عید اور بلوچ قوم
تحریر: سُلطانہ بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
آج دنیا میں جو خود مختار اقوام آباد ہیں وہ اپنے مذاہب اور رسم و رواج کے مطابق مذہبی اور ثقافتی تہواروں کو مناتے ہیں. ان تہواروں کو مناتے دوران وہ نہ صرف اپنی زندگی کے مسرتوں کو بڑھاتے ہیں بلکہ روئے زمین پر اپنی جداگانہ شناخت پر نازاں ہو کر وہ دنیا کو دکھاتے ہیں کہ مذہبی اور ثقافتی تہواریں دراصل ترقی کے منازل طے کرتے بنی نوع انسان کے راہ میں رکاوٹ اور مشکلات پیدا کرنے کا سبب نہیں بلکہ ارتقائی مراحل سے گزرتی انسانیت کے لیے مسرتوں، رواداری اور قربانی کے جذبے کو تازہ کرتے ہوئے جینے کا ہنر ہی زندگی ہے۔
آج عید کا دن ہے مسرتوں سے لبریز زندگی جینے کا دن ہے بلوچ بھی اقوام دیگر کے ساتھ اس مذہبی تہوار کو مسرت اور خوشی سے جینے کا حق رکھتا ہے مگر بلوچ کی بات کی جائے تو یہ روز نہ صرف خوشیوں سے تہی دامن اور بے رنگ پھیکی پڑ جاتی ہے بلکہ یہ روزِ تہوار دیگر ایام زندگی کی بنسبت اور زیادہ مشکل دردناک اور غم کا سیاہ لباس اوڑھے ہوئے آتی ہے۔
عید کا دن خوشیوں بھری پُرمسرت اور شادمانیوں سے بھرپُور ان قوموں کے لئے ہے جو آزاد اور خودمختار ہیں وہ جو ظلم اور جبر کو برملا ظلم اور جبر کہہ سکتے ہیں۔ جو زخموں سے چور سسکتی تڑپتی وجود پر خوشیوں کا مرہم رکھ سکتے ہیں جو استبداد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ببانگ دل کہہ سکتے ہیں کہ ظلمت کو پھیلانے اور اندھیر مچانے کی جس راستے پر جا رہے ہو وہ انسانیت کے خلاف اور خوشیوں کا گلا گھونٹنے کا راستہ ہے. یہ روز مسرت ان اقوام کے لیے ہیں جو دستور و آئین انسانوں میں تفریق کے لیے نہیں بلکہ برابری کے لیے نافذ کرتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔
بلوچ اور بلوچ سرزمین کی بات کی جائے تو بلوچ کئی دہائیوں سے اس دن کو شادمانیوں میں نہیں بلکہ ظلم کے تاریکیوں سے نکلنے کے جدوجہد میں سہمے ہوئے گزار رہی ہے اور خاموشی کے ساتھ سڑکوں پر اپنے پیاروں کی تصویروں کو سینوں سے لگائے خاموش احتجاجوں میں گزار رہی ہے بلوچ ہر عید پر کئی سالوں سے گمشدہ پیاروں کی تصاویر اور نئے لاپتہ افراد کی تصاویر کے اضافے کے ساتھ نعرہ زن اور مزاحمت کرتے نظر آتے ہیں۔
عید خوشیوں کا نام ہے شادمانیوں کا پیغام لے کے آتا ہے ۔ گھروں کو سجانے سنوارنے کے بعد مہمانوں کی خاطر تواضع کے لئے نئے نئے پکوان بنانے کے انھیں خوش آمدید کہہ کر ان سے گلے مل کر شفقت اور پیار سے عیدی وصول کرنے کا نام ہے ایسی عید وہ اقوام مناتے ہیں جو آزاد اور خودمختار ہوتے ہیں جس سر زمین پر کئی صدیوں سے ظلم و بربریت دور دورہ ہو جہاں ماؤں کے لال لاپتہ ہوتے ہوں جہاں بہنوں کی دل کے ٹکڑے ٹارچر سیلوں میں اذیتیں سہہ رہے ہوں جہاں بھائیوں کی لاڈلی بہنیں جبری لاپتہ کر دیئے گئے ہوں وہاں یہ دن درد بھری ہوئی ہوتی ہے۔
بلوچ سماج میں ایسے سینکڑوں المناک واقعات ہیں کہ جن ماؤں کے لخت جگر کئی سالوں ، جبری گمشدگی کا شکار ہیں ان ماؤں کی عمریں انتظار میں گزر گئیں وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن اس استبدادی بے رحم نظام نے ان کے بچوں کو انھیں واپس نہیں لوٹایا۔ بلوچ سرزمین پر ایسے مائیں بھی دیکھیں جو اپنے بیٹوں کے لئے نئے کپڑے نئے جوتے لے کے رکھتی رہیں کہ اس عید پر میرا بیٹا آئے گا لیکن انتظار اتنی طویل کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں لیکن بیٹا نہیں آیا۔ کتنی دلہنیں اس انتظار میں اپنے بال سفید کر چکیں کہ وہ آۓ گا اور میں اسی کے نام کا جوڑا پہن لوں گی اور اسی کے نام کی مہندی لگا لوں گیں۔ کئی بہنیں اس آس پر بیٹھی رہی جب میرا بھائی آئے گا تو میں بھائی کے ہاتھوں گھر سے بیاہ ہو کر نکلوں گیں لیکن کئی خواب تھے جن کو تعبیر نہیں ہونا بلکہ ٹوٹ کر بکھرنا تھا کئی آس تھے جنھیں پوری نہیں ہونی تھی کئی امید کی کرنیں تھیں جن کی قسمت میں بجھنا تھا۔
بلوچ سرزمین پر ہر گھر میں عید آج اس طرح گزری۔ کیا بلوچ ان آنسؤوں کو بھولے گا؟ بلوچ ان لحموں کو اپنے یاداشت سے مٹا پائے گا؟
بلوچوں پر ظلم ڈھانے والے اور ان کی زندگیوں کو تاریکیوں کی نظر کرنے والے شاید یہ بھول چکے ہیں کہ رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو فاتح صبحِ حق کی ہوتی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































