مستونگ : پاکستانی فورسز کے ہاتھوں ایک شخص لاپتہ

مستونگ میں پاکستانی فورسز نے گھر پر چھاپے کے دوران ایک شخص کو گرفتار کرکے اپنے ہمراہ لے گئے۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کردگاپ میں 28 جون کی رات پاکستانی فورسز نے عبدالمطلب سرپرہ کےگھر پر چھاپہ مارا،  دوران چھاپہ   فورسز نے عبدالمطلب سرپرہ کے بیٹے شیر گل کو گرفتار کرکے اپنے ہمراہ لے گئے ،جس کے بعد سے تاحال نوجوان لاپتہ ہے۔

بولان میں پاکستانی فورسز کے پوسٹ پر حملہ

بلوچستان کے ضلع بولان میں نامعلوم افراد نے پاکستانی فورسز کے پوسٹ کو حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے نودگہار میں ٹاکری کے مقام پر قائم پاکستانی فورسز کے پوسٹ پر مختلف ہتھیاروں سے حملہ کیا،دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا جبکہ بعدازاں حملہ آور فرار ہوگئے۔ حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی موقف پیش نہیں کیا ہے تاہم مذکورہ علاقوں میں ماضی بھی فورسز پر حملے ہوئے ہیں جن میںانہیں جانی و مالی نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔ گذشتہ دنوں پیراسماعیل کے علاقے میں پاکستانی فورسز کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا گیا جس میںانہیں جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ حملے کی ذمہ داری علاقے میں متحرک بلوچ آزادی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نےقبول کی تھی۔ آج ہونے والے حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

کیچ میں خاتون قتل

بلوچستان کے ضلع کیچ میں گذشتہ شب پیش آنے والے ایک واقعہ میں خاتون پر حملہ کرکے اس کو قتل کردیا گیا ہے۔ واقعہ ضلع کیچ کے علاقے مند لبنان میں پیش آیا ہے، پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ رات لبنان مند میں مشتبہ ملزمان نے چھریوں سےوار کرکے مسماۃ ( م )سکنہ پھل آباد تمپ کو قتل کردیا ہے۔  مند پولیس کا کہنا ہے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے تاہم پولیس نے ملزمان کیشناخت میڈیا میں ظاہر نہیں کی ہے۔ علاقائی ذرائع کے مطابق مند لبنان کے رہائشی عبدالرسول ولد غلام رسول سکنہ لبنان نے...

دکی: کوئلہ کان میں گیس بھرنے سے کانکن جانبحق، ایک بے ہوش

دکی مقامی کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھرنے کے باعث دم گھٹنے سے ایک کانکن جان بحق جبکہ ایک بے ہوش ہوگیا- ہسپتال ذرائع...

دنیا میں کہیں بھی نیا نشہ پیدا ہو اسے مختصرمدت میں بلوچستان میں پہنچا...

بلوچ نیشنل موومنٹ کے آواران اور منسلک ھنکینان کے ممبران نے 26 جون کو منشیات اور اس کی اسمنگلنگ کے خلاف عالمی دن اور تشدد سے متاثرہ...

کراچی: لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج جاری، پولیس کے ساتھ مذاکرات

جمعہ کے روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی آرگنائزر آمنہ بلوچ کی قیادت میں کراچی سے لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین کے ہمراہ سندھ پولیس کے...

جبری گمشدگی کا دورانیہ اذیت ناک لمحہ تھا – حفیظ بلوچ

لاپتہ بلوچ طالب علم حفیظ بلوچ منظر عام پر آنے کے بعد ضلع نصیر آباد کے سینٹرل جیل میں تھے، عدالت سے بریت کے بعد گذشتہ روز...

خضدار: نامعلوم افراد کی فائرنگ، ایک شخص ہلاک

بلوچستان کے ضلع خضدار میں بروز جمعہ نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو ہلاک کردیا۔ فائرنگ کا واقعہ خضدار کے علاقے کھنڈ رسول آباد میں پیش آیا جہاں فائرنگ کے واقعہ میں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت حاجیخان میراجی کے نام سے ہوا ہے۔  لاش کو اسپتال منتقل کرکے ضابطے کی کاروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کیا گیا، تاہم واقعہ کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکےہیں۔  خیال رہے کہ چوبیس گھنٹے کے دورانیہ میں خضدار میں فائرنگ کے دو واقعات میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں، گذشتہ روز خضدار کےعلاقے زہری میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص مارا گیا تھا جسکی شناخت عبداللہ کے نام سے ہوئی جس  کا تعلق خضدارکے علاقے مولہ سے بتایا جارہا ہے۔

بلوچستان کے رہائشی چھ افراد سندھ سے لاپتہ

پاکستانی فورسز نے سندھ کے مختلف علاقوں سے چھ بلوچوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا ہے۔ لاپتہ ہونے والوں کی شناخت مٹھا ولد نصیر، حمید ولد موسیٰ، نوکاپ ولد درمحمد، وڈیرہ ولد درمحمد، اسماعیل ولد زرک اور موریا ولدزرک کے ناموں سے ہوئی ہے۔ مذکورہ افراد کو سندھ کے علاقے جیکب آباد اور خیرپور سے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا جسکے بعد وہ لاپتہ ہیں۔ خیال رہے کہ بلوچستان و دیگر علاقوں سے جبری گمشدگیوں کے رکنے والا سلسلہ جاری ہے، دوسری جانب اس وقت کراچی، کوئٹہ اورتربت میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے احتجاج بھی جاری ہے۔

عبدوئی سرحد بندش: بھوک و پیاس سے ایک ڈرائیور جانبحق

عبدوئی سرحد پہ پھنسنے کی وجہ سے ضلع کیچ کے علاقے ہوشاپ کے رہائشی فقیر جان ولد دلدار وفات پاگئے۔  تفصیلات کے مطابق گذشتہ کئی دنوں سے عبدوئی سرحد پر تیل کے کاروبار سے منسلک گاڑیوں کو پاکستانی فورسز کی جانب سےروکے رکھا گیا ہے، پہاڑی و گنجان علاقہ ہونے کی وجہ سے لوگ بے یارومدگار تپتی دھوپ میں اذیتیں سہہ رہے ہیں۔ تیل کے کاروبار سے منسلک ہزاروں افراد کو خوراک کی قلت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ اس ڈرائیور فقیر جان اپنی جان کی بازی ہارگیا ہے۔ خیال رہے کہ مغربی و مشرقی بلوچستان میں روزگار کے موقع نہ ہونے کی وجہ سے اکثر نوجوان تیل کے کاروبار سے وابسطہ ہیںجہاں فورسز کی سختیاں ہر روز بڑھتی جارہی ہیں جن کی وجہ سے اکثر اس نوعیت کے واقعات رونماء ہوتے آرہے ہیں۔  رواں سال اپریل کے مہینے میں بلوچستان کے سرحدی علاقے چاغی میں پاکستانی فورسز نے فائرنگ کرکے حمید نامی ڈرائیور کو قتلکردیا جبکہ متعدد گاڑیوں کو ریگستان میں ناکارہ کرکے ڈرائیوروں کو پیدل چھوڑ دیا گیا جس سے مزید ڈرائیور جانبحق ہوئیں۔ واقعہ کے خلاف مظاہرہ کرنے والے مظاہرین پر بھی فورسز کی فائرنگ سے آٹھ افراد زخمی ہوئے تھے۔ اسی طرح گذشتہ سال مغربی و مشرقی بلوچستان کو جدا کرنے والی گولڈ سمتھ لائن پہ ایرانی سرحدی فورسز نے فائرنگ کرکے تیسسے زائد لوگوں کو قتل کیا تھا۔

تازہ ترین

گوادر: مزید چار افراد جبری طور پر لاپتہ

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے علاقے جیونی میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق دسمبر 2025...

کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاج آج بروز اتوار 6044ویں روز میں داخل ہو گیا۔

ڈاکٹر ماہ رنگ نے بلوچستان کے نوجوانوں کو یقین دلایا تھا کہ بندوق کے...

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے کہا ہے کہ جب ریاستِ پاکستان پُرامن...

ایران میں دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں ہلاک افراد کی تعداد 192 ہوگئی،...

ایران میں احتجاجی مظاہروں کا 14 واں روز جاری ہے، ایرانی انسانی حقوق تنظیم کے دعوے کے مطابق دو ہفتے سے جاری...

بلوچ آزادی پسندوں کے اتحاد “بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کی سالانہ رپورٹ شائع،...

بلوچ راجی آجوئی سنگر ( براس) نے سال 2025 کے دوران اپنی عسکری اور تنظیمی سرگرمیوں پر مبنی سالانہ انفوگرافک رپورٹ جاری...