زیارت: فورسز کی گاڑی پر بم حملہ، تین اہلکار ہلاک و زخمی
بلوچستان کے علاقے زیارت میں نامعلوم افراد نے فورسز کی گاڑی کو بم حملے میں نشانہ بنایا ہے۔
تفصیلات کے مطابق زیارت کے علاقے...
کوئٹہ: طوفانی بارشیں، 7 افراد جاں بحق، نشیبی علاقے زیر آب
بلوچستان بھر میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں چھتیں گرنے اور دیواریں منہدم ہونے کے مختلفواقعات میں 3 خواتین سمیت 7 افراد جاں بحق...
بلیدہ: پاکستانی فوج کے ساتھ جھڑپ میں تین اہلکار ہلاک ہوئے – بی ایل...
بلوچستان لبریشن فرنٹ نے بلیدہ میں تین پاکستانی فوجی اہلکاروں کے ہلاکت کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا میں...
بلوچستان میں بارش نے تباہی مچا دی – تصاویر
بلوچستان بھر میں مون سون کی بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ کئی علاقوں میں مکانات منہدم ہوگئے جبکہ شہر پانی سے بھر گئے۔ بولان میں سیلابی ریلے میں...
گوادر میں پانی کی قلت، مظاہرین پر لاٹھی چارج
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پانی کی قلت برقرار، آج ایک بار پھر عوام نے احتجاج کرتے ہوئے مکران کوسٹل ہائی کو ٹریفک کے لیے بند...
عید کی چھٹیوں پر تربت جانے والے چار طالب علم جبری لاپتہ
کوئٹہ میں زیر تعلیم چار بلوچ طالب علم عید کی چھٹیوں پر گھر لوٹتے ہوئے رستے سے جبری گمشدگی کا شکار ہوگئے ہیں-
اطلاعات...
بولان اور کیچ میں فوجی آپریشن
بلوچستان کے ضلع کیچ اور بولان میں فوجی آپریشن جاری ہے جس میں پیدل فوجی دستوں کے علاوہ ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہےہیں۔
تفصیلات کے مطابق کیچ کے علاقے سامی، عمر کہن، شاپک، ڈن سر اور گردنواح کے پہاڑی سلسلے میں آج صبح سے فوجی آپریشن جاری ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق مذکورہ علاقے میں گولیوں اور گولوں کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں تاہم دیگر تفصیلات معلوم نہیں ہوسکے۔
دوسری جانب بولان کے علاقے مارگٹ میں فوجی آپریشن جاری ہے جس میں پیدل فوجی دستے بڑی تعداد میں حصہ لے رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بولان میں نامعلوم افراد نے پاکستانی فورسز کو بم حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ فورسز کو مارگٹ چونگی کے مقام پرنشانہ بنایا گیا جبکہ ذرائع دعویٰ کررہے ہیں کہ حملے میں فورسز کو نقصان کا سامنا رہا ہے تاہم نقصانات کے حوالے سے تاحال حکام کا موقف سامنےنہیں آیا ہے۔
کوہلو: خاتون کی مبینہ خودکشی، خاندان کا قتل کا الزام
تمبو کے علاقے ڈولاونگا میں مبینہ طور پر ایک خاتون نے خودکشی کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سب تحصیل تمبو کے علاقے ڈولاونگا میں علی حیدر نامی شخص نے انتظامیہ کو اطلاع دی ہے کہ انکے بیوی نےگلے میں پندھا ڈال کر خودکشی کرلی ہے-
لیویز ٹیم نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر اطلاع دینے والے خاتون کے شوہر علی حیدر کو خاتون کے کہنے پر گرفتار کرلیا ہے اور خاتون کیلاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کردیا ہے-
مبینہ طور پر خودکشی کرنے والی خاتون کے شوہر نے پولیس کو بتایا کہ اس نے دوسری شادی کرلی اور اسکی بیوی اس سے ناخوشتھی جس کے باعث اس نے اپنی جان لے لی، دوسری جانب خاتون کے ورثا نے الزام عائد کرتے ہوئے لیویز کو بتایا کہ خاتون نےخودکشی نہیں کی ہے ان کو قتل کیا گیا ہے-
کوہلو اسپتال انتظامیہ کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق خاتون کے گلے میں پندھے کے نشان واضح ہیں تاہم خاتون کے رشتہداروں کی جانب سے دائر خدشات پر پولیس مزید تحقیقات کررہی ہے-
خیال رہے کہ بلوچستان میں گھریلو جھگڑے اور غیرت کے نام پر خواتین کی قتل کے واقعات تواتر سے رپورٹ ہوتے رہےہیںجبکہ مذکورہ واقعات میں ملوث افراد میں سے بہت ہی کم تعداد کو قانون کے کٹہرے میں لائے گئے ہیں۔
اعداد شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایک ہزار سے زائدخواتین قتل ہوجاتے ہیں جن میں سے اکثریت کو غیرت کے نام پر قتلکردیا جاتا ہے-
دہشت گردی کیس میں گرفتار حسنین بلوچ قیدیوں کو پڑھاتے منظر عام پر آگئے
کوئٹہ میں ہدہ کے گلیوں اور تھڑوں سے نوجوانوں کو تعلیمی اداروں تک رسائی دینے والا حسنین بلوچ سینٹرل جیل کراچی میں بھی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے...
سندھ حکومت کی یقین دہانی کے بعد بھی لاپتہ افراد رہا نہیں ہورہے –...
کراچی پریس کلب کے سامنے مختلف اوقات میں کراچی سے لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین کا احتجاج آج نویں روز میں جاری رہا،جس میں خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔
آج احتجاج میں کراچی سے لاپتہ ہونے شعیب بلوچ کے لواحقین نے بھی شرکت کرکے کہا کہ طالب علم شعیب احمد ولد اعظم خان کوسندھ پولیس اور فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔ شعیب احمد کا تعلق ضلع خضدار کے علاقے نال سے ہے۔ وہ کراچییونیورسٹی میں داخلہ لینے کے خواہشمند تھے۔
اس موقع پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی آرگنائزر آمنہ بلوچ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سندھ حکومت لاپتہ افراد کی زیابی کےحوالے سے ہونے والے مذاکرات سے سنجیدہ نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ دو روز گزرنے کے باوجود ایک بھی لاپتہ فرد کی بازیابی نہیں ہوئی حالانکہ مذاکرات کا آغاز خود سندھ حکومت نےسندھ پولیس کے حکام کے ذریعے کیا تھا جس کا ہم نے خیر مقدم کیا تھا کیونکہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور بات چیت پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ زرداری حکومت جمہوریت کا نعرہ تو لگاتی ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتی ہے اگرمذاکرات ایک ڈھونگ تھا۔ تو ہم اس ڈھونگ کا مقابلہ سیاسی حکمت عملی سے کرینگے۔
آمنہ بلوچ نے کہنا تھا کہ لواحقین کو مجبور نہ کیا جائے کہ وہ دوبارہ سندھ اسمبلی یا وزیراعلیٰ ہاوس کے سامنے دھرنا دیں، ہماریپرامن تحریک کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔
آج احتجاجی کیمپ میں کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے لاپتہ ہونے والے عبدالحمید زہری، کراچی کے علاقے ملیر سے سعید احمدولد محمد عمر ، ماری پور سے لاپتہ ہونے والے محمد عمران، لیاری سے لاپتہ ہونے والے شوکت بلوچ، کراچی کے علاقے گلستان جوہرسے لاپتہ ہونے والے شعیب احمد اور رئیس گوٹھ کراچی سے لاپتہ ہونے والے نوربخش ولد حبیب کے لواحقین شامل تھے۔


























































