیاسی اور سماجی کارکنان داد محمد بلوچ ، اصغر بلوچ ، نور...

تربت: لاپتہ افراد کے لواحقین کا سی پیک روٹ پر دھرنا

تربت ڈی بلوچ کے مقام پر لاپتہ افراد کے لواحقین کا دھرنا جاری، مظاہرین نے سی پیک روڈ بلاک کرکے جبری گمشدگی کے شکار افرادکی بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں- تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت کے مقام پر لاپتہ طلباء کے لواحقین کی جانب سے ڈی بلوچ پر دھرنا دیکرروڈ کو احتجاجاً مکمل بند کردیا گیا ہے۔ احتجاج میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ، سول سوسائٹی سیاسی سماجی تنظمیوں کے ارکانشریک ہوئے- تربت ڈی بلوچ روڈ پر دھرنے کے باعث دونوں طرف ٹریفک کی آمدو رفت معطل ہوگئی ہے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئے ہیں- مظاہرین کے مطابق پاکستانی فورسز نے طالب علم نعیم ولد رحمت بلوچ اور شفیق ولد دلدار کو رواں سال 17 مارچ کو حراست بعدنامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جبکہ اس دوران  تربت سمیت گرد نواح سے درجنوں افراد جبری گمشدگی کا شکار ہوئے ہیں جو منظرعام پر نہیں آسکے ہیں- مظاہرین کے مطابق علاقہ میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے اس سے قبل لاپتہ  نوجوانوں کی باحفاظت بازیابی کے لئے مقامیلوگوں نے دھرنا دیا تو انتظامیہ نے ملاقاتوں کے دوران کچھ دنوں کی مہلت مانگی تھی مگر مہلت گزرنے کے باوجود لاپتہ نوجوانوں کیبازیابی کیلئے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی جس کے خلاف آج پھر ہم احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں- لاپتہ افراد کے لواحقین شدید گرمی میں سڑک پر دھرنا دئے ہوئے ہیں احتجاج پر بیٹھے لواحقین کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے لاپتہ  پیاروںکی زندگی کے بارے میں خدشات لاحق ہیں احتجاج کے علاوہ انکے پاس کوئی راستہ نہیں ہمارے  پیاروں کو بغیر کسی جرم کے بےگناہ اٹھا کر حبس بے جا میں رکھا گیا ہے جب انصاف کے لئے انتظامیہ کے پاس گئے تو تسلی دی گئی کہ اپنا احتجاج منسوخ کریںتاہم طویل انتظار کے باجود ہمارے پیارے منظر عام پر نہیں آسکے جس کے باعث ہم پھر سے احتجاج پر مجبور ہیں- مظاہرین نے لاپتہ طلباء سمیت دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے انتظامیہ کو خبردار کی ہے کہ وہ اس دفع بغیر کسیپیش رفت کے لواحقین کو دھوکا دیکر احتجاج ختم کرنے کی کوشش کرینگے تو شدید احتجاج کے صورت میں ردعمل سامنے آئے گا-

تازہ ترین

گوادر: مزید چار افراد جبری طور پر لاپتہ

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے علاقے جیونی میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق دسمبر 2025...

کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاج آج بروز اتوار 6044ویں روز میں داخل ہو گیا۔

ڈاکٹر ماہ رنگ نے بلوچستان کے نوجوانوں کو یقین دلایا تھا کہ بندوق کے...

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے کہا ہے کہ جب ریاستِ پاکستان پُرامن...

ایران میں دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں ہلاک افراد کی تعداد 192 ہوگئی،...

ایران میں احتجاجی مظاہروں کا 14 واں روز جاری ہے، ایرانی انسانی حقوق تنظیم کے دعوے کے مطابق دو ہفتے سے جاری...

بلوچ آزادی پسندوں کے اتحاد “بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کی سالانہ رپورٹ شائع،...

بلوچ راجی آجوئی سنگر ( براس) نے سال 2025 کے دوران اپنی عسکری اور تنظیمی سرگرمیوں پر مبنی سالانہ انفوگرافک رپورٹ جاری...