جنگ نہیں چاہتےلیکن اتحادیوں کی تحفظ کریں گے – امریکہ

100

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو  سعودی عرب کے دورے پہ  تیل کی تنصیبات پر حملے کے بعد ممکنہ جوابی کارروائی پر بات چیت کریں گے ، امریکی حکومت نے کہا ہے کہ تیل کی سعودی تنصیبات پر حملے ایران سے کیے گئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی نائب صدر مائیک پینس نے اعلان کیا ہے کہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو سعودی عرب گئے ہیں جہاں وہ تیل کی تنصیبات پر حملے کے حوالے سےہمارے جواب پر مذاکرات کریں گے۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایک تقریر میں مائیک پینس نے کہا کہ جیسا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں ہم کسی سے جنگ نہیں چاہتے لیکن امریکہ مکمل طور پر تیار ہے۔

امریکہ کے نائب صدر نے مزید کہا کہ ہم اپنے مفادات اور علاقائی اتحادیوں کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ کوئی اس حوالے سے غلطی نہ کرے۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ گذشتہ ہفتے تیل کی سعودی تنصیبات کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جو ایران سے داغے گئے، اس حوالے سے ثبوت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں پیش کیے جائیں گے۔

بظاہر امریکی موقف میں سختی آنے کی وجہ ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے امریکہ کے ساتھ کسی بھی سطح کے مذاکرات سے انکار ہے،آبنائے ہرمز میں تیل بردار سعودی جہاز پر حملے اور تیل کے ایرانی جہاز کو روکے جانے کے بعد امریکہ اور ایران کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔ ایران یورنیئم کی افزودگی میں اضافے کا اعلان بھی کر چکا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق متعدد امریکی ارکان پارلیمان نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے کے معاملے میں احتیاط سے کام لینے پر زور دیا ہے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی سینیٹر لندسے گراہم نے حملے کو جنگی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ کن جواب دینے کی ضرورت ہے۔