نیوزی لینڈ: مساجد میں فائرنگ سے 49 افراد جانبحق، 20 شدید زخمی

48

کرائسٹ چرچ میں دہشت گردی، دو مساجد پر حملوں میں جانبحق افراد کی تعداد 49 ہوگئی، 20 افراد شدید زخمی

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نمازِ جمعہ کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے 49 افراد جانبحق اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا ہے کہ کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر حملے ’دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ہلاکتوں کی تعداد کے اعتبار سے نیوزی لینڈ کی تاریخ میں دہشت گردی کا یہ بد ترین اور سب سے بڑا واقعہ ہے۔

نیوزی لینڈ کے پولیس کمشنر مائیک بش نے دونوں حملوں میں 49 افراد کی تصدیق کی ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ حملے کے بعد تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے ایک کو ہفتے کو قتل کے الزامات میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے مساجد پر حملے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے۔ انہوں نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملوں کے بعد پورے نیوزی لینڈ کے لیے سکیورٹی کو انتہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے اسے ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔

دارالحکومت ویلنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے افراد انتہا پسندانہ نظریات رکھتے ہیں اور وہ پولیس کی واچ لسٹ پر نہیں تھے۔

وزیرِ اعظم نے واقعے کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار کیا اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہدایات پر پوری طرح عمل کریں۔

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے الزام میں گرفتار ایک شخص آسٹریلوی شہری ہے جو ان کے بقول “انتہا پسند اور دائیں بازو کا دہشت گرد ہے۔”

’ہمارا شہر بدل گیا ہے‘

کرائسٹ چرچ شہر کی میئر لیئین ڈلزیل نے ’المناک‘ حملے کے بارے میں جاری ایک بیان میں کہا کہ ’آج ہمارا شہر ہمیشہ کے لیے بدل گیا ہے۔‘

انھوں نے پولیس اور متاثرین کا خیال کرنے والے لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔‘

حکومتی اعدادوشمار کے مطابق نیوزی لینڈ کی آبادی کا صرف 1.1 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ سنہ2013 میں کی گئی مردم شماری کے مطابق نیوزی لینڈ میں 46000 مسلمان رہائش پزیر تھے، جبکہ 2006 میں یہ تعداد 36000 تھی۔ سات سالوں میں 28 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

حملے کی مبینہ ویڈیو

ایک غیر مصدقہ ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جو مبینہ طور پر حملہ آور کی بنائی ہوئی ہے۔ اس میں اسے لوگوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ویڈیو کو اپنی سائٹ سے ہٹا رہے ہیں۔

ایک حملہ آور کی جانب سے فیس بک پر ڈالی جانے والی حملے کی لائیو ویڈیو کو اگرچہ ہٹا دیا گیا ہے، لیکن متعدد مختلف اکاؤنٹس سے دوبارہ اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا کہ حملہ آور ایسے ہتھیار گاڑی سے نکالتا ہے جن پر مختلف عبارتیں لکھی ہیں اور اس کے بعد وہ مسجد میں داخل ہو کر نمازیوں پر فائرنگ کرتا ہے۔

حملہ آور نے یقینی بنایا کے کوئی بھی مسجد سے باہر نکلنے نہ پائے۔ اس دوران وہ بھاگنے والے نمازیوں کا پیچھا کرتے ہوئے باہر پارکنگ تک نکل جاتا ہے اور ان پر گولیاں چلا کر دوبارہ مسجد میں آ کر بھاگنے کی کوشش کرنے والے زخمیوں پر دوبارہ گولیاں چلاتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور تین مرتبہ مسجد میں آیا اور آخری چکر میں اس نے ایک ایک شخص کے قریب جا کر ان پر متعدد بار گولیاں چلا کر ان کی موت کو یقینی بنایا۔

بنگلہ دیشی ٹیم بال بال بچ گئی

فائرنگ کا واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کرائسٹ چرچ میں موجود تھی جس کے کھلاڑی نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے النور مسجد جا رہے تھے۔

ٹیم کے نائب کوچ نے خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو بتایا ہے کہ ٹیم کی بس مسجد کے باہر رکی ہی تھی جب وہاں فائرنگ شروع ہو گئی۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی ڈرائیور بس کو لے کر وہاں سے نکل گیا۔ کوچ نے بتایا کہ واقعے میں تمام کھلاڑی محفوظ رہے ہیں۔

بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ ہفتے سے کرائسٹ چرچ میں ہونا تھا۔ لیکن فائرنگ کے واقعے کے بعد دونوں بورڈز کی انتظامیہ نے باہمی مشاورت سے بنگلہ دیشی ٹیم کا جاری دورہ منسوخ کر دیا ہے۔