“دودا” اردو فلم بینوں کی عدم توجہی ۔ ذوالفقار علی زلفی

138

“دودا” اردو فلم بینوں کی عدم توجہی

تحریر : ذوالفقار علی زلفی

دی بلوچستان پوسٹ

پہلی بلوچی فلم “دودا” کو بلوچ فلم بینوں کی جانب سے خلافِ توقع زبردست رسپانس ملا ـ یہ فلم سینماز نہ ہونے کی وجہ سے ہنوز بلوچستان میں ریلیز نہیں کی گئی ہے ـ فلمی ٹیم بلوچستان کے مختلف شہروں میں ہال کرائے پر لے کر اسے دکھانے کا منصوبہ بنا رہی ہے ـ اسی طرح خلیجی ممالک اور مغربی بلوچستان کے سینماؤں میں ریلیز کا پروگرام بھی بنایا جارہا ہے ـ غالب امکان ہے اس کا وہاں بھی زبردست استقبال کیا جائے گا۔ ـ

فلم کے اوریجنل بلوچی ورژن کو جہاں زبردست کامیابی ملی وہاں اردو ڈب ورژن کو وہ توجہ نہیں ملی جس کی توقع باندھی جا رہی تھی ـ فلم کو سندھ، پنجاب اور کے پی کے درجن سے زائد سینماؤں میں اردو ڈب میں پیش کیا گیا لیکن ماسوائے کراچی کے اسے کسی اور جگہ پزیرائی نہیں ملی ـ اس متضاد رویے کے حوالے سے مختلف نظریات پیش کئے جا رہے ہیں۔ ـ

میں نے دو معتبر فلم ناقدین کے سامنے یہی سوال اٹھایا کہ فلم اردو ڈب میں کیوں ناکام رہی؟ ـ ان دونوں نے تقریباً ایک ہی بات کی ـ فلمی ٹیم نے اردو ورژن کی پروموشن میں کوتاہی کا مظاہرہ کیا، انہوں نے ایسا تاثر دیا جیسے یہ فلم صرف اور صرف بلوچی زبان میں ریلیز کی جارہی ہے جس کا نتیجہ اردو ورژن سے لاعلمی کی صورت نکلا اور پاکستانی فلم بینوں نے سینما گھروں کا رخ ہی نہ کیا۔ ـ

سینئر بلوچ فن کار شکیل مراد اردو فلم ناقدین کی اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے ـ ان کے مطابق ہم نے اردو ڈب ورژن کا بساط بھر پروپیگنڈہ کیا ، پاکستان کے بڑے فن کاروں جیسے میڈم سنگیتا اور جناب جاوید شیخ نے ویڈیو پیغامات دیے ـ انہوں نے فلم بینوں سے سینما گھر آنے کی اپیل بھی کی ، مختلف ٹی وی چینلز نے بھی خصوصی شوز کئے، سوشل میڈیا پر بھی اعلانات کئے گئے ـ کراچی میں اردو ورژن کو اردو بولنے والے فلم بینوں کی جانب سے اچھا رسپانس بھی ملا، مایوس کن صورت حال پنجاب کی رہی ہے۔ ـ

شکیل مراد پنجاب کے رویے کا کوئی ٹھوس جواب نہ دے سکے، انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ممکن ہے ہماری فلم پنجابی فلم بینوں کے متعین شدہ فلمی مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی ـ ایک سینئر بلوچ ہدایت کار نے دو ٹوک لہجے میں کہا کہ یہ پنجابی فلم بینوں کے تعصب کے سوا کچھ نہیں ہے ـ ان کے مطابق پنجابی فلم بین تو پاکستان کی اردو فلموں کو بھی پزیرائی نہیں بخشتے ایسے میں ایک بلوچی فلم کے اردو ڈب کو کہاں گھاس ڈالیں گے۔ ـ

ایک معروف بلوچ ادیب نے تعصب والے نظریے سے اختلاف رکھا ـ ان کے مطابق “دودا” فلمی ٹیم پنجاب تک اپنا تشہیری پیغام پہنچانے میں ناکام رہی ہے ـ کم وسائل رکھنے کی وجہ سے فلمی ٹیم لاہور، پنڈی اور فیصل آباد جیسے بڑے بڑے شہری مراکز تک اپنا پیغام نہیں پہنچا سکی ـ انہوں نے مزید کہا کہ ممکن ہے آئٹم نمبر اور بولڈ مناظر نہ ہونے کی وجہ سے بھی پنجابی نوجوانوں نے فلم کو فضول تصور کیا لیکن اہم ترین نکتہ یہی ہے کہ فلمی ٹیم ان تک پہنچنے میں ناکام رہی ہے ـ کراچی میں اردو ورژن کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ فلمی ٹیم کا کراچی سے تعلق ہونا ہے۔ ـ

نوجوان بلوچ دانش ور عابد میر نے “دودا” فلم کے ریویو میں بھی اس مسئلے کا مختصر ذکر کیا ہے ـ انہوں نے لکھا ہے کہ بلوچی فلم کو اردو میں ڈب کرنا اس فلم کو دوبارہ بنانے کے مترادف ہے جو محنت طلب ہے ـ ایسے میں اگر اردو ورژن کو توجہ نہ ملے تو بلوچ فلم سازوں کو آئندہ اس کام سے اجتناب برتنا چاہیے۔ ـ

بلوچ قوم پرستوں کا ایک حصہ تو شدت کے ساتھ اردو ڈب کا مخالف ہے ـ ان کے مطابق آئندہ فلم صرف بلوچی میں بننی چاہیے اگر کسی اور زبان میں ڈب کرنا ہو تو پہلی ترجیح براہوئی زبان کی ہونی چاہیے تاکہ خضدار، کلات اور مستونگ کے عوام کو بھی اس تجربے کا حصہ بنایا جاسکے ـ تاہم یہ قوم پرست بلوچستان میں سینما گھروں کی عدم موجودگی کے سنجیدہ مسئلے کا کوئی مستقل حل بھی پیش نہیں کر رہے۔ ـ

“دودا” فلم کی کامیابی نے بلوچ سینما کا در کھول دیا ہے ـ یقیناً اب اس جانب بھی بھرپور توجہ دی جائے گی لیکن سینما گھروں کی عدم موجودگی اور مختصر فلمی مارکیٹ کا حل کیا ہونا چاہیے؟ اس سوال کا جواب تاحال کسی کے پاس نہیں ہے۔ ـ


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں