آپریشن ھیروف: میں نے تاریخ بنتے دیکھا – سمیرا بلوچ

42

آپریشن ھیروف: میں نے تاریخ بنتے دیکھا

تحریر: سمیرا بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

دلیری، بہادری اور وطن سے عشق کرنا تو کوئی بلوچ سے سیکھے۔ بلوچ تاریخ کو جو بلوچ نوجوان لڑکیاں، لڑکوں کے ساتھ بلوچ بزرگ اپنے خون سے سینچ رہے ہیں، ایسی مثالیں شاید ہی تاریخ کے صفوں میں کسی قوم کی ملے۔ ماں اور بیٹے کا میدان جنگ میں ساتھ میں لڑنا، بیوی اور شوہر کا، دو بھایئوں کا ساتھ میں وطن کے لیے خود کو قربان کرنا اور خود ایک ماں کا اپنی بیٹی کو خوشی کے ساتھ وطن پر قربان ہونے کے لیے رخصت کرنا، نایاب تاریخ بلوچ رقم کر رہے ہیں!

کاش میری قلم میں اتنی طاقت ہوتی کہ میں ہر اس بلوچ سپاہی کی بائیو گرافی لکھتی جو ایسی بہادری سے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے بلوچ قوم کے ہر فرد کو اپنا قرض دار بنا چکے ہیں ۔ میں سوچتی ہوں جب بلوچستان ایک آزاد اور خود مختار قوم کی صورت میں دنیا کے نقشے میں ابھرے گی ۔ وہ انہی سپاہوں کی بدولت ہوگی، تب ہم بلوچ قوم ان عظیم قربانیوں دینے والوں کو اپنے بیچ میں کیسے زندہ رکھیں گے؟ اپنے نصاب کی کتابوں میں ان کے کرداروں کا ذکر کرکے، چوراہوں اور چورنگیوں پر ان کے ناموں اور تصاویر کی تختیاں آویزاں کرکے، ان پر غزلیں لکھ کر، ہم جتنا بھی کر لیں، ہم اور ہماری آنے والی ہر نسل ان بہادروں کی مقروض ہی رہے گی۔

ھیروف دوم کی کامیاب جنگی حکمت عملی نے تجزیہ نگاروں اور تبصرہ نگاروں کو بلوچستان کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے اور پرکھنے کے لیے مجبور کر دیا، وہی ھیروف دوم انٹرنشینل خبروں کا بھی مرکز بنا رہا ، جس سے بلوچ کاز کو پزیرائی بھی خوب ملی ۔ جو بلوچ کے حق میں بہتر ثابت ہوا لیکن اب بلوچ کو اپنی طاقت میں مزید اضافے کی ضرورت ہے، بیشک دوبدو کی لڑائی میں ریاست پاکستان کے دفاعی تمام ادارے ناکام ہوچکے تھے ، ریاست پاکستان کی بڑی ناکامی اس کی انٹیلجس کی ناکامی تھی کہ بی ایل اے ( بلوچ لبریش آرمی ) کے کئی مہینوں پہلے اعلان کرنے کے باوجود وہ اس حملے کو روکنے میں ناکام ہوا اور جن اضلاع میں حملے ہوئے وہاں حکومتی کوئی رٹ موجود نہیں تھی ، وہ سارے علاقے مکمل طور بلوچ سرمچاروں کے کنٹرول میں تھیں لیکن اب بلوچ کو مزید مضبوط ہونا ہوگا، ان کے پاس دفاع کے لیے فضائی شکن جیسے ہتھیار ہونے چاہیے جو ہیلی، جیٹ اور ڈرون کو گرا سکیں۔

ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم نرگسیت کے نرغے میں نہ آئیں، ہم کو اس سچائی کو بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ اس حملے میں ہمارا بھی بہت سا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے، ہمیں ان کا بھی ازالہ کرنا ہے۔ اس جنگ کے دوران جو سرمچار شہید ہوئے وہ تو شہید ہونے کے لیے ہی نکلے تھے لیکن کہیں سرمچار اس دوران شدید زخمی بھی ہوئے ہوں گے، ان کو بروقت علاج شاید نہ ملا ہو، اور کہیں شاید معزور ہوچکے ہونگے جو شاید پھر جنگ کرنے کے قابل نہیں رہے ہوں گے تو ہمیں ان کا بھی سوچنا ہے، ان کا بھی خیال رکھنا ہوگا ۔

پاکستان نے اس ساری لڑائی کو میدان کی بجائے سوشل میڈیا پر جیتنے کی کوشش کی، جیت اور ہار کا مرکز میدان سے زیادہ سوشل میڈیا تھا۔ بدقسمتی سے بلوچ سوشل ایکٹوسس کے اکاؤنٹس کو رپورٹ کرکے سسپنڈ کردیا جاتا تھا تاکہ بلوچ کی آواز دنیا تک نہ پہنچ سکے۔ اب دوستوں کو اس پر بہت کام کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنا ایک ایسا میڈیا سیل یا ایسا کوئی گروپ جس میں ایکٹیو دوست ہوں جو بیک وقت میں سوشل میڈیا پر بیٹھے “جھوٹے بلوچی اکاؤنٹس” کو رپورٹ کرکے ختم کر سکیں، بلوچ ایکٹوسٹس کے اکاؤنٹس کو ماس رپورٹ کی صورت میں دفاع کرکے سسپنڈ ہونے روک سکیں۔

ہمیں گراؤنڈ کو سیاسی طور پر خالی نہیں چھوڑنی چاہیے ، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی عدم موجودگی میں بی وائی سی کو لازمی ایسی ہی کوئی نعم البدل تیار رکھنی چاہیے تھی کہ جب تک ڈاکٹر صاحبہ کو جیل میں رکھی جائے گی تب تک ان کی عدم موجودگی میں جبری گمشدگیوں اور سیاسی اسیران کے لیے کوئی موثر آواز کا ہونا لازمی ہے، ڈاکٹر صبیحہ بلوچ ، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہترین سیاسی وارث ہے لیکن انہیں انڈر گراؤنڈ ہونا پڑا، اگر وہ نہیں تو کوئی اور تو ہونا یا ہونی تو چاہیے ۔ سیاسی طور پر ہماری بات کو دنیا ماننے سے انکار نہیں کرسکے گی کیونکہ گراؤنڈ پر سیاسی ایکٹیویٹی نہ ہونے کی وجہ سے ہم پھر سے انٹرنیشنل لیول پر نظر انداز کیے جارہے ہیں ۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔