بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج بروز اتوار 6147ویں روز میں داخل ہوگیا، جو جاری انسانی و آئینی بحران کی مسلسل علامت بن چکا ہے۔
وی بی ایم پی کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد نے اپنے بیان میں کہا کہ جبری گمشدگیاں نہ صرف پاکستان کے آئین کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے بھی منافی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی شہری کو بغیر قانونی کارروائی کے حراست میں رکھنا، اہل خانہ کو لاعلمی میں مبتلا رکھنا اور عدالتوں تک رسائی سے محروم کرنا قانون کی حکمرانی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کر کے عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ انہیں شفاف ٹرائل کا حق مل سکے۔ اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اسے آئین و قانون کے مطابق ثابت کیا جائے، نہ کہ ماورائے عدالت اقدامات کے ذریعے انصاف کے تقاضوں کو نظرانداز کیا جائے۔
نیاز محمد نے کہا کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ برسوں سے کرب اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جہاں مائیں اپنے بیٹوں کی واپسی کی منتظر ہیں جبکہ اہل خانہ انصاف کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق ریاستی سطح پر خاموشی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، ذمہ داران کا تعین کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور اس مسئلے کو آئینی و بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں کے مطابق مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔

















































