بلوچ خواتین کے نام – امبر شمبے زئی

0

بلوچ خواتین کے نام

تحریر: امبر شمبے زئی

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ قومی تحریک کے خلاف ریاست نے تمام حربے استعمال کیے۔ گرفتاریاں، مقدمے، ہجرت، مسخ شدہ لاشیں، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی سزا، مقامی آبادیوں کی بے دخلی، خواتین کی گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں ہر حربہ استعمال کرنے کے بعد اس نے مقامی سطح پر کم سن لڑکوں کو مخبری کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی اور انہیں منشیات اور لالچ کا نشہ دیا، لیکن تمام حربے بلوچ قومی جدوجہد کی مقامی حمایت کو کم کرنے میں ناکام رہے۔

پھر ان کے ایجنٹ مسلح تحریکوں کی صفوں میں سب سے بڑے ہمدرد بن کر داخل ہوئے۔ شک کی بنیاد پر لوگوں کا قتل وقتی طور پر ریاست کے لیے شاید مفید رہا، لیکن مستقبل میں یہ عمل کارآمد ثابت نہیں ہوا۔

اب ہمارے خلاف ایک انتہائی خطرناک کھیل کا آغاز کیا جا چکا ہے، اور مقامی سطح پر خواتین کو چند پیسوں کے عوض مخبری کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کا آغاز مقامی سطح پر ڈیتھ اسکواڈ کے ان پڑھ کارندوں نے اپنے گھروں سے کر دیا ہے، اور اب اس کا دائرہ کار بہت حد تک پھیل چکا ہے۔

لہٰذا بلوچ خواتین اس گندے اور قومی دشمنی کے عمل سے دور رہیں۔ اگر مقامی سطح پر ان غیر مقامی فوجیوں کو مخبر دستیاب نہ ہوتے تو آج ہمارے شہیدوں کے پاک لہو کے صدقے ہمیں ایک آزاد معاشرے کی بنیاد قائم ہوتی، لیکن بدقسمت لوگ چند پیسوں کے عوض، بڑے انجانے میں، بڑے مجرم بن رہے ہیں۔

یہ کوئی نیا حربہ نہیں۔ تاریخ میں قابض اور نوآبادیاتی طاقتیں مقامی خواتین سے معلومات حاصل کرنے اور انہیں نگرانی کے نظام میں شامل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ مثال کے طور پر 1950 کی دہائی میں کینیا کی Mau Mau مزاحمت کے خلاف برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ نے مقامی آبادی، خصوصاً خواتین، پر نگرانی اور معلومات کے حصول کے مختلف طریقے استعمال کیے۔

کیمبرج یونیورسٹی پریس میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تاریخی تحقیق کے مطابق، 1955 میں کینیا کے گورنر نے خواتین کی فراہم کردہ معلومات سے Mau Mau مزاحمت کاروں کی گرفتاریوں میں مدد ملنے کا ذکر کیا تھا۔ (Cambridge University Press)

اسی طرح ملایا کی ہنگامی صورتِ حال (1948–1960) کے دوران برطانوی حکومت نے مقامی آبادی پر کنٹرول، نگرانی اور معلومات کے حصول کو اپنی انسدادِ مزاحمت کی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بنایا۔ اس دور کی تاریخی تحقیق میں مقامی آبادی، پولیس، اسپیشل برانچ اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو برطانوی کارروائیوں کا اہم جزو قرار دیا گیا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔