بلوچستان: دو افراد کی جبری گمشدگی کے بعد قتل، بی وائی سی کی مذمت

4

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ ذوالفقار ولد مسافر، جو گشتگان کا رہائشی اور پیشے کے اعتبار سے چرواہا تھا، کو 21 فروری 2026 کو نِہنگ زامران سے حراست میں لیا گیا۔ انہیں بغیر کسی قانونی وارنٹ یا وضاحت کے لاپتہ کیا گیا۔ اہلخانہ نے دو ماہ تک ان کی تلاش جاری رکھی مگر ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ بعد ازاں 16 اپریل 2026 کو ان کی لاش پروم کے علاقے سے برآمد ہوئی، جسے ایک مبینہ مقابلے کا نتیجہ قرار دیا گیا۔

اسی طرح، 38 سالہ شہرام ولد بہران، جو پیشے کے اعتبار سے چرواہا اور گشتگان کا رہائشی تھا، کو بھی 21 فروری 2026 کو نِہنگ زامران سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ ان کے اہلخانہ کئی ہفتوں تک لاعلمی اور کرب میں مبتلا رہے۔ تقریباً دو ماہ بعد ان کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی، جسے بھی ایک مبینہ مقابلے کا رنگ دیا گیا۔ بی وائی سی کے مطابق، ایسے بیانیے اکثر غیر قانونی قتل اور حراستی تشدد کو چھپانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

بی وائی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں افراد عام شہری تھے اور کسی مسلح سرگرمی میں ملوث نہیں تھے۔ ان واقعات کو بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے تسلسل کا حصہ قرار دیا گیا ہے، جہاں افراد کو لاپتہ کرنے کے بعد خاموشی اختیار کی جاتی ہے اور اکثر بعد میں ان کی لاشیں برآمد ہوتی ہیں۔

تنظیم کے مطابق، ان حالات میں متاثرہ خاندان طویل عرصے تک ذہنی اذیت کا شکار رہتے ہیں اور انصاف کی تلاش غیر یقینی بن جاتی ہے۔ بلوچستان میں خوف کی فضا قائم ہے جہاں لوگ بلا جواب دہی اٹھائے جاتے ہیں اور آواز اٹھانے والوں کو مزید خطرات کا سامنا ہوتا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا نوٹس لیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔