سی پیک کے سبب گوادر میں پانی کا بحران ابتر ہوگا، بین الاقوامی محققین

79
File Photo

خوراک اور پانی بحرانوں کے حوالے سے بینالاقوامی تنظیم ‘گلوبل فوڈ اینڈ واٹر کرائسز ریسرچ پروگرام’ کے ایک ریسرچر کرسٹوفر کریلن کا کہنا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) کی وجہ سے گوادر میں پانی کا بحران مزید ابتر ہوگا۔

‘فیوچر ڈائریکشنز انٹرنیشنل’ میں شائع ہونے والی ریسرچ میں کریلن کا کہنا ہے کہ سی پیک سے جڑے منصوبوں کے سبب  گوادر کی آبادی میں کافی حد تک اضافہ ہوگا، تجزیہ کار کے مطابق آبادی میں اضافہ شروع میں تو مثبت نظر آئے گا لیکن یہ پانی کی فراہمی میں مزید کشیدگی کا باعث بنے گا

بلوچستان کو 2013 سے خشک سالی کا سامنا ہے، بارشوں میں کمی، اور کچھ سال بالکل بارش نہ ہونے کے سبب پانی کی سطح کافی نیچے چلی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ایک ریسرچ کے مطابق خشک سالی بل واسطہ و بلاواسطہ صوبے کی 60 سے 70 فیصد آبادی کو متاثر کررہی ہے۔

اگر حکومت پانی کے بحران کو حل کیئے بغیر سی پیک منصوبوں کو جاری رکھتی ہے تو یہ مسئلہ اور بھی شدید ہوجائےگا۔

خشک سالی، ماحولیاتی تبدیلی اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب نے ڈیموں کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ انکارہ ڈیم، جس کو 1994 میں گوادر کو پانی فراہمی کے لیے بنایا گیا تھا اب تک چار مرتبہ سوکھ چکا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف ڈیم تعمیر کرنے سے گوادر میں پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا اور حکومت کے پاس کوئی بھی مستقل حل نہیں ہے کہ اس مسئلے پر قابو پا سکے۔

دوسری جانب بلوچ قوم پرست پاکستان اور چین پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ مقامی لوگوں کو پانی کے بحران کے سبب علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں اور مقامی لوگوں کا بھی ماننا ہے کہ پلانٹس لگانے میں تاخیر کی یہی وجہ ہے۔

ایک مقامی سرگرم کارکن نے ‘دی بلوچستان پوسٹ’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اکیسویں صدی میں وہ ایک پورے شہر کو خالی نہیں کر سکتے تو پانی کے  مصنوعی بحران کو جنم دے کر لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے تاکہ چینی اور پنجابی ہماری آبائی زمینوں پر آباد ہوسکیں۔

ماہرین نے دلیل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سی پیک قابل عمل ہے تو پانی کے بحران کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور اسے حال کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ اس علاقے میں تعینات پاکستانی سیکورٹی فورسز اور فورسز کی  تعمیراتی کمپنی ایف ڈبلیو او کے اہلکاروں کو بلوچ مسلح گروہوں کیجانب سے مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ سی پیک منصوبہ بلوچ قوم کی منشاء و منظوری کے بغیر شروع کیا گیا ہے۔