بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے خاتون سمیت 8 افراد بازیاب ہوکر گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق زکریا ولد آسمی، سکنہ میناز (ضلع کیچ)، کو 21 اپریل 2025 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جنہیں 24 اپریل 2026 کو تربت میں رہا کیا گیا۔
اسی طرح عبدین ولد اسلام، سکنہ بالگتر (کیچ)، کو 19 اپریل 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جنہیں 25 اپریل 2026 کو ایف سی کیمپ سے رہا کیا گیا۔
ریاض احمد ولد ماسٹر ایاز، سکنہ (خاران)، کو 12 اپریل 2026 کو لاپتہ کیا گیا تھا، جنہیں 25 اپریل 2026 کو خاران میں بازیاب کیا گیا۔
عبدالباسط ولد محمد سعید، سکنہ مند (کیچ)، کو 3 مارچ 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جنہیں 21 اپریل 2026 کو تربت میں رہا کیا گیا۔
مغفیر عابد ولد حبیب اللہ سیاپاد، سکنہ (خاران)، کو 17 جنوری 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جنہیں 21 اپریل 2026 کو خاران میں رہا کیا گیا۔
اسی طرح مبارک علی ولد میر احمد ، سکنہ (خاران)، کو 2 اپریل 2025 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جنہیں 21 اپریل 2026 کو خاران میں بازیاب کیا گیا۔
دریں اثناء خضدار سے جبری لاپتہ ہونے والی خاتون سمینہ دختر دوستین، عمر 24 سال، سکنہ نال (خضدار)، جنہیں 22 اپریل 2026 کو رات 9 بجے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے لاپتہ کیا تھا، کو گزشتہ رات بازیاب کیا گیا۔ وہ ایک منتخب جے وی ٹی ٹیچر بھی ہیں۔
ان کے ہمراہ قمبر ولد عبداللطیف، عمر 27 سال، سکنہ نال (خضدار)، جو کہ ایک طالب علم ہیں اور انہیں بھی اسی روز اور وقت پر لاپتہ کیا گیا تھا، کو بھی گزشتہ رات بازیاب کرلیا گیا۔
اہلخانہ اور مقامی ذرائع نے تمام افراد کی بازیابی کی تصدیق کی ہے، تاہم بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
















































