کراچی: سی ٹی ڈی تحویل میں قتل ہونے والے بلوچ نوجوان کا جنازہ، پولیس کی بھاری نفری تعینات

60

نوجوان کی حراستی قتل کے بعد جنازے پر بھی ریاستی دباؤ، بلوچ تنظیموں کی مذمت۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے جعلی مقابلے میں قتل ہونے والے بلوچ نوجوان حمدان بلوچ کی نمازِ جنازہ کے موقع پر کراچی پولیس اور سی ٹی ڈی کی بھاری نفری کی تعیناتی اور مداخلت سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

کراچی میں گذشتہ دنوں سی ٹی ڈی کے جعلی مقابلے میں حمدان بلوچ کے قتل کے بعد پولیس نے لاش تحویل میں لے رکھی تھی، عدالتی حکم کے بعد لواحقین نے لاش وصول کی، جس کا آج نمازِ جنازہ ہونا تھا۔

تاہم پولیس اور سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر جنازے میں شرکت کے لیے آنے والوں کو ہراساں کیا۔

فورسز حکام کو خدشہ تھا کہ شہری لاش رکھ کر احتجاج کر سکتے ہیں، جس کے باعث نمازِ جنازہ کو بار بار روکنے اور تاخیر کا شکار بنانے کی کوشش کی گئی۔

یاد رہے کہ حمدان بلوچ کو 17 فروری 2026 کو شاہ لطیف ٹاؤن کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں اس وقت قتل کیا گیا جب وہ سی ٹی ڈی کی تحویل میں تھے اور دو روز بعد عدالت میں پیش ہونا تھا۔

حمدان بلوچ کے والد محمد علی نے اپنے بیٹے کے حراستی قتل کے خلاف باضابطہ طور پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر کراچی زون، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اسلام آباد، اور نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) میں درخواستیں جمع کرادی ہیں۔

لواحقین کے مطابق حمدان بلوچ کو دیگر تین بلوچ نوجوانوں کے ساتھ جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا, بعد ازاں جب اہلِ خانہ نے احتجاج کیا تو پولیس نے لاشیں دینے سے انکار کر دیا اور کہا گیا کہ مقتولین کو دہشت گرد تسلیم کیا جائے، تب ہی لاشیں حوالے کی جائیں گی۔

دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بیان میں کہا ہے کہ آج 25 فروری 2026 کو دوپہر دو بجے، 8 چوک لیاری میں شہید حمدان بلوچ کی نمازِ جنازہ کے موقع پر ریاستی جبر کے نئے ہتھکنڈے ایک بار پھر سامنے آئے، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار سادہ لباس میں جنازے کے اطراف موجود رہے اور شرکاء کی پروفائلنگ کے ساتھ خوف و ہراس کی فضا قائم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ عین وقت پر لواحقین کو نمازِ جنازہ کے مقام کی تبدیلی کے لیے دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، سوگ کے اس عالم میں بھی نگرانی اور دھمکیوں کا سایہ مسلط رکھا گیا، جو نہ صرف ایک خاندان بلکہ پوری قوم کے دکھ کی عکاسی کرتا ہے۔

تنظیم کے مطابق جنازہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسانیت سیاست سے بالاتر ہو جاتی ہے مگر یہاں ایک بے جان لاش سے بھی خوف محسوس کیا گیا یہ رویہ طاقت نہیں بلکہ کمزوری کی علامت ہے۔

بیان کے اختتام پر تنظیم کی جانب سے کہا گیا کہ شہید حمدان بلوچ کا جنازہ محض تدفین نہیں بلکہ صبر، مزاحمت اور سچ کی علامت بن گیا، اور عوام کی خاموش موجودگی اس بات کی گواہی ہے کہ ظلم وقتی ہو سکتا ہے مگر انصاف کی طلب ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔