مکران یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی تعیناتی پر طلباء کا احتجاج
متنازع وائس چانسلر کی تعیناتی کیخلاف یونیورسٹی آف مکران پنجگور کیمپس کے طلبہ سراپا احتجاج، طلباء نے کلاسز کا بائیکاٹکرتے ہوئے مرکزی شاہراہ پر دھرنا دیا-
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت مکران یونیورسٹی میں متنازع وائس چانسلر کی تعیناتی کا فیصلہ واپس لے عبدالمالک ترین کیبحیثیت وی سی تعیناتی ہرگز قبول نہیں-پنجگور یونیورسٹی آف مکران کے طلبہ نے وی سی کی تعیناتی کیخلاف کلاسوں کا بائیکاٹکرکے مین روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے احتجاج ریکارڈ کی-
احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ عدالت وی سی کے اسٹے آرڈر پر نظرثانی کرے عبدالمالک ترین کی بطور وی سی تعیناتی کسی بھیصورت قابل قبول نہیں ہے ہم اپنے ادارے کو ایک ایسے شخص کے حوالے نہیں کرسکتے جس کی ساکھ اور شہرت متنازعہ ہو۔
طلباءنے کہا کہ یونیورسٹی آف مکران ہمارے خوابوں کی تعبیر اور والدین کی امید ہے، مختصر وقت میں یونیورسٹی آف مکران نے جوکامیابی کا سفر طے کیا اس کو رائیگاں جانے نہیں دیا جائے گا معزز عدالت عبدالمالک ترین کے اسٹے آرڈر پر نظرثانی کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے ہماری تعلیم اہم ہے مگر ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ روڈوں پر آکر احتجاج کریں۔
کوئٹہ سے لاپتہ نوجوانوں کی ڈیرہ بگٹی سے گرفتاری ظاہر
کوئٹہ سے لاپتہ نوجوان کی گرفتاری ڈیرہ بگٹی سے ظاہر کردی گئی ہے-
کاؤنٹر ٹیرریزم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی سے ایک شخص کو گرفتار کرکے قبضہ سے پستول سمیتبارودی مواد برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے گرفتار شخص کی شناخت خضدار کے رہائشی عبدالباسط ولد عبدالغنی سے ہوئی ہے تاہمگرفتاری ظاہر کئے گئے مذکورہ نوجوان کے قریبی ذرائع کے مطابق عبدالباسط چار ماہ قبل کوئٹہ سے جبری گمشدگی کا شکار ہوئےتھے-
عبدالباسط کے قریبی ذرائع کے مطابق 17 فروری کو کوئٹہ کے علاقہ جیور کالونی میں پاکستانی ایف سی و خفیہ اداروں نے گھر پرچھاپہ مارتے ہوئے انھیں حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔
باسط ولد عبدالغنی کی جبری گمشدگی کے اطلاع تب انکے قریبی ذرائع کی جانب سے میڈیا کو دی گئی تھی-
خیال رہے لاپتہ افراد کی گرفتاری یا جعلی مقابلے میں قتل کرنے کے دعوے پہلے بھی سی ٹی ڈی قبول کرتا آرہا ہے۔اس سے قبلخضدار سے لاپتہ طالب علم حفیظ بلوچ کو بلوچستان نصیر آباد سے بارودی مواد کے ہمراہ گرفتاری ظاہر کردی گئی تھی-
کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ کی جانب سے حفیظ بلوچ کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرکے بی ایل اے سے تعلق کا الزام عائد کیا گیا ہے۔جبکہ حفیظ بلوچ اب نصیر آباد پولیس تھانے میں قید ہیں اور انکا ٹرائل جاری ہے-
انسانی حقوق کے اداروں کا رویہ بلوچستان بارے غیر منصفانہ ہے – ماماقدیر
کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے قائم کردہ بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4685 دن مکمل ہوگئے۔ کوئٹہ سے بیبرگبلوچ، عبدالکریم بلوچ، نور احمد بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی-
کیمپ آئے وفد سے گفتگو میں وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں ریاست دہشت گردانہکارروائیوں میں تیزی لائی ہے پاکستانی فوج نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اپنے مقامی ایجنٹوں اور زرخرید قاتلوں کے ذریعےفوجی بربریت اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے بلوچ لواحقین آئے روز پر امن جدوجہد کا حصہ بن رہے ہیں اپنے پیاروںکی بازیابی کیلئے ریاستی جبر سے کوئی مرعوب نہیں ہوگا ہم بلوچ لواحقین کے ساتھ پر امن جدوجہد سے ایک انچ پیچھے نہیں ہونگے-
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچ فرزندانِ وطن کی عظیم قربانیوں اور ہمارے ماؤں بہنوں کی جہد مسلسل سے ریاست پریشان ہوچکی ہےاور پسپا ہو گیا ہے گزشتہ مہینوں سے جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں کی پھینکے کے عمل میں کافی تیزی آئی ہے-
انہوں نے کہا کہ پاکستانی ریاست نے عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی دھجیاں اڑائی ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے انسانیحقوق کے تنظیموں کے دعوے اور بیانات لفاظی رہ گئی ہیں بلوچستان انسانی حقوق کے حوالے سے بلیک ہول بنتا جا رہا ہے نیشنل اورانٹرنیشنل میڈیا بلیک آؤٹ ہے سب نے چشم پوشی روا رکھا ہے-
ماما قدیر بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے نوٹس لینے اور اعلامیے جاری ہونے کے باوجود کوئیانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں نا کوئی کمی آ رہا ہے نا ان پہ عملدرآمد کیا جا رہا ہے-
حب: فائرنگ سے خاتون قتل
بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں گھر کے اندر فائرنگ میں خاتون کو قتل کردیا گیا-
پولیس کے مطابق مذکورہ خاتون گھر میں کام کر رہی تھی جب مسلح افراد نے گھر میں گھس کر فائرنگ کھول دی جس کے نتیجے میںخاتون موقع پر ہی جانبحق ہوگئی۔ فائرنگ کا واقعہ اتوار کے روز پیش آیا-
پولیس کے مطابق قتل کی وجہ خاندانی جھگڑا ہوسکتا ہے، قتل میں ملوث ملزمان جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے ہیں جنکی تلاش پولیسکررہی ہے-
خیال رہے کہ بلوچستان میں گھریلو جھگڑے اور غیرت کے نام پر خواتین کی قتل کے واقعات تواتر سے رپورٹ ہوتے رہے ہیں جبکہ جبکہمذکورہ واقعات میں ملوث افراد میں سے بہت ہی کم تعداد کو قانون نافذ کرنے والے ادارے انصاف کے کٹہرے میں لاسکے ہیں۔
اعداد شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایک ہزار سے زائد خواتین قتل ہوجاتے ہیں جن میں سے اکثریت کو غیرت کے نام پر قتلکردیا جاتا ہے-
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر لاش کو اسپتال پہنچادیا ہے جہاں ضروری کارروائی کے بعد نعشیں ورثاءکے حوالے کردیا گیا-
شوہر کو فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا – حاجرہ بی بی
بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے شاہرگ کے رہائشی بی بی حاجرہ نے لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے کام کرنے والی تنظیموائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز کے کیمپ آکر اپنے شوہر مجیب الرحمٰن ولد عبدالرحمٰن کے کوائف جمع کئے۔
لاپتہ مجیب الرحمن کی اہلیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ چھ ماہ قبل پیرا ملٹری فورس (ایف سی)، سی ٹی ڈی اور خفیہ ایجنسیوں کےاہلکاروں نے اس کے شوہر کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے جس کے بعد ان کے بارے میں معلوم نہیں کہاں اورکس حال میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دن وہ صبح آٹھ بجے گھر سے نکلا تھا اور کوئلہ کانکنوں کو لے جارہا تھا کہ فورسز نے انہیں حراست میں لیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ فورسز نے وہاں موجود لوگوں کو دھمکی دی ہے کہ اس کے اغواء ہونے پہ گواہی دی ان کو بھی اغواء یا قتل کیاجائے گا۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات روزانہ رونما ہورہے ہیں، قوم پرست اور انسانی حقوق کے ادارے پاکستانیفورسز و خفیہ ایجنسیوں پہ الزام عائد کرتے ہیں کہ لوگوں کو اغواء کرنے میں وہ برائے راست ملوث ہیں تاہم فورسز ان الزامات کی تردیدکرتے ہیں۔
گذشتہ دنوں پاکستان کے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ریاض پیرزادہ نے ایک انٹرویو کے دوران الزام عائد کیا ہے کہ لاپتہ افراد نےہمسایہ ممالک میں پناہ لے رکھی ہے اور ان میں سے کچھ دہشت گردی کی کارروائیوں میں مارے گئے جن کے کلبھوشن یادیو یاہمسایہ ممالک سے رابطے تھے‘۔
مذکورہ وزیر کے بیان پہ لاپتہ ڈاکٹر دین محمد کی صاحبزادی اور وی بی ایم پی کے رہنما سمی دین نے ردعمل دیتے ہوئے سماجیرابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پہ لکھا ہے کہ شرم کا مقام ہے ہیکہ اس ملک کا وزیر انسانی حقوق یہ کہہ کر”غریب لوگ پیسے کیلئےہمسایہ ممالک کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں” جبری گمشدگیوں کی حمایت کررہے ہیں۔
ریاستی ادارے منشیات فروشی میں ملوث ہیں – منشیات کے عالمی دن بلوچستان میں...
انسداد منشیات کے عالمی دن کی مناسبت سے بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی، ساحلی شہر گوادر، تربت، پنجگور اور دیگر علاقوں میں ریلیاں نکالی گئی اور...
جیکب آباد میں سندھ رینجر پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی...
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے جیکب آباد میں پاکستانی رینجر پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
بی...
کراچی: جبری گمشدگیوں کیخلاف احتجاج دوسرے روز جاری رہا
بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے بھوک ہڑتالی کیمپ دوسرے روز بھی کراچی پریس کلب کے سامنے جاری رہا- کراچی سے جبری گمشدگی کے شکار افراد کے...
مکران یونیورسٹی میں متنازع کردار وائس چانسلر کی تعیناتی قبول نہیں-طلباء و سیاسی تنظیموں...
مبینہ طور پر جامعہ بلوچستان اسکینڈل میں ملوث وائس چانسلر کے مکران یونیورسٹی میں تعیناتی پر طلباء و سیاسی تنظیم کا احتجاج، مکران یونیورسٹی میں متنازع کردار...
نوشکی: فورسز کے ہاتھوں ایک شخص قتل، دو گرفتار
بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پیرا ملٹری فورس ایف سی نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو قتل جبکہ دو گرفتار کرنے کے بعد نامعلوممقام منتقل کردیا ہے۔
فائرنگ سے قتل ہونے والے شخص کی شناخت نور اللہ ولد خالق داد سکنہ چمن کے نام سے ہوئی ہے۔
مقتول کے لواحقین کا کہنا ہے کہ مذکورہ افراد افغانستان سے سامان پاکستان منتقل کررہے تھے کہ فورسز نے فائرنگ کرکے ایک کوقتل جبکہ دو کو حراست میں لیا ہے۔
لواحقین کے مطابق کل رات مقتول کی لاش کو کوئٹہ میں لواحقین کے حوالے کیا گیا ہے، تاہم حکام کا موقف اس حوالے سے سامنے نہیںآیا ہے۔
خیال رہے بلوچستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد افغانستان اور ایران سرحدوں کے کاروبار سے منسلک ہیں۔
گذشتہ دنوں چاغی کے علاقے دالبندین میں ایف سی اہلکاروں نے ایک گاڑی پر فائرنگ کی جس میں سوار ایک خاتون شدید زخمیہوئی۔
واقعہ کے بعد لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے فورسز کے خلاف نعرہ بازی کی جبکہ مشتعل افراد نے ایف سی کی ایک گاڑی کو آگ لگادی۔ اس دوران مظاہرین نے کی مبینہ تشدد سے ایک ایف سی اہلکار ہلاک ہوگیا تھا۔























































