چئیرمین زبیر کون تھے، اُس سے وابستہ فکری یادیں – گہرام اسلم بلوچ

1

چئیرمین زبیر کون تھے، اُس سے وابستہ فکری یادیں

تحریر: گہرام اسلم بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ہم عصر ساتھیوں کی جدائی صرف ایک ذاتی صدمہ نہیں ہوتا، یہ ایک فکری و نظریاتی خلا بھی چھوڑ جاتا ہے۔ جب کوئی ایسا رفیق بچھڑ جائے جس کے ساتھ نہ صرف وقت بلکہ خواب، جدوجہد اور نظریہ بھی مشترک ہو، تو انسان کے اندر ایک مستقل ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے اور ایک مستقل “ٹراما” کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔یہ وہ دکھ ہے جو وقت کے ساتھ مدھم نہیں ہوتا بلکہ یادوں کی صورت میں دن میں کئی بار، خاموشی کے لمحوں میں، اور ہجوم کے بیچ بھی بار بار لوٹ کر آتا ہے۔

مستونگ، بلوچستان کا وہ شہر ہے جو بلوچ نیشنلزم کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہی وہ سرزمین ہے جسے نیشنل عوامی پارٹی سے لے کر بی ایس او تک، نظریاتی سیاست کا گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہ خطہ اپنی فکری زرخیزی کے حوالے سے جانا جاتا ہے، بلوچ کے سرکیل رہنماوں عبدالعزیز کرد اور ملک دہوار جیسے نام اسی روایت کے امین رہے ہیں۔ انہی روایات کے تسلسل میں ہم عصر ساتھیوں کے ساتھ ہم نے بھی طالب علمی کے دور میں تنگدستی، مشکلات اور جدوجہد کے کٹھن مراحل ایک ساتھ طے کیے۔ اسی سرزمین نے شہید ملک زبیر بلوچ جیسے باشعور اور توانا آواز کو جنم دیا، ایک ایسا نوجوان جو اپنے عہد کی نمائندگی کرتا تھا، اور جس نے گزشتہ سال اپنے خاندان کی کفالت اور بچوں کے مستقبل کے لیے دالبندین میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دیتے ہوئے لوگوں کی خدمت کا راستہ اختیار کیا۔

کلی شیخان، ضلع مستونگ میں آنکھ کھولنے والا زبیر بلوچ میرے لیے محض ایک دوست نہیں بلکہ ایک فکری ساتھی تھا، ایسا ساتھی جو ہمیشہ جھک کر ملنے، عاجزی اختیار کرنے، اور اپنے ہم عصروں کے ساتھ احترام سے پیش آنے میں اپنی پہچان رکھتا تھا۔ اس نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے کے نجی ادارے “اسٹار اسکول” کلی شیخان مستونگ سے حاصل کی، جبکہ اس کے بڑے بھائی پروفیسر ڈاکٹر خلیل بلوچ، جو میرے لیے بھی بھائیوں جیسے عزیز ہیں، نے اس کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے اسے بی آر سی خضدار جیسے معروف تعلیمی ادارے میں داخل کروایا۔ اس سے قبل وہ کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں اپنے کزن، معروف ٹی وی آرٹسٹ ظفر معراج کی زیرِ تربیت بھی رہا، جہاں اس کی ابتدائی تربیت کے کچھ سال گزرے۔ طفر معراج کی تربیت اسکی زندگی کا ایک اور پہلو ہے۔ ظفر معراج کا نام میں نے بہت سُنا وہ ایک مشہور ٹی وی آٹسٹ ہیں اور انکے کئی ویڈیو کلپس دیکھیں معراج کا ایک مخصوص اندازِ بیاں ہے، میرا دلی خواہش ہیکہ ظفر کی مجلسوں کا حصہ ہوں جاو۔ سرسری ملاقات اُسوقت ہوا جب زبیر جان کی تعزیت پہ روزانہ بی ایم سئ کالونی جانا ہوا، ایک دن ڈاکٹر بیزن صاحب نے اُس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ ؛ ظفر معراج وہ ہے، وہ دکھنے میں بھی آرٹسٹ لگتے ہیں۔

میری زبیر جان سے شناسائی اس وقت ہوئی جب وہ انٹرمیڈیٹ کے بعد منڈی بہاؤالدین، پنجاب گیا اور وہاں سول ٹیکنالوجی میں داخلہ لیا۔ اس زمانے میں ہم بلوچ طلبہ کو، جو بلوچستان سے باہر زیرِ تعلیم تھے، قومی سیاست سے جوڑنے کی کوشش کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ زبیر بھی انہی دنوں وہاں طلبہ سیاست میں متحرک تھا۔ رابطہ ہوا، مکالمہ بڑھا، اور وہ فکری طور پر ہمارے ساتھ جڑ گیا۔ اس کے ساتھ میرا تعلق زیادہ گہرا ہوتا گیا۔

بولان میڈیکل کالج ڈاکٹرز کالونی میں اس کے بھائی کا گھر ہمارے لیے ہمیشہ کھلا رہتا تھا، جبکہ جناح روڈ کوئٹہ پر واقع اس کے ڈینٹل کلینک میں شام کے چند لمحے گزارنا آج بھی یادوں میں تازہ ہیں۔ اگرچہ وہ پنجاب میں زیرِ تعلیم تھا اور کوئٹہ میں اس کی موجودگی کم ہوتی تھی، مگر فکری اور نظریاتی تعلق ہمیشہ مضبوط رہا۔ جب بھی وہ کوئٹہ آتا، ہم رات گئے تک بیٹھ کر سیاست، سماج اور آدابِ جدوجہد پر گفتگو کرتے۔ یہ نشستیں محض گفتگو نہیں بلکہ فکری تربیت کا ایک عمل تھیں۔ ڈپلومہ مکمل کر کے جب وہ واپس کوئٹہ آیا تو اس کی عملی سیاست میں دلچسپی مزید بڑھ گئی۔ ہم چند قریبی ساتھی ہمیشہ ساتھ رہے، آغا دود شاہ، حمید بلوچ، عمران بلیدی، رسول بخش (قائد)، خان جان بادینی (بابو)، علی نواز مینگل (ٹکری)، جعفر بلوچ اور حق نواز جمالدینی۔ ہماری سنڈے نائٹس اکثر ایوانِ قلات کے سامنے ایک چھوٹے سے پلاٹ میں بریانی کے ساتھ گزرتیں، جہاں آدھی رات تک سیاسی و سماجی موضوعات پر گفتگو جاری رہتی۔ وہ محفلیں آج بھی دل کو بے چین کر دیتی ہیں۔

ہم تین دوست، میں، زبیر بلوچ، اور عمران بلیدی، ہمہ وقت ساتھ رہے۔ ہم نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا کہ سیاست ہی ہمارا راستہ اور مستقبل ہوگا، اور اسی لیے ایل ایل بی( LLB-Law) کرنے کا بھی ارادہ کیا۔ ہم نے یونیورسٹی لاء کالج کوئٹہ میں ٹیسٹ دیا مگر بعد میں میں نے کراچی یونیورسٹی کا رخ کیا، وہاں سکول آف لا میں داخلہ لیا، جبکہ عمران نے مزید دلچسپی ظاہر نہ کی۔ اس کے باوجود ہمارا سیاسی رشتہ برقرار رہا۔

بی ایس او میں بطور مرکزی انفارمیشن سیکریٹری میرے دور میں زبیر ہمیشہ میرے ساتھ رہا۔ اس کی تنظیمی صلاحیتوں اور سیاسی بصیرت کا مجھے بخوبی ادراک تھا۔ ہم نے ایک ساتھ مختلف دورے کیے، اور جب میں نومبر 2016 میں حب چوکی کے قومی کونسل سیشن میں چیئرمین منتخب ہوا تو زبیر بلوچ کو اپنی ٹیم کا حصہ بنایا۔ وہ میرے دور میں بی ایس او پچار کا صوبائی جوائنٹ سیکریٹری رہا۔ اس نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، اور ایک بااعتماد، متحرک اور نظریاتی کارکن کے طور پر سامنے آیا۔ جب میں چیئرمین شپ سے سبکدوش ہو رہا تھا، تو میں نے اسے ایک بہترین تنظیمی ساتھی کے طور پر پایا۔ بی ایم سی میں ہونے والے قومی کونسل سیشن کے دوران، تمام تر مشکلات اور اندرونی اختلافات کے باوجود، اس نے جس انداز میں کردار ادا کیا، وہ اس کی سیاسی پختگی کا مظہر تھا۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے اسے مستقبل کی قیادت کے طور پر دیکھا اور دوستوں نے مرکزی وائس چیئرمین کی ذمہ داریاں اس کے سپرد کیں۔

بعد ازاں، جب وہ خود قیادت کے منصب پر پہنچا، تو اس نے بی ایس او کی تنظیمی و فکری روایت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے مزید متحرک کیا۔ طلبہ مسائل پر اتحاد سازی، تعلیمی اداروں میں جدوجہد، اور ریاستی جبر کے خلاف سیاسی مزاحمت وہ ہر محاذ پر سرگرم رہا۔ کبھی سڑکوں پر گھسیٹا گیا، کبھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اس سے قبل بھی اسے جبری طور پر لاپتہ کیا جا چکا تھا، مگر وہ ہر بار پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آیا۔ رہائی کے بعد اسکے بھائی ڈاکٹر خلیل بلوچ اسے کراچی لیکر آئے ، ظاہر سی بات ہے اُن دنوں میں بی ایس او کا چئیرمین تھا اور وہ میرے کابینہ میں تھا، میں نے ڈاکٹر خلیل سے فون پہ بات کی کہ زبیر سے ملاقات کرائیں، لیکن نہ ہوسکا، میں اور ڈاکٹر خلیل کراچی صفورا گوٹھ میں ملے اُس نے کہا کہ زبیر بھی چاہ رہا تھا کہ وہ آپ سے ملاقات کرے مگر اسکی طبعیت ٹھیک نہیں اس وقت بھی وہ ظفر معراج کے گھر میں رہائس پزیر تھے، اسکی ملاقات میں نے ڈاکٹر سے اسکی رہائی کے بعد اسکی صحت اور حوصلے کے بارے میں پوچھا تو ڈاکٹر نے کہا” وہ بلکل ٹھیک ہیں اور پہلے سے زیادہ پرامید ہیں، جلد اپکے ساتھ ہوں گا”۔

عملی زندگی میں داخل ہونے کے بعد اس نے وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ شادی ہوئی، ایک بیٹا بھی ہوا، مگر زندگی کی تلخیاں اس کے چہرے پر عیاں ہونے لگی تھیں۔ ہماری آخری ملاقات کوئٹہ کچہری میں ہوئی، جہاں ہم نے ایک چائے ساتھ پی، وہی چائے اب ایک یادگار بن چکی ہے، آخری تصویر بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ بعد میں ایک دن وہ مجھے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ملا۔ وہ پہلے سے کہیں زیادہ کمزور اور نحیف دکھائی دے رہا تھا۔ میں نے کچھ کہا تو نہیں، مگر دل ہی دل میں محسوس کیا کہ میرا دوست اندر سے ٹوٹ چکا ہے۔ جیسے کسی ان دیکھے غم کا بوجھ اٹھائے پھر رہا ہو۔ اس نے آہستہ سے کہا: جسیا کہ اسکا ایک مخصوص انداز تھا، پھر ایک قہقہ لگا ہاتھ ملانا “چئیرمین، آج کل ( دال جان) دالبندین میں پریکٹس کر رہا ہوں۔ وہاں ایک رہائشی کوارٹر بھی لے رکھا ہے۔ آپ بھی آ جائیں، یہاں کام بھی ہے ،کیسز بھی ہیں۔” میں نے جواب دیا: “ٹھیک ہے، اس پر سوچتا ہوں۔” وہ مسکرایا، مگر اس مسکراہٹ میں درد چھپا ہوا تھا۔ اس نے پھر کہا: “سوچیں مت، بس آ جائیں۔ میرا دروازہ آپ کے لیے ہمیشہ کھلا ہے۔” مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہوگی

پھر ایک دن خبر آئی، دالبندین میں ایک مبینہ مقابلے میں اسے شہید کر دیا گیا۔ اس خبر نے نہ صرف دل توڑا بلکہ کئی سوالات بھی جنم دیے۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ یہ تھا کہ اس کے اپنے ساتھیوں میں سے کچھ نے اس سے فاصلہ اختیار کیا، یا اسے مکمل طور پر اپنانے سے گریز کیا۔ میرے لیے یہ رویہ محض ایک فرد کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ نظریاتی سیاست کے زوال کی علامت ہے۔ اگر زندگی رہی تو،اس پہ مزید پھر کھبی لکھوں گا۔

اگر اس عہد میں سچ بولنا، جبر کے خلاف کھڑا ہونا، اور اپنے لوگوں کے ساتھ وابستگی رکھنا جرم بن چکا ہے، تو پھر ہمیں اپنی سیاست پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔ اگر ایک سیاسی کارکن کی قربانی پر بھی مصلحت حاوی ہو جائے، تو یہ صرف خاموشی نہیں بلکہ ایک اجتماعی شکست ہے۔ زبیر جان میرے لیے محض ایک نام نہیں، بلکہ ایک عہد، ایک فکر، اور ایک جدوجہد کا استعارہ ہے۔ اس کی زندگی اور اس کی شہادت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ نظریاتی راستے پر چلنا آسان نہیں، مگر یہی وہ راستہ ہے جو تاریخ میں زندہ رہتا ہے۔ وہ ہم میں سے تھا،اور ہمیشہ رہے گا۔ مجھے اس بات پہ کوئی پشیمانی نہیں کہ وہ میرا ساتھی رہا۔

آج جب میں زبیر بلوچ کی زندگی اور اس کی المناک جدائی کو دیکھتا ہوں تو صرف ایک ذاتی غم نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی اور فکری بحران کو محسوس کرتا ہوں۔ اس کی شہادت کے بعد اپنے ہی تنظیمی ساتھیوں کا اس سے فاصلہ اختیار کرنا، یا اسے مکمل طور پر اپنانے سے گریز کرنا، کئی تلخ سوالات کو جنم دیتا ہے۔

اگر اس عہد میں سچ بولنا، جبر کے خلاف کھڑا ہونا، اور اپنے لوگوں کے ساتھ وابستگی رکھنا ایک جرم بن چکا ہے، اور اس کی سزا خاموش کر دینا ہے، تو پھر ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ اس دور میں نظریاتی سیاست کی گنجائش محدود کر دی گئی ہے۔ ایسے حالات میں اگر کوئی سیاسی کارکن اپنے ہی ساتھی کی قربانی پر خاموش رہے یا مصلحت کا شکار ہو جائے، تو یہ محض ایک فرد کی کمزوری نہیں بلکہ پوری سیاست کے زوال کی علامت ہے۔

میرے نزدیک، زبیر بلوچ کی زندگی اور اس کی قربانی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم واقعی اس نظریاتی راستے پر قائم ہیں جس کا دعویٰ کرتے ہیں، یا ہم نے بھی لاشعوری طور پر مصلحت اور خاموشی کو اپنا لیا ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں کچھ آوازوں، خصوصاً بی این ایم کی جانب سے اسکی جدوجہد کی اعتراف کرنا میرے لئے اسکی زندگی کا ایک نیا پہلو ہے جس نے زبیر کی زندگی کے ایک اور پہلو کو میرے سامنے واضح کیا۔ مگر اس سب کے باوجود، میرے لیے زبیر بلوچ وہی رہے گا، جس کیساتھ ہم نے اکھٹا سیاست کی اوہ ایک مخلص، درویش صفت، اور ثابت قدم فکری ساتھی، جس کی جدوجہد اور یاد ہمیشہ میرے ساتھ رہے گی


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔