سی آئی اے ایران میں بغاوت بھڑکانے کے لیے کرد فورسز کو اسلحہ فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے۔ امریکی جریدے

44

امریکی جریدے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ متعدد باخبر ذرائع نے سی این این کو بتایا ہے امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے ایران میں عوامی بغاوت کو ہوا دینے کے مقصد سے کرد فورسز کو اسلحہ فراہم کرنے پر کام کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایرانی اپوزیشن گروہوں اور عراق میں کرد رہنماؤں کے ساتھ سرگرم مذاکرات کررہی ہے تاکہ انہیں فوجی معاونت فراہم کی جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی کرد مسلح گروہوں کے پاس ہزاروں جنگجو موجود ہیں جو عراق ایران سرحد کے ساتھ، بالخصوص عراق کے کردستان ریجن میں سرگرم ہیں۔ جنگ کے آغاز کے بعد سے ان میں سے کئی گروہوں نے عوامی بیانات جاری کیے ہیں جن میں فوری کارروائی کے اشارے دیے گئے اور ایرانی فوجی اہلکاروں سے بغاوت کی اپیل کی گئی۔

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور “آئی آر جی سی” نے کرد گروہوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور منگل کے روز اعلان کیا کہ اس نے درجنوں ڈرون حملوں کے ذریعے کرد فورسز کو نشانہ بنایا ہے۔

اسی روز ایک سینئر ایرانی کرد عہدیدار کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی آف ایرانی کردستان “کے ڈی پی آئی” کے صدر مصطفیٰ حجری سے گفتگو کی کے ڈی پی آئی ان گروہوں میں شامل ہے جنہیں ایرانی انقلابی کارڈ نے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

سینئر ایرانی کرد عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ آنے والے دنوں میں ایرانی کرد اپوزیشن فورسز مغربی ایران میں زمینی کارروائی میں حصہ لینے کی توقع رکھتی ہیں، ہمیں یقین ہے کہ اس وقت ہمارے پاس ایک بڑا موقع موجود ہے اور مزید بتایا کہ ملیشیاؤں کو امریکا اور اسرائیل کی حمایت کی امید ہے۔

سی این این کے مطابق اتوار کے روز بھی صدر ٹرمپ نے عراقی کرد رہنماؤں سے رابطہ کیا تاکہ ایران میں امریکی فوجی آپریشن اور مستقبل میں امریکا اور کردوں کے باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا جا سکے دو امریکی حکام اور ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ اس گفتگو کی خبر سب سے پہلے امریکی نیوز ویب سائٹ ایکس وائز نے دی تھی۔

ایرانی کرد گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے لیے ضروری ہوگا کہ عراقی کرد قیادت اسلحے کی ترسیل کی اجازت دے اور عراقی کردستان کو کارروائی کے لیے لانچنگ گراؤنڈ کے طور پر استعمال ہونے دے۔

گفتگو سے واقف ایک ذرائع نے بتایا کہ منصوبہ یہ ہے کہ کرد مسلح فورسز ایرانی سیکیورٹی فورسز کو مصروف رکھیں تاکہ بڑے شہروں میں غیر مسلح ایرانی شہری بغیر کسی بڑے جانی نقصان کے سڑکوں پر نکل سکیں، جیسا کہ جنوری کی بدامنی کے دوران ہوا تھا۔

ایک اور امریکی عہدیدار نے کہا کہ کرد فورسز خطے میں افراتفری پھیلانے اور ایرانی حکومت کے فوجی وسائل کو دباؤ میں لانے میں مدد دے سکتی ہیں، بعض تجاویز میں یہ خیال بھی شامل ہے کہ کرد فورسز شمالی ایران میں علاقہ اپنے کنٹرول میں لے کر اسرائیل کے لیے ایک بفر زون قائم کر سکتی ہیں۔

تاہم سی این این کے مطابق امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

سی این این کے قومی سلامتی کے تجزیہ کار اور سابق سینئر پینٹاگون عہدیدار الیکس پلیٹسس نے کہا کہ امریکا کردوں کو اسلحہ دے کر ایرانی حکومت کے خلاف بغاوت کے عمل کو واضح طور پر تیز کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

انہوں نے کہا ایرانی عوام مجموعی طور پر غیر مسلح ہیں اور جب تک سیکیورٹی ادارے ٹوٹ نہ جائیں، ان کے لیے اقتدار سنبھالنا مشکل ہے جب تک کوئی انہیں اسلحہ فراہم نہ کرے، میرا خیال ہے کہ امریکا کو امید ہے کہ اس اقدام سے ایران کے اندر دیگر عناصر بھی متحرک ہوں گے۔

سابق امریکی محکمہ خارجہ کی سینئر عہدیدار جین گاویٹو نے خدشہ ظاہر کیا کہ کردوں کو اسلحہ دینے کے نتائج پر مکمل غور نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا ہم پہلے ہی سرحد کے دونوں جانب ایک غیر مستحکم سیکیورٹی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، یہ اقدام عراقی خودمختاری کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایسے مسلح گروہوں کو طاقت دے سکتا ہے جن کا کوئی واضح احتساب موجود نہیں۔

حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوج نے عراق کی سرحد کے قریب ایرانی فوجی اور پولیس چوکیوں پر حملے کیے ہیں تاکہ شمال مغربی ایران میں ممکنہ طور پر کرد فورسز کی آمد کے لیے راستہ ہموار کیا جا سکے، ایک اسرائیلی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں آئندہ دنوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق ایرانی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے کسی بھی کرد زمینی فورس کو امریکی اور اسرائیلی حمایت وسیع پیمانے پر درکار ہوگی امریکی انٹیلیجنس جائزوں کے مطابق اس وقت ایرانی کردوں کے پاس اتنے وسائل یا اثر و رسوخ موجود نہیں کہ وہ کامیاب بغاوت کو یقینی بنا سکیں۔

اس کے علاوہ، ایرانی کرد سیاسی جماعتیں کسی بھی مزاحمتی کوشش میں شامل ہونے سے قبل ٹرمپ انتظامیہ سے سیاسی ضمانتیں چاہتی ہیں۔

امریکی خبررساں ادارے کے مطابق کرد اپوزیشن گروہ آپس میں منقسم ہیں ان کے نظریات مختلف ہیں اور ماضی میں باہمی کشیدگی رہی ہے، ٹرمپ انتظامیہ کے بعض عہدیداروں کو ان گروہوں کے عزائم پر بھی تحفظات ہیں۔

ایک عہدیدار نے کہا یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں کہ امریکا کسی پراکسی فورس کو اپنی جانب سے لڑنے پر آمادہ کر لے، ہر گروہ اپنے مفادات کو دیکھ رہا ہے سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعاون ان کے مفاد میں بھی ہے یا نہیں۔

کرد ایک نسلی اقلیت ہیں جن کی کوئی باضابطہ ریاست موجود نہیں، اندازاً 2 کروڑ 50 لاکھ سے 3 کروڑ کرد ترکی، عراق، ایران، شام اور آرمینیا کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں اکثریت سنی مسلمان ہے، تاہم ان کی ثقافتی، سماجی اور سیاسی روایات متنوع ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے کئی عہدیداروں نے ماضی میں اس مایوسی کی نشاندہی کی ہے جو کرد فورسز کو امریکا کے ساتھ تعاون کے بعد محسوس ہوئی اور ان کی یہ شکایت رہی ہے کہ امریکا نے انہیں مشکل وقت میں تنہا چھوڑ دیا۔

پلیٹسس نے کہا اگر بغاوت ناکام ہوئی اور امریکا پیچھے ہٹ گیا تو اس سے کردوں کو چھوڑ دیے جانے کا بیانیہ مزید مضبوط ہوگا۔

ٹرمپ کے سابق وزیر دفاع جم میٹس نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں شام سے امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے پر استعفیٰ دیا تھا، کیونکہ وہ اسے امریکی کرد اتحادیوں سے غداری سمجھتے تھے۔

سی آئی اے کی عراقی کرد دھڑوں کے ساتھ دہائیوں پر محیط پیچیدہ تاریخ رہی ہے، جو عراق جنگ کے دوران مزید مضبوط ہوئی۔

ذرائع کے مطابق ایجنسی کا ایرانی سرحد کے قریب عراقی کردستان میں ایک آؤٹ پوسٹ بھی موجود ہے امریکا کا اربیل میں قونصل خانہ بھی ہے، اور داعش مخالف مہم کے تحت امریکی و اتحادی افواج وہاں تعینات ہیں۔

ماضی میں بعض کردوں کو امید تھی کہ امریکا کے ساتھ تعاون کے بدلے عراقی کردستان کو آزادی ملے گی، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔

حالیہ برسوں میں بھی امریکا نے عراق اور شام میں داعش کے خلاف کارروائیوں کے دوران کرد فورسز پر انحصار کیا، جن میں ہزاروں داعش قیدیوں کی نگرانی بھی شامل تھی۔

تاہم رواں سال کے آغاز میں امریکا کے اتحادی شامی حکومت نے شمالی شام میں فوجی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں کرد فورسز کو علاقے خالی کرنا پڑے اور انہوں نے داعش جیلوں کی نگرانی بھی چھوڑ دی، جنوری میں شام کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹام بیراک نے کہا تھا کہ کرد فورسز کے ساتھ امریکا کا اتحاد اب زیادہ تر ختم ہو چکا ہے۔

یے رپورٹ سب سے پہلے امریکی جریدے سی این این پر انگریزی میں شائع کیا تھا جسے دی بلوچستان پوسٹ اپنے کارئین کے لئے اردو میں پیش کررہا ہے۔