سندھودیش روولیوشنری آرمی (ایس آر اے) کے چیف کمانڈر سید اصغر شاہ نے آج رہبرِ سندھ سائیں جی ایم سید کی 31ویں برسی کے موقع پر اپنا پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ “سائیں جی ایم سید کی تاریخ ساز شخصیت، فکر اور جدوجہد ہی سندھ کی بقا اور آزادی کی ضمانت ہے۔ سندھی قوم اور خاص طور پر قومی تحریک کو نئے سرے سے اپنا اور تیزی سے تبدیل ہونے والی خطے کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لے کر، نئے حالات سے ہم آہنگ ہو کر اور جدوجہد کے نئے طور طریقوں اور حکمت عملیوں کے ساتھ آگے بڑھ کر آزادی کی جدوجہد کو تیز کرنا ہوگا۔”
ایس آر اے سربراہ نے مزید کہا کہ آزادی، سندھی قوم کا فطری اور تاریخی حق ہے، جس کو پاکستان جیسی غیر فطری اور غیر تاریخی ریاست زیادہ وقت روک نہیں سکتی۔ کیونکہ پاکستان کی 78سالہ قلیل تاریخ، فیصلے اور بار بار رونما ہونے والے بحرانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ جو ریاستیں غلط نظریوں، سازشوں اور دھوکہ دہیوں کے ذریعے بنتی ہیں، وہ لازمی طور پر ایک دن ٹوٹ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی اور قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے ایک طرف اپنے جبری الحاق میں قید بنائی ہوئی قوموں سندھیوں، بلوچوں اور پشتونوں کا سیاسی و معاشی استحصال تیز سے تیز تر کر کے نسل کشی کر رہا ہے تو دوسری طرف ناک کی ڈھٹائی سے ہاتھ میں کٹورا اٹھا کر آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، چین اور عرب ممالک سمیت ساری دنیا کے ممالک سے بھیک مانگ رہا ہے۔
ایس آر اے سربراہ نے مزید کہا کہ آج ایک مرتبہ پھر سے ساری دنیا خاص طور پر مغربی ایشیا کا خطہ جنگ و جدل کی لپیٹ میں ہے۔ ماضی میں جب بھی ایسے جنگی حالات نے جنم لیا ہے تو مختلف خطوں، ملکوں، سرحدوں اور نقشوں میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ اس وقت بھی موجودہ عالمی و علاقائی سیاسی اور جنگی حالات نئے نقشوں کے بننے، بڑے اتحادوں کے ٹوٹنے اور نئی صف بندیوں کے جڑنے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں بھی بحیثیت قوم اور قومی تحریک کے اپنی صفوں کو درست کر کے فکرِ سید کی روشنی میں عقل، شعور، ادراک اور دانائی والی حکمت عملیوں کے ساتھ آگے بڑھ کر اپنی جدوجہد کو تیز کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس سیاسی اور جنگی ٹکراؤ کے پیش منظر میں ہمارے وطن کی تاریخ اور تقدیر میں تبدیلیوں کا آنا اور اثرات کا پڑنا بھی لازمی ہے۔
ایس آر اے سربراہ نے مزید کہا کہ سفارتکاری اور چاپلوسی دو الگ الگ چیزیں ہیں اور ان دونوں میں دن رات کا فرق ہے۔ جو پاکستانی ریاست اپنے بنیادیں اور جوہر میں ہی غلط ہو، قوموں کی آزادی والے جمہوری حق کی انکاری ہو اور جس ملک کی پارلیمنٹ، سینیٹ، عدلیہ اور معاشی ادارے دیوالیہ و کرپشن کا شکار ہوں، وہ ریاست کونسی اور کتنی سفارتکاری کر کے خطے میں امن قائم کروا سکتی ہے اور دوسرے ممالک پر اثر انداز ہو کر فیصلوں پر عمل درآمد کروا سکتی ہے؟ یہ بذات خود 21ویں صدی کا بڑے سے بڑا لطیفہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آخر میں، میں سائیں جی ایم سید کی برسی کے موقع پر اس کے فکر اور جدوجہد سے تجدیدِ عہدِ وفا کا وعدہ دہراتے ہوئے اسے قومی انقلابی سلام پیش کرتا ہوں اور سندھی قوم خاص طور پر نوجوانوں کو جدوجہد، صرف انقلابی جدوجہد کی دعوت دیتا ہوں۔ کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمارے وطن کو بچا سکتا ہے اور آزادی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

















































