میرا جگری دوست میرو
تحریر: دیار بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
آج میں قلم اٹھا کر اپنے جگری دوست کے بارے میں لکھنے جا رہی ہوں، وہ دوست جس کے ساتھ بہت سی یادیں ہیں۔ میرین صرف میرا دوست نہیں بلکہ میرا استاد اور رہنمائی کرنے والا تھا۔ اس نے مجھے زندگی میں جدوجہد کا راستہ دکھایا ہے اور ایک استاد کی طرح مجھے سکھایا ہے کہ زمین صرف مٹی کا ڈھیر نہیں، یہ آپ کی شناخت ہے۔
میں نے اکثر سوچا ہے اگر میں میرین کے بارے میں لکھوں تو کہاں سے شروع کروں اور کہاں پر ختم کروں، کیونکہ وہ ایک ایسا کردار اور داستان ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔
زندگی میں کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے بچھڑنے کا خیال بھی آئے تو جسم لرز اٹھتا ہے۔ میرین میرے زندگی میں ایک ایسا ہی دوست تھا؛ وہ مجھ سے نہیں بلکہ میری روح سے جڑا ہوا تھا۔ میرو ایک ایسا دوست تھا جو ہر پریشانی میں ساتھ دیتا تھا، ہر کمزوری میں حوصلہ بنتا تھا، ہر سختی میں امید بنتا تھا۔
میرین ایک بہت ہی مہربان دوست تھا۔ وہ جب بھی ہمارے درمیان ہوتا تو چند دوستوں کی مجلس ایک محفل بن جاتی۔ دوست اکثر کہتے تھے کہ میرو یار، آپ مذاق کرتے ہوئے سب کو ہنساتے ہو لیکن خود بالکل نہیں ہنستے۔
میرین وہ سپاہی تھا جس نے تین سال پہاڑوں میں گزارے۔ ان تین سالوں میں اس نے ہر قسم کی مشکلات دیکھی اور برداشت کیں۔ اس نے اپنے ساتھیوں کی شہادت دیکھی، پہاڑوں کے لمبے سفر، بھوک، پیاس، گرمی، سردی سب دیکھے، لیکن ان سب قربانیوں نے اسے کمزور نہیں بلکہ اور زیادہ مضبوط بنایا۔
میرین اور کمانڈر گنجل ہمیشہ ساتھ ہوتے تھے اور ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔ جب کمانڈر گنجل شہید ہوا تو میرا میرین سے رابطہ ہوا۔ میں نے کہا کہ زگرو سنگت شہید ہوئے ہیں تو میرین نے جواب دیا، ہاں سنگت! ہم سارے دوست بہت غمزدہ ہیں۔ ریحان، اور گنجل جیسے دوست ہم سے جدا ہوئے۔ دوستوں کے جدا ہونے کا درد بہت زیادہ تھا، لیکن زگرو پھر بھی ہمیں تسلی دے رہا تھا کہ یہ جنگ ہے، ایسے حالات آئیں گے ہمیں، ہمیں خود کو مضبوط کرنا ہے اور اپنے شہیدوں کو مبارکباد دینی ہے کہ وہ جس مقصد کے لئے جدوجہد کر رہے تھے وہ اس مقصد میں کامیاب ہوئے اور ثابت قدم رہے۔ سنگتوں نے ہم سے پہلے شہادت حاصل کی، ہم بھی ان کے پیچھے ہیں۔
زندگی کا وہ لمحہ بہت اذیت ناک ہوتا ہے جب آپ کو یہ خبر ملے کہ آپ کے روح سے جڑی ہوئی شخصیت، آپ کے دل کا ٹکڑا، آپ کا جگری دوست شہید ہوا ہے۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ میرین آپریشن گنجل میں حصہ لے کر ساتھیوں سمیت شہید ہوا ہے تو یقین نہیں آ رہا تھا کہ میرو شہید ہوا ہے۔ وہ ایسا لمحہ تھا جو کبھی بیان نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ درد کا لمحہ تھا اور درد کبھی بیان نہیں کیا جا سکتا، وہ صرف محسوس کیا جاتا ہے۔ اس لمحے میں خوشی اور غم ایک ساتھ تھے: خوشی ساتھیوں کی کامیابی کی اور دشمن کی شکست کی، اور درد جگری یاروں کے جسمانی طور پر جدا ہونے کا۔
میرو، آپ مجھ سے صرف جسمانی طور پر جدا ہوئے ہو، لیکن فکری طور پر ہمیشہ میرے ساتھ ہو اور رہنمائی کر رہے ہو۔ آپ ہر انقلابی سوچ میں، سرمچار ساتھیوں کے دلوں میں، شور کے بلند پہاڑوں میں، نوشکل کے سینے میں، لجے اور قلات کے محازوں میں ہمیشہ زندہ ہو۔ آپ بار بار آؤ گے فدائی کی شکل میں اور ہر بار دشمن کو اس کے کیمپوں کے اندر نیست و نابود کرو گے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































