شال مزاحمت ہے – حاجی حیدر

190

شال مزاحمت ہے

تحریر: حاجی حیدر

دی بلوچستان پوسٹ

شال نے جب بھی مجھے آواز دی میں اس کے پاس دوڑا چلا آیا، مجھے اس خرابے سے عشق ہے۔ اس کی مٹی کی خوشبو سے مجھے اپنے ہونے کا یقین ملتا ہے۔ وادی شال کے سینے میں ان گنت راز ہیں۔ پتہ نہیں میرے تہذیب کو کس کی نظر کھا گئی۔

شال بلوچ مزاحمت کا ہمیشہ مسکن رہا ہے، اس شہر نے colonialism کے مختلف اطوار میں استعماریت کیخلاف مزاحمت کیلئے اپنے آپکو پیش کیا ہے، آخر کیوں پیش نہ کرے، یہاں میرا وجود بستا ہے. اس شہر میں گم شدہ لوگ بولتے ہیں، مسخ شدہ لاشیں بولتی ہیں، نقل مکانی کرنے والوں کی فریاد گونجتی ہے، یہاں یتیم و یسیر طبقات بولتے ہیں انسانوں کو بولنے کی اجازت کہاں شال میں لوگوں کے کردار بولتے ہیں جس طرح تھامس سانکرا pan Africanist نے کہا تھا
” I can hear the roar of women’s silence.”

بلوچ مزاحمتی سیاسی جدوجہد کی تربیت کی اس شہر نے، کسی نے درست کہا کہ اگر بلوچستان کی محکومیت کو دیکھنا ہے تو شال میں ماما قدیر کی کیمپ میں چلے جہاں لاتعداد بلوچ اسٹوڈنٹس کی جبری گمشدگی کی کیسز ملیں گے۔ لیکن حالیہ مزاحمتی تحریکوں نے اس شہر کو اور خوبصورت بنایا ہے جہاں سرمایہ دارانہ نظام اور استعماریت نے بلین آف ڈالرز خاص کر بلوچستان میں اسلیئے لگائے تاکہ نوجوانوں کی سوچ غیر سیاسی بنایا جائے اور ان کے اتحاد کو توڑا جائے لیکن شال نے اس اتحاد کو پھر مضبوط کیا اور بلوچ طلباء تنظیموں کے درمیان استعماریت کیخلاف سیاسی جڑت کی شعور دی کیوںکہ ایک چیز طے ہے آپ لاکھ ہمیں دھڑوں میں تقسیم کریں لیکن جس طرح فیض نے کہا ” محکوم اور پسے ہوئے اقوام کے درمیان جو رشتہ ہوتا ہے وہ درد کا رشتہ ہوتا ہے، وہ کسی بھی وقت یکجا ہو کر اس کولونیلزم لیگسی کیخلاف آواز اٹھائے گا۔

ایک چیز جو سچ ہے وہ یہ ہے کہ بلوچ مزاحمتی تحریک نے اپنا پیغام ایک منظم طریقے سے نوجوانوں تک پہنچایا ہے وہ پیغام ظلم کیخلاف آواز اٹھانے کا ہے، وہ پیغام بالادست کیخلاف سڑکوں پر نکل آنے کا، وہ پیغام اختلاف رائے کا، وہ پیغام مزاحمت کا وہ پیغام جینے کا، سوچنے، حقوق کیلئے مزاحمت کا۔

شال نے ہمیں ایک ماں کی طرح ہماری تربیت کی، شال نے ہمیں چیخوف، لینن، اسٹالن، مارکس کی تصانیف سے آگاہ کیا ہمیں مزاحمت لکھنے کیلئے مختلف حالات پیش کیئے، شال تم مزاحمت ہو، شال تم درخشان ہو، تم کیچ ہو، تم نصیر آباد ہو، تم کوہلو ہو، تم بلوچ ہو، شال آخر تم بلوچستان ہو۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔