انتخابی دہشتگردی ـ دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

231

انتخابی دہشتگردی

دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

یاران دیار

رواں ماہ پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں کلعدم تنظیموں اور افراد کی شمولیت اور ریاست کی جانب سے انہیں اجازت نے دیگر سیاسی و سماجی حلقوں میں ہیجانی کیفیت اور پریشانی پیدا کیا ہوا ہے۔ سماجی اور سیاسی حلقوں میں ریاست کی جانب سے دہشت گردی اور فرقہ وارنہ تشدد میں ملوث کالعدم تنظیموں اور افراد کو انتخابی سیاست کی اجازت دینا اور قانون ساز اداروں تک رسائی دینے کی راہ مہیا کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مسلح اور مذہبی تشدد پسند تنظیموں کو پاکستانی دھارے میں لانے کی حالیہ پالیسی کو بیشتر سماجی مبصرین و سیاسی تجزیہ نگار ایک انتہائی خطرناک جوا قرار دے رہے ہیں۔ سکیورٹی امور کے کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلح تنظیموں کو غیر مسلح کیئے بغیر اور ان کے کارکنوں اور قیادت کو نفسیاتی علاج فراہم کیئے بغیر انہیں ’قومی دھارے میں لانے‘ کے نام پر قانون ساز اداروں میں لا بٹھانے سے پاکستان میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کی جڑیں مزید گہری ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ اس امر کا غمازی ہوگا کہ پاکستان ریاستی سطح پر مذہبی شدت پسندی کو قانونی حیثیت فراہم کررہا ہے۔

علاوہ ازیں پاکستان کی عالمی تنہائی میں اضافہ ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔ بعض ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ پالیسی دراصل پاکستان کے مرکزی دھارے کی جمہوریت نواز سیاسی جماعتوں کو بلیک میل کرنے کا ایک حربہ ہے۔

پاکستان کے مرکزی سیاسی دھارے میں پہلے سے موجود مذہبی جماعتوں اور اتحادوں کے علاوہ جماعت الدعوہ کے سیاسی فرنٹ، ملی مسلم لیگ کی جانب سے ’اللہ اکبر تحریک‘ کے ساتھ انتخابی اتحاد اور مولانا خادم رضوی کی ’تحریک لبیک‘ کی طرف سے پاکستان بھر میں امیدواروں کی نامزدگی کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی اور انتخابی صورتحال کو پہلے سے ہی تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا تھا۔ لیکن حال ہی میں انسداد دہشت گردی کے وفاقی ادارے ’نیشنل کاؤنڑ ٹیررازم اتھارٹی‘ کی جانب سے کالعدم تنظیم ’اہلسنت والجماعت‘ کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی کا نام فورتھ شیڈول سے نکالنے کے فیصلے کو دیکھتے ہوئے کئی حلقے شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

نومبر 2016 کو لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے لدھیانوی کو جھنگ کے حلقہ پی پی 78 سے انتخاب لڑنے کی اجازت دی تھی۔ اس سے قبل سنہ 2013 میں کالعدم ہونے کے باوجود ’اہلسنت والجماعت‘ تنظیم ’راہ حق‘ پارٹی کے نام سے متحدہ دینی محاذ کا حصہ بن گئی تھی۔

پی پی پی کے رہنما سینیٹر شیری رحمان نے اس فیصلے پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے، غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ’’ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کا نام گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے، مولانا احمد لدھیانوی کو فورتھ شیڈول سے نکالنے کا فیصلہ مناسب نہیں ہے۔‘‘ اسی طرح نون لیگ کی رہنما عظمیٰ بخاری کے خیال میں اس فیصلے کے پیچھے بھی ’خلائی مخلوق‘ ہے۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ’’میرے خیال میں نگران حکومت اپنے طور پر اتنا بڑا فیصلہ نہیں کر سکتی، اس فیصلے کے پیچھے ’غیر مرئی قوتیں‘ ہیں جو پی ٹی آئی اور ان فرقہ پرست تنظیموں میں انتخابی اتحاد کرائیں گی۔ اس فیصلے سے جھنگ، بھکر، لیہ اور بلوچستان سمیت کئی علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھے گی۔‘‘

بلوچستان سے ایک قوم پرست سیاسی رہنماء نے نام ظاھر نا کرنے کے شرط پر دی بلوچستان پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “اس طرح کے مذہبی شدت پسند اور کلعدم تنظیموں کو خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں انتخابی سیاست میں لانے کا مقصد ان علاقوں میں قوم پرست سیاست اور فوج کے غیر رضامند سیاسی جماعتوں کو پسپا کرنا ہے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ ” ریاست بلوچستان میں اس سے پہلے بھی ان شدت پسند گروہوں و افراد کو بلوچ تحریکِ آزادی کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے، جو کھلے بندوں بلوچ سیاسی کارکنوں کے اغواء اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث رہے ہیں، اب انہی عناصر کو شیروانی پہنا کر پارلیمنٹوں میں بھی بٹھایا جارہا ہے۔”

بلوچستان کے علاوہ خیبرپختونخواہ میں بھی پاکستانی افواج اور ریاست پر یہ الزام لگتی رہی ہے کہ وہ نام نہاد ” گڈ طالبان” کی پشت پناہی کرکے، خطے میں شدت پسندی کی جڑیں مظبوط کررہا ہے۔ پاکستانی فوج کے اقدامات کے خلاف حالیہ ابھرتی تنظیم پشتون تحفظ مومنٹ کے مقابلے میں پاکستان تحفظ موومنٹ جیسی تنظیم بنانا اور پہلے سے موجود امن لشکروں جیسی مسلح گروہوں کی سرپرستی کا الزام بھی پاکستانی اداروں پر لگا رہا ہے۔

اس کے علاوہ بلوچستان میں بھی کلعدم مسلح مذہبی تنظیمیں اور افراد کو ریاست کی جانب سے انتخابی مہم میں کھلی اجازت اور ان کے لیئے راہ ہموار کیا جارہا ہے۔ بلوچ مسلح دفاع اور حق نا توار تنظیم کے سربراہ شفیق مینگل کے کاغزات نامزدگی کی منظوری نے سیاسی و سماجی حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے۔

مذید پڑھیں: شفیق مینگل نے آئندہ انتخابات کیلئےخضدار سے بھی کاغذات نامزدگی حاصل کرلی

واضح رہے کہ شفیق مینگل پر سیاسی کارکنوں کے اغواء و قتل سمیت خضدار کے علاقے توتک میں دریافت ہونے والے اجتمائی قبروں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ یاد رہے کہ توتک سے اجتماعی قبر سے 169 لاشیں برآمد ہوئے تھے۔ اسکے علاوہ شفیق مینگل کا جماعت الدعوہ اور لشکر جھنگوی جیسی شدت پسند تنظیموں سے بھی تعلق کا الزام لگا ہے۔

مذید پڑھیں: شفیق مینگل ایک مہلک ریاستی ہتھیار – ٹی بی پی رپورٹ

دوسری جانب بلوچستان متحدہ محاز کے رہنماء سراج رئیسانی اور اہلسنت والجماعت کوئٹہ کے رہنماء رمضان مینگل کے انتخابات میں شمولیت نے سیاسی و سماجی حلقوں کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔

مولانا رمضان مینگل اور انکے ساتھیوں پر کوئٹہ سمیت پاکستان بھر کے متعدد عدالتوں میں دہشتگردی کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔ مولانا رمضان مینگل کو بلوچستان میں سرگرم شددت پسند مسلح تنظیم لشکرجھنگوی کا حمایتی اور کمک کار سمجھا جاتا ہے، ستمبر 2014 میں پاکستان حکومت کی جانب سے امریکی دباؤ کے بعد سیل ہونے والے بنک اکاونٹز میں مولانا رمضان کا اکاونٹ بھی شامل تھا۔ یا د رہے اہلسنت والجماعت کی شناخت اس سے قبل سپاہِ صحابہ کے نام سے ہوتی تھی، جسے اپنے پر تشدد خیالات کے باعث کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

لشکر جھنگوی کوئٹہ میں ہزارہ قوم کی ٹارگٹ کلنگ اور خود کش دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے، رمضان مینگل عوامی فورموں پر بارہا لشکر جھنگوی کی حمایت اور اپنے تعلق کا اقرار کرچکے ہیں اور ہزارہ نسل کشی کی تائید کرتے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم جماعت کا بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار کی حمایت کا اعلان

جبکہ سراج رئیسانی پر بلوچ قوم پرست سیاسی کارکنان کے اغواء و ٹارگٹ کلنگ سمیت اغواء برائے تاوان کا بھی الزام لگتا رہا ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی ادارے اپنے ’اثاثوں‘ کو متحرک کر رہے ہیں۔ رضا کے مطابق، ’’ایک طرف حافظ سعید کا بیٹا اور داماد، دوسری طرف سمیع الحق کا بیٹا اور اب اہلسنت والجماعت کے لوگوں کو انتخابی سیاست میں لا کر وقتی طور پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اس سے معاشرے کو بہت نقصان ہوگا۔ نفرت پر مبنی سیاست کو فروغ ملے گا اور فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھے گی۔ پہلے بھی مسرور جھنگوی کے انتخابات میں ایک علاقے میں فرقہ وارانہ نعر ے لگے تھے۔ اب ایسے نعروں کی گونج پورے پاکستان میں پھیل جائے گی۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:

مسلح انتہا پسندوں کو انتخابی سیاست میں لانے کی ’خطرناک پالیسی’

بلوچستان میں آزادی پسند جماعتیں، چاہے وہ مسلح جدوجہد پر یقین رکھتی ہوں یا پر امن جمہوری جدوجہد پر سب نے مکمل طور پر انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہوا۔ ایسے وقت میں روشن خیال سیکیولر بلوچ قوم پرست قوتوں کے خلیج کو بزورِ قوت ریاستی نگرانی میں، شدت پسند اور جرائم پیشہ افراد و گروہوں سے پُر کرنے کی سعی کرنا، یقیناً بلوچستان میں مزید سیاسی و سماجی ابتری کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔