گلٹ اور فیصلے کے درمیان کھڑا نوجوان – ہارون بلوچ

35

گلٹ اور فیصلے کے درمیان کھڑا نوجوان

تحریر: ہارون بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

یہ عنوان خود سے بہت سے ایسے سوالوں کا جواب ہے جو آپ سوچ رہے ہیں؛ اس کیفیت سے جس سے آپ گزر رہے ہیں، اس اذیت ناک احساس کا سامنا آپ ہر دن کرتے ہیں۔ ہر دن خود کو سکون دینے کے چکر میں، ہر دن خود کو حقیقت سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوال تلاش کرتے ہیں، جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی خود کو تسلی دیتے ہیں تو کبھی بہانے تراشتے ہیں، جواز بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک طرف گلٹ (احساسِ شرم) نے پکڑ لیا ہے۔ صبح جب اٹھتے ہیں، کسی مجلس میں بیٹھے ہوں تو جنگ کی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں؛ فلاں نوجوان اس محاذ پر لڑتے ہوئے شہید ہوا ہے، وہ کچھ دن پہلے اس سڑک، اس ہوٹل، اس کیفے، اس پکنک اور دیوان میں ہمارے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ پھر موبائل نکال کر اس کی تصویر دیکھ لیتے ہو، اس کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہو، یا اگر سرکل سے خود کو الگ کر لیا ہے، دیوان و مجلس سے دور ہو تو فیس بک یا کسی سوشل میڈیا پر ہر دن کسی کی تصویر دیکھتے ہو۔ پھر کسی دوست کو اس کی تصویر بھیج دیتے ہو، ایک اسٹیٹس لگاتے ہو، اگر کچھ زیادہ جرات دکھانی ہو تو رومانی انداز میں فیس بک یا ٹوئٹر پر کچھ اس کے بارے میں لکھتے ہو، انہیں سلامی دیتے ہو۔

کچھ لمحوں کے لیے یہ سرگرمیاں تمہیں سکون دیتی ہیں، کچھ لمحوں کے لیے یہ طریقہ ایک راحت دیتا ہے، لیکن یہ یادیں، یہ خیالات اور یہ موجود حقیقت کسی بھی طرح لمحاتی نہیں ہیں۔ غلامی ایک مکمل سچائی ہے۔ راستے میں جاتے ہوئے جب ایف سی چیک پوسٹ پر نظر پڑتی ہے، اور راستے میں جب ایف سی اہلکار کو کھڑا دیکھ کر دل میں خوف پیدا ہوتا ہے، پھر جب کسی حالت میں گھر لوٹ آتے ہو تو وہ حقیقت پیچھے چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتی۔ وہ یادیں، وہ انقلابی باتیں، جہاں ایک ہی مجلس میں سب بیٹھ کر قوم، زمین، تحریک، غلامی، تذلیل، ظلم، جبر، اذیت اور تاریخی حوالہ جات پر بات ہوتی تھی، تشدد کے عنوانات زیرِ بحث آتے تھے، فینن (Fanon) زیرِ بحث لایا جاتا تھا کہ تشدد کیوں ہو رہا ہے اور غلام کے لیے تشدد کا راستہ کیوں ضروری ہے؟ تشدد کی حقیقت کیا ہے؟ قبضہ گیر کس طرح غلام کو پرامن کے نام پر غلام بناتا ہے؟

وہ تمام چیزیں تمہاری یادداشت کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن اب حقیقت بدل چکی ہے۔ میں گھر میں بیٹھا ہوں، چند ساتھی شہید ہو چکے ہیں، چند قید ہیں، چند اس وقت محاذ پر دشمن کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ گلٹ مزید بڑھ جاتا ہے، پھر فینن کے خوف پر لگایا گیا سرکل اس وقت اپنے اندر محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس وقت خوف صرف دشمن کا نہیں ہوتا، ماں کی مہر بھی ایک خوف لگنے لگتی ہے۔ گھر والے اس وقت ایک خوف بن جاتے ہیں کہ اگر میں نے کوئی فیصلہ لیا تو ان کا کیا ہوگا؟ ماں کی مہر کبھی کبھار زہر لگنے لگتی ہے کیونکہ تم مسلسل خود کو خوفزدہ کرنے لگتے ہو کہ اگر میں مارا گیا تو اس کا کیا ہوگا۔

لیکن حقیقت کو جھٹلانا بھی ممکن نہیں، غلامی کی سچائی سے بھاگنا بھی ممکن نہیں۔ شہید ساتھیوں کے ساتھ ایک ہی مجلس میں بیٹھ کر انقلاب، جنگ، تحریک، قربانی، شہادت، نیشنلزم، تشدد کے پیچھے موجود فلسفہ، فینن پر بحث، فدائیوں کی قربانی کو سلام پیش کرنا، سرمچاروں کی بہادری کو داد دینا، انہیں ہیرو سمجھنا، ان کی عظمت پر بات کرنا، اور اسی راستے کو آخری راستہ قرار دینا، یہ تمام بحثیں تم نے کی ہیں۔ لیکن اب بحث کا وقت چلا گیا ہے، اب مرحلہ وہ نہیں رہا کیونکہ اس وقت بحث پر سوال اٹھنے لگتے ہیں کہ تم کیوں بیٹھے ہو؟ پھر ہر سوال بھی ایک زہر کا گھونٹ لگنے لگتا ہے۔ شرمندگی اور احساس کے درمیان یہ جنگ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتی ہے۔

پھر بہانے تلاش کرنا شروع کرنا پڑتا ہے۔ کیا باتیں کرنا انقلاب کا حصہ نہیں؟ بحث بھی انقلاب کا حصہ ہے۔ تعلیم بھی ضروری ہے؛ فلاں آزادی کی تحریک میں ایجوکیشن پر کتنا کام کیا گیا؟ اس تحریک میں ماسٹر، ڈاکٹر، وکیل اور صحافت نے کتنا بڑا کردار ادا کیا؟

وہ اس حقیقت کو جان کر بھی رد کر دیتا ہے کہ ڈاکٹر کی اس وقت سب سے زیادہ ضرورت مسلح محاذ پر ہے جہاں ہر دن ساتھی زخمی ہوتے ہیں، وکیل کی ضرورت جنگ کو ہے جہاں سرمچار دن میں کتنے فیصلے کرتے ہیں، صحافی کی ضرورت جنگ میں ہے جہاں وہ حقیقی منظرنامہ دنیا کے سامنے لا سکتے ہیں، دانشور کا سب سے اہم کردار تو جنگ کے میدان میں ہے جہاں حقیقت، انقلاب، درد، اذیت، شعور، آگاہی، سوچ اور کردار موجود ہیں، جہاں سینکڑوں فدائی ایک ساتھ جاتے ہیں؛ انہیں بیان کرنا، سامنے لانا، دنیا کو دکھانا، یہ سب جنگ کا تقاضا بھی ہے۔

ٹیچر اور استاد کی سب سے زیادہ ضرورت تو جنگ کو ہے، جہاں میدان میں وہ عملی طور پر سرمچاروں کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ لیکن اس وقت وہ مسلح محاذ میں یہ چیزیں نہیں ڈھونڈ رہا ہوتا، جس طرح ایک، دو سال یا چند مہینے پہلے وہ فینن کے تشدد کے نظریے کے اندر موجود بدترین تشدد کو ڈھونڈ رہا تھا، کیونکہ اس وقت سوال ذات کا ہوتا ہے۔

اس کے ذہن میں لاشعوری طور پر مسلح تحریک کے اندر کمزوریاں نظر آنے لگتی ہیں۔ پھر وہ گوریلا سرمچار کو بیان کرنا شروع کر دیتا ہے۔ فلاں روڈ پر ایک تقریر کے دوران کسی سرمچار کے منہ سے نقاب اتارنے پر سوال اٹھاتا ہے، لیکن اس وقت اسے وہ سینکڑوں سرمچار یاد نہیں آتے جو کیمپوں کے اندر موجود ہوتے ہیں، سینکڑوں دشمن کے ساتھ روبرو لڑائی میں شہید ہوتے ہیں؛ وہ دشمن کے اس خوف کو زیرِ بحث نہیں لاتے جو وہ آج ہر علاقے میں محسوس کر رہا ہے۔

وہ جنگ کی طوالت، جنگ کے پورے بلوچستان میں پھیلنے، بلوچ سماج میں جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی انقلابی تبدیلیوں، خواتین کی آزادانہ شمولیت، منظم تنظیم اور فرنٹ لائن پر لڑنے والی قیادت، ان سب چیزوں کو دیکھ نہیں پاتا، لیکن ایک سرمچار کے ایک مقام پر اٹھتے نقاب پر ضرور وہ گھنٹوں بحث کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اصل میں وہ اپنے اندر موجود گلٹ کو بہلانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ وہ ان جذبات اور احساسات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے جو اسے اندر ہی اندر مسلسل کھائے جا رہے ہیں، مسلسل اذیت دے رہے ہیں۔ یادداشت کا وہ حصہ جس میں تشدد، قربانی، سرمچار، شہید سنگت اور یادیں ہیں، اور دوسرا حصہ وہ ہے جہاں خاندان، محبوبہ یا بیوی، بچے، گھر اور مستقبل موجود ہوتے ہیں۔

لیکن گلٹ اتنی آسانی سے انسان سے الگ ہونے والی چیز نہیں، کیونکہ گلٹ کا تعلق اندرونی احساس اور ضمیر سے ہوتا ہے۔ اگر ضمیر زندہ ہے، احساس زندہ ہے، اندرونی حقیقت زندہ ہے اور مرا نہیں، تو وہ مسلسل اس سے سوال کرے گا۔ وہ یادداشت واپس لے آتا ہے جسے وہ شعوری یا لاشعوری طور پر بھولنا چاہتا ہے۔ گلٹ حقیقت ہے؛ جب تک ضمیر زندہ ہے، احساس زندہ ہے، درد زندہ ہے اور اندرونی حقیقت زندہ ہے، وہ مسلسل تمہیں اندرونی طور پر کھاتا جائے گا۔

گلٹ سے بھاگنے کے نت نئے طریقوں کا استعمال شروع ہوتا ہے۔ شراب و چرس جیسے نشے شروع کرنے پڑتے ہیں، سرکل بدلنے پڑتے ہیں، سوشل میڈیا سے دوری اختیار کی جاتی ہے۔ رشتے قائم کیے جاتے ہیں، کچھ شادی کر لیتے ہیں اور کچھ جلاوطنی میں زندگی ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جلاوطنی میں زندگی تلاش کرنا سمندر میں ریگستان تلاش کرنے کی ایک ناکام کوشش ہوتی ہے، جو تصور تو کیا جاتا ہے، کچھ لوگ وہاں تک پہنچنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں، لیکن بد سے بدتر ہو جاتے ہیں، وہ نشے سے بھی آگے تک پہنچ جاتے ہیں، وہ بدترین اذیت میں ہوتے ہیں، کچھ زندگی اور اپنی حقیقی شناخت کھو بیٹھتے ہیں۔ لیکن سکون نہیں ملتا۔

دوسری طرف فیصلہ کھڑا ہوتا ہے، جب اس کے بارے میں سوچا جاتا ہے تو لمحہ بھر ضمیر مطمئن ہونا شروع ہو جاتا ہے؛ دشمن سے جنگ و جھڑپیں، آزادی، شہادت، عظمت، چند لمحوں کے لیے فخر محسوس ہونے لگتا ہے۔ پھر جا کر کسی سرمچار کا عکس دیکھنا پڑتا ہے۔ چند لمحوں کے لیے جیسے اسے ایک زندگی ملی ہو جس میں عزت ہے، احترام ہے، وفاداری ہے، بہادری ہے، اور قوم و ساتھیوں کے سامنے ایک برتر مقام ہے۔ ایک ایسی زندگی کا جذبہ، ایک ایسی کیفیت جو بیان سے بالاتر ہے۔ ایک سرمچار ہونے میں کتنی عظمت ہے، کتنی زندگی ہے، کتنا سکون، راحت، مقصدیت اور انتہا ہے؛ کاش اس حقیقت، اس کیفیت، جذبات اور زندگی کو میں الفاظ میں بیان کر پاتا۔

ہر وہ اندرونی حقیقت، جذبہ، عزت، احترام، شناخت، آزادی اور سنگتی جس کا انسان اپنی زندگی میں تصور کرتا ہے، بلوچ سماج کے اندر وہ ایک سرمچار کو حاصل ہوتا ہے۔ ابھی وہ اس فیصلے پر پہنچا نہیں، بس اس کا خیال اسے ایک مکمل فخریہ زندگی دے رہا ہے۔

لیکن پھر اس کے سامنے ایک اور حقیقت زندہ ہو جاتی ہے، خوف کی حقیقت؛ موجودہ بدترین زندگی سے بغاوت کرنے کا خوف، محبوبہ کے زلفوں کے سائے میں موجود ان لمحاتی لذتوں سے الگ ہونے کا خوف۔ اجتماعی ذمہ داریوں سے ہٹ کر جب وہ انفرادی، خاندانی ذمہ داریوں کے بارے میں سوچنے لگتا ہے تو وہ مزید خوفزدہ ہونے لگتا ہے۔ وہ اس حقیقت کو سمجھنے کے باوجود کہ اجتماعی خوشحالی، اجتماعی زندگی، سکون اور راحت میں ہی حقیقی آزادی، سکون اور راحت پوشیدہ ہے۔ اگر آپ کے محلے میں رات بھر رونے، گولیوں کی آوازیں آئیں، صبح جب اٹھو تو کسی کی مسخ شدہ لاش کی خبریں ملیں تو آپ انفرادی طور پر کیسے سکون حاصل کر سکتے ہو؟

جب راستے میں جاتے ہوئے تمہیں دس بار روکا جائے اور ہر مرتبہ تمہیں اپنی زندگی کا خوف کھائے جانے لگے تو یہ کیسی زندگی ہے؟ بلکہ یہ زندگی ہے ہی نہیں، بلکہ خوف، تذلیل، بے عزتی اور گلٹ کے سائے میں ایک بدترین ذہنی اذیت ہے۔ یہ ایک لمحے کے لیے بھی زندگی نہیں، کیونکہ جب تک تم اس خوف کو شکست دے کر مزاحمت کا راستہ اپنا کر حقیقی معنوں میں زندگی کرنا شروع نہیں کرو گے، تمہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوگا کہ حقیقی زندگی کا تصور کیا ہے، حقیقی زندگی کے جذبات کیا ہوتے ہیں، محسوسات کیا ہوتے ہیں۔

جب تم سرمچار کو سوچ رہے ہوتے ہو تو تمہارے سامنے ایک مسلح تصور آتا ہے، جب وہ پہاڑوں کے درمیان کلاشنکوف، ایم فور یا آر پی جی ہاتھ میں لیے کھڑا ایک مسکراتا نوجوان دکھائی دیتا ہے، لیکن اس مسکراہٹ کے پیچھے چھپی ہوئی اندرونی خوشی، لذت، زندگی، حقیقی کیفیت اور جذبات دکھائی نہیں دیتے جو اس وقت اسے حاصل ہوتے ہیں۔ آزادی کی زندگی اگر کسی کو پانچ مہینے کے لیے بھی گزارنے کو مل جائے تو وہ ان ہزار سالوں سے بھی زیادہ لذت بھری ہوتی ہے جس میں گلٹ، شرمندگی، بے شرمی، جواز، بہانے، ہٹ دھرمی اور خود سے جھوٹ و فریب شامل نہ ہوں۔

یہ صرف ایک عنوان نہیں، بلکہ ہزاروں نوجوانوں کی زندگی کا منظرنامہ ہے۔ ہزاروں زندگیوں کی حقیقت کا شفاف رنگ، جسے چند سمجھ رہے ہیں اور بیشتر اسے سمجھنے سے بھی محروم ہیں۔ وہ گلٹ میں جی رہے ہیں اور آزادی، زندگی، لذت اور حقیقی خوشی سے محروم ہیں۔

صرف ایک فیصلے کو قبول کرنے اور فیصلہ لینے کی دیر نے ان کی زندگیوں کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ غیر مؤثر اور بے مقصد ہو گئے ہیں۔ عظمت، خوشی اور زندگی کا راستہ فیصلہ لینے میں ہے، جبکہ ذلت، بے عزتی اور احساسِ شرم کی زندگی اسی گلٹ کے سائے میں جینے میں ہے۔

جنگ کے میدان میں موت شاید ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں، لیکن اس موت میں بھی ایک لذت و سکون موجود ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، گلٹ کے سائے میں جینا، خوف کی زندگی گزارنا، شرمندگی کی حالت میں رہنا، خود کو فریب میں رکھنا، اور آخر تک خود سے نفرت کرنا، یہ سب ایک ایسی زندگی ہے جہاں خوشی، حقیقت اور سچائی تمہارے اندر سے ختم ہو چکی ہوتی ہے اور تم ایک ڈھانچے کی مانند زندہ رہتے ہو۔ اس لیے فیصلے کی طرف آؤ، قربانی، جنگ، زندگی اور آزادی کا انتخاب کرو؛ یہی سکون ہے، یہی زندگی ہے، یہی حقیقت اور سچائی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔