ایمنسٹی انٹرنیشنل کا افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں سے شہری ہلاکتوں کی اطلاعات پر آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ

25

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں 21 اور 22 فروری کو پاکستان کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل، خودمختار اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں اور ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، یہ پہلا موقع نہیں کہ سرحدی کشیدگی کے دوران شہری آبادی متاثر ہوئی ہو۔ اس سے قبل افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) نے اکتوبر سے دسمبر 2025 کے درمیان پاکستان کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 70 شہریوں کی ہلاکت اور 478 کے زخمی ہونے کی ذمہ داری پاکستان کی فوجی افواج پر عائد کی تھی۔ یہ واقعات اس وقت پیش آئے جب افغانستان کی طالبان فورسز اور پاکستان کی فوج کے درمیان سرحدی جھڑپوں اور کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔

تنظیم نے مسلح تصادم میں شامل تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں اور شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کا تحفظ کسی بھی مسلح تنازع میں اولین ترجیح ہونی چاہیے اور کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی کی شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ متاثرین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔