ریاست ڈائن بن چکی ہے جو ہمارے بچوں کو نگل رہی ہے
ریاست شہریوں کے لئے ماں کا درجہ رکھتی ہے لیکن بلوچستان کے نوجوان شہریوں کے لئے ریاست ڈائن بن چکی ہے جو ہر کسی کونگل رہی ہے ۔ ان...
ایس ایس ایف کا خضدار میں “تاریخ اور سیاست” کتاب پہ اسٹڈی سرکل
سیو اسٹوڈنٹس فیوچر کی جانب سے خضدار میں ڈاکٹر مبارک علی کی "تاریخ اور سیاست" نامی کتاب پہ جائزاتی و تبصراتیاسٹڈی سرکل منعقد کیا گیا۔اسٹڈی سرکل تنظیم کے ایجوکیشنل...
بلوچستان فزیوتھراپیسٹ کا اسمبلی کے سامنے دھرنا
بلوچستان فزیوتھراپی ایسوسی ایشن کے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ پچھلے 16 دنوں سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جاری ہے بلوچستان فزیوتھراپی ایسوسی ایشن مطالبات کے حق...
کیچ: ایک شخص نے خودکشی کرلی
بلوچستان کے ضلع کیچ میں ایک شخص نے نامعلوم وجوہات کے بنا پر گلے میں پھندا ڈال کر اپنے ہاتھوں سے اپنے زندگی کا خاتمہ کردیا۔
نیشنلزم کی جدوجہد ہی بقاء اور نجات دہندہ ہے۔ این ڈی پی
نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی شال زون کا آرگنائزنگ باڈی اجلاس زیر صدارت مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی ممبر آغا نعمت شاہ منعقد ہوا، اجلاس کے مہمان مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے...
ریاست لاپتہ افراد کے قتل کا اعتراف کرچکی ہے – سورٹھ لوہار
سندھ سے جبری گمشدگی کے خلاف جاری تحریک کی رہنمائی کرنے والی وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کے چیئر پرسن سورٹھ لوہار نے کہا ہے کہ...
مکران یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی تعیناتی پر طلباء کا احتجاج
متنازع وائس چانسلر کی تعیناتی کیخلاف یونیورسٹی آف مکران پنجگور کیمپس کے طلبہ سراپا احتجاج، طلباء نے کلاسز کا بائیکاٹکرتے ہوئے مرکزی شاہراہ پر دھرنا دیا-
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت مکران یونیورسٹی میں متنازع وائس چانسلر کی تعیناتی کا فیصلہ واپس لے عبدالمالک ترین کیبحیثیت وی سی تعیناتی ہرگز قبول نہیں-پنجگور یونیورسٹی آف مکران کے طلبہ نے وی سی کی تعیناتی کیخلاف کلاسوں کا بائیکاٹکرکے مین روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے احتجاج ریکارڈ کی-
احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ عدالت وی سی کے اسٹے آرڈر پر نظرثانی کرے عبدالمالک ترین کی بطور وی سی تعیناتی کسی بھیصورت قابل قبول نہیں ہے ہم اپنے ادارے کو ایک ایسے شخص کے حوالے نہیں کرسکتے جس کی ساکھ اور شہرت متنازعہ ہو۔
طلباءنے کہا کہ یونیورسٹی آف مکران ہمارے خوابوں کی تعبیر اور والدین کی امید ہے، مختصر وقت میں یونیورسٹی آف مکران نے جوکامیابی کا سفر طے کیا اس کو رائیگاں جانے نہیں دیا جائے گا معزز عدالت عبدالمالک ترین کے اسٹے آرڈر پر نظرثانی کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے ہماری تعلیم اہم ہے مگر ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ روڈوں پر آکر احتجاج کریں۔
کوئٹہ سے لاپتہ نوجوانوں کی ڈیرہ بگٹی سے گرفتاری ظاہر
کوئٹہ سے لاپتہ نوجوان کی گرفتاری ڈیرہ بگٹی سے ظاہر کردی گئی ہے-
کاؤنٹر ٹیرریزم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی سے ایک شخص کو گرفتار کرکے قبضہ سے پستول سمیتبارودی مواد برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے گرفتار شخص کی شناخت خضدار کے رہائشی عبدالباسط ولد عبدالغنی سے ہوئی ہے تاہمگرفتاری ظاہر کئے گئے مذکورہ نوجوان کے قریبی ذرائع کے مطابق عبدالباسط چار ماہ قبل کوئٹہ سے جبری گمشدگی کا شکار ہوئےتھے-
عبدالباسط کے قریبی ذرائع کے مطابق 17 فروری کو کوئٹہ کے علاقہ جیور کالونی میں پاکستانی ایف سی و خفیہ اداروں نے گھر پرچھاپہ مارتے ہوئے انھیں حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔
باسط ولد عبدالغنی کی جبری گمشدگی کے اطلاع تب انکے قریبی ذرائع کی جانب سے میڈیا کو دی گئی تھی-
خیال رہے لاپتہ افراد کی گرفتاری یا جعلی مقابلے میں قتل کرنے کے دعوے پہلے بھی سی ٹی ڈی قبول کرتا آرہا ہے۔اس سے قبلخضدار سے لاپتہ طالب علم حفیظ بلوچ کو بلوچستان نصیر آباد سے بارودی مواد کے ہمراہ گرفتاری ظاہر کردی گئی تھی-
کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ کی جانب سے حفیظ بلوچ کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرکے بی ایل اے سے تعلق کا الزام عائد کیا گیا ہے۔جبکہ حفیظ بلوچ اب نصیر آباد پولیس تھانے میں قید ہیں اور انکا ٹرائل جاری ہے-
انسانی حقوق کے اداروں کا رویہ بلوچستان بارے غیر منصفانہ ہے – ماماقدیر
کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے قائم کردہ بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4685 دن مکمل ہوگئے۔ کوئٹہ سے بیبرگبلوچ، عبدالکریم بلوچ، نور احمد بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی-
کیمپ آئے وفد سے گفتگو میں وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں ریاست دہشت گردانہکارروائیوں میں تیزی لائی ہے پاکستانی فوج نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اپنے مقامی ایجنٹوں اور زرخرید قاتلوں کے ذریعےفوجی بربریت اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے بلوچ لواحقین آئے روز پر امن جدوجہد کا حصہ بن رہے ہیں اپنے پیاروںکی بازیابی کیلئے ریاستی جبر سے کوئی مرعوب نہیں ہوگا ہم بلوچ لواحقین کے ساتھ پر امن جدوجہد سے ایک انچ پیچھے نہیں ہونگے-
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچ فرزندانِ وطن کی عظیم قربانیوں اور ہمارے ماؤں بہنوں کی جہد مسلسل سے ریاست پریشان ہوچکی ہےاور پسپا ہو گیا ہے گزشتہ مہینوں سے جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں کی پھینکے کے عمل میں کافی تیزی آئی ہے-
انہوں نے کہا کہ پاکستانی ریاست نے عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی دھجیاں اڑائی ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے انسانیحقوق کے تنظیموں کے دعوے اور بیانات لفاظی رہ گئی ہیں بلوچستان انسانی حقوق کے حوالے سے بلیک ہول بنتا جا رہا ہے نیشنل اورانٹرنیشنل میڈیا بلیک آؤٹ ہے سب نے چشم پوشی روا رکھا ہے-
ماما قدیر بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے نوٹس لینے اور اعلامیے جاری ہونے کے باوجود کوئیانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں نا کوئی کمی آ رہا ہے نا ان پہ عملدرآمد کیا جا رہا ہے-
حب: فائرنگ سے خاتون قتل
بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں گھر کے اندر فائرنگ میں خاتون کو قتل کردیا گیا-
پولیس کے مطابق مذکورہ خاتون گھر میں کام کر رہی تھی جب مسلح افراد نے گھر میں گھس کر فائرنگ کھول دی جس کے نتیجے میںخاتون موقع پر ہی جانبحق ہوگئی۔ فائرنگ کا واقعہ اتوار کے روز پیش آیا-
پولیس کے مطابق قتل کی وجہ خاندانی جھگڑا ہوسکتا ہے، قتل میں ملوث ملزمان جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے ہیں جنکی تلاش پولیسکررہی ہے-
خیال رہے کہ بلوچستان میں گھریلو جھگڑے اور غیرت کے نام پر خواتین کی قتل کے واقعات تواتر سے رپورٹ ہوتے رہے ہیں جبکہ جبکہمذکورہ واقعات میں ملوث افراد میں سے بہت ہی کم تعداد کو قانون نافذ کرنے والے ادارے انصاف کے کٹہرے میں لاسکے ہیں۔
اعداد شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایک ہزار سے زائد خواتین قتل ہوجاتے ہیں جن میں سے اکثریت کو غیرت کے نام پر قتلکردیا جاتا ہے-
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر لاش کو اسپتال پہنچادیا ہے جہاں ضروری کارروائی کے بعد نعشیں ورثاءکے حوالے کردیا گیا-


























































