گوادر : ماہی گیروں کی روزگار پہ قدغن، مچھلی پکڑنے پر دشواری کا سامنا

73

گوادر: ماہی گیر سمندر تک رسائی روکے جانے پر نالاں

ماہی گیر اللہ بخش اپنے ساتھیوں پر جلدی کشتی تیار کروانے کے لیے چیخ رہے تھے۔ اُن کے چہرے پر مایوسی اور نااُمیدی تھی۔

اُن کے ملازمین نے جلدی سے کشتی صاف کرنا شروع کی اور جال سمیت باقی سامان اندر رکھا۔ اللہ بخش نے پھر موٹر کا ليور کھینچا اور گوادر کے سمندر میں روانہ ہو گئے۔

اللہ بخش بچپن سے ماہی گيری کر رہے ہیں۔ یہ اُن کا خاندانی پیشہ ہے جو اِن کے باپ دادا سے چلتا آ رہا ہے۔ سمندر ہمیشہ ان پر مہربان رہا ہے اور اِن کی جان و مال اِس پر منحصر ہیں لیکن سب کچھ ویسا نہیں جیسا پہلے تھا۔

اللہ بخش نے کہا ’جہاں سب سے زیادہ مچھلیاں پائی جاتی ہیں وہاں ہمیں ماہی گيری سے روک دیا گیا ہے۔ یہ بندرگاہ میں نئی سڑک کی تعمیر کی وجہ سے ہوا۔‘

چین پاکستان اقتصادی راہداری یا سی پیک کے تحت بننے والے انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں سے ایک گوادر میں بننے والی ’ایسٹ بے ایکسپریس وے‘ بھی ہے۔ جہاں اکثر لوگ اِس منصوبے کو پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے ضروری اور خطے کے لیے اہم سمجھتے ہیں، گوادر کے مقامی مچھیرے اِس سے خوش نہیں۔

اللہ بخش کہتے ہیں ’وہ ہمیں بندرگاہ اور ایمبیسی کے قریب نہیں جانے دیتے۔ رات کو بھی وہ ہمارا پیچھا کر کے ہمیں روک لیتے ہیں۔‘

چین نے گوادر کی بندر گاہ کے نزدیک ایک سخت سکیورٹی والا وسیع کاروباری مرکز بنایا ہے۔ مقامی مچھیرے اس عمارت کو ’ایمبیسی‘ کہتے ہیں۔

اللہ بخش کا یہ کہنا ہے کہ اگر ماہی گير اس پابند علاقے کے نزدیک پکڑے جائیں تو ایمبیسی کے محافظ اِنھیں مارتے ہیں اور سزا کے طور پر ورزش کرواتے ہیں۔

سی پیک کا راستہ گوادر سے شروع ہو کر چین کے شہر کاشغر تک جاتا ہے اور ایسٹ بے ایکسپریس وے اِس کا ایک اہم حصّہ ہے۔ یہ 19 کلومیٹر لمبا اور چھ لین چوڑا ایکسپریس وے گوادر کی بندر گاہ کو سڑکوں کے اُس نیٹ ورک سے جوڑے گا جو کہ بالاخر کاشغر تک جائے گا۔

سی پیک کے تحت ہونے والے تمام منصوبوں کی کُل مالیت 60 ارب امریکی ڈالر ہے۔ اِس کے ذریعے چین کو بحیرۂ عرب تک کا راستہ ملے گا اور درآمدات اور برآمدات کے خرچے کم ہو جائیں گے۔ پاکستان کے لیے توقع کی جاتی ہے کہ اِن منصوبوں سے ملک کی لڑکھڑاتی ہوئی معیشت کو سرمایہ کاری کے ذریعے سہارا ملے گا۔

محمد یونس گوادر کے ماہی گيروں کی انجمن کے سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جہاں سڑک کی تعمیر ہو رہی ہے ہم وہاں نہ اپنی کشتیاں کھڑی کر کے صاف کر سکتے ہیں اور نہ وہاں سے سمندر میں داخل ہو سکتے ہیں۔‘

یونس کے مطابق انتظامیہ نے 12 فٹ چوڑی تین سرنگوں کا منصوبہ بنایا ہے جو کہ سڑک کے نیچے سے گزریں گی اور جنھیں استعمال کر کے مچھیرے سمندر تک پہنچ سکیں گے۔

لیکن ان کا اعتراض ہے کہ ان سرنگوں کا حجم اتنا کم ہے کہ ایک عام کشتی بھی اِن میں سے نہیں گزر سکے گی۔

گوادر کے مچھیرے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اُن کے لیے سرنگ 200 فٹ چوڑی ہونی چاہیے اور اِنھیں آزادنہ طور پر ماہی گیری کی اجازت ہونی چاہیے۔

یونس کہتے ہیں ’انھوں نے سمندر کے ایک بڑے علاقے کو ریڈ زون قرار دے دیا ہے۔ وہاں مچھلیاں پکڑنا تو دور، ہمیں جانے کی بھی اجازت نہیں ہے‘۔

’جو ساڑھے چار کلومیٹر کی جگہ اِنھوں نے بند کی ہے وہ سمندر کا سب سے زرخیز حصّہ ہے۔ ہم سال بھر یہاں مچھلیاں پکڑتے ہیں۔ اگر اِس نقشے کے حساب سے سڑک بنائی جاتی ہے تو ہمیں سمندر سے نکال دیا جائے گا۔ ہماری روزی تباہ ہو جائے گی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ تین مہینوں کے احتجاج کے بعد حکومت کی طرف سے نمائندوں نے آ کر انھیں کو تسلی دی کہ ان کے خدشات کو دور کیا جائے گا لیکن اُن کا کہنا ہے کہ ابھی تک اِس حوالے سے کچھ نہیں کیا گیا۔

’ہمارا ماننا ہے کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے اور ہمیں اُمید ہے کہ ہماری مصیبتوں پر توجہ دی جائے گی۔ لیکن اگر ہمیں نہ سنا گیا تو مچھیروں کے پاس سڑکوں پر نکلنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں رہے گا۔

گوادر کی 70 فیصد آبادی کا ذرائع آمدنی ماہی گیری ہے۔ شہر میں تقریباً 2،500 رجسٹرڈ کشتیاں ہیں اور ہر ایک پر کام کرنے کے لیے سات سے آٹھ آدمی۔

178 سال تک یہ بندرگاہ سلطنتِ عمان کے تحت تھی اور پاکستان نے 1958 میں اسے 30 لاکھ امریکی ڈالر کے عوض خریدا تھا۔

دہائیوں تک گوادر نظر انداز اور غیر ترقی یافتہ رہا، جب تک 2001 میں فوجی آمر پرویز مشرف نے یہاں بندر گاہ بنانے کا ارادہ نہیں کیا۔ لیکن سرمایہ کاری، تحفظ اور سیاسی رضا مندی کی غیرموجودگی میں یہ تکمیل تک نہ پہنچایا جا سکا۔

2015 میں چین نے اِس کی سٹرٹیجک اہمیت کو دیکھتے ہوئے مسلم اکثریت صوبے سنکیانگ کے ساتھ اِس بندرگاہ کو اقتصادی راہداری کے ذریعے جوڑنے کا فیصلہ کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ گوادر کی مقامی آبادی کو اِس منصوبے سے بہت فائدہ ہوگا جب سی پیک کے تحت نیا ایئرپورٹ، جدید ہسپتال، یونیورسٹی، پانی کی صفائی کی سہولت اور پیشہ وارانہ ٹریننگ کا ادارہ تعمیر ہوگا۔

لیکن یونس کو اِس بات پر شک ہے۔ اُن کا کہنا ہے ’راستوں پر گندا پانی بہتا ہوا نظر آتا ہے، سڑکوں کا بُرا حال ہے، پینے کو پانی نہیں ہے، سمندر سے مچھلی نہیں پکڑ سکتے، سیکیورٹی اہلکار ہر وقت تنگ کرتے ہیں۔ یہ ملا ہے ہمیں سی پیک سے۔‘

گوادر بندر گاہ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر میں ماہی گیروں کے خدشات کو ذہن میں رکھا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مچھیروں کی آسانی کے لیے بندر گاہ کی سہولیات کو بھی بہتر کیا جا رہا ہے اور اِس بات سے انکار کرتے ہیں کہ علاقے میں ماہی گیری پر کوئی منفی اثرات ہوں گے۔

مگر اللہ بخش کو یہ فوائد نظر نہیں آ رہے۔ وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ اپنے سمندر میں مچھلیاں نہیں پکڑ سکتے۔