بلوچ نیشنل فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان میں نام نہاد مردم شماری کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا بلوچستان کے حوالے سے مردم شماری کے نتائج طے شدہ ہیں۔ اس مردم شماری سے پہلے جن خدشات کا اظہار ہم نے کیا تھا، وہ حقیقت ثابت ہورہے ہیں۔ ریاست محکوم قوموں کی افرادی قوت کو کم ظاہر کرنے کے لئے مشینری کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ریاست کی پالیسیاں بلوچوں کے حوالے سے جارحانہ تھیں، لیکن اس مردم شماری میں سندھ کی آبادی کو بھی حقیقت سے کم دکھا کر ریاست یہ ثابت کررہی ہے کہ پاکستان ایک وفاق نہیں بلکہ پنجابی مقتدرہ کی ریاست ہے، ریاست کی تمام فرائض کا دائرہ صرف سرمایہ دار طبقے کے مفادات اور چند توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والے ممالک کی مفادات کی تحفظ تک محدودہے۔ بلوچ نیشنل فرنٹ کے ترجمان نے کہا کہ بلوچوں کے لئے مردم شماری کے نتائج غیر متوقع نہیں تھے، لیکن سندھیوں اور دیگر قومیتوں کو یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینی چاہیے کہ اگر عام لوگ اپنے لئے خوشحالی اور اپنے قومی مستقبل کا تحفظ چاہتے ہیں تو انہیں پنجابی مقتدرہ اور اس کے مقامی ایجنٹوں کے قبضے سے ہر صورت آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام ایک واضح موقف اور مشترکہ مقصد آزادی کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، اس لئے مردم شماری، عام انتخابات یا دوسرے ایسے ڈرامہ جو ریاست محکوم قوموں کو دھوکہ دینے کے لئے رچاتی ہے، بلوچستان میں ان کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ مردم شماری کے دوران بلوچستان کے نصف سے زیادہ حصے پر مردم شماری عملے کے ارکان پہنچ نہ سکے، جہاں پہنچ سکے وہاں عوام نے ان کی مدد نہیں کی۔ لیکن بلوچستان کے حوالے سے مردم شماری کے نتائج پہلے سے طے شدہ تھے، قابض کا مقصد یہی ہے کہ بلوچستان کی آبادی کو کم ظاہر کرکے بلوچ زمین پر غیروں کی آبادی کاری کے لئے جواز فراہم کیا جا سکے۔ بی این ایف نے پارلیمانی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے لیڈران یہ حقیقت جانتے ہوئے بھی کہ پاکستانی قبضے میں قومی ترقی و تشکیل ممکن نہیں، اس کے باوجود مصلحت پسندی کا شکار ہوکر یا خاندانی مفادات کے تحفظ کے لئے پاکستانی پارلیمنٹ میں نجات کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں، جو کہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے مترادف ہے۔بلوچ نیشنل فرنٹ کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں ایک دہائی سے زائد کے عرصے سے جاری شدید ترین فوجی جبر سے لاکھوں خاندان در بہ در کیے جا چکے ہیں، ہزاروں قتل و لاپتہ کیے جا چکے ہیں۔ آپریشن اور قتل عام کی یہ کاروائیاں بلا تعطل جاری ہیں۔ گزشتہ روز ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں پاکستان فوج کی فضائی شیلنگ کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت دس افراد کو شہید کردیا گیا۔جن میں خواتین بھی شامل ہیں ۔ چار خواتین کو زخمی حالت میں اُٹھا کر لاپتہ کیا گیا ہے۔ شہید ہونے والوں میں اب تک لیمو مری، مینو بی بی، بی بی مٖخمل، بی بی بانو، ختخان، اور جعفر مری کی شناخت ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ دشت اور مکران کے دوسرے علاقوں میں بھی فورسز نے بمباری اور شیلنگ کی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ریاست دوسرے ممالک میں دہشتگردی پھیلانے کے لئے مذہبی شدت پسند گروہوں کا سہارا لیتی ہے، لیکن بلوچستان میں ان گروہوں کی استعمال کے ساتھ ساتھ ریاست کی فوج باقاعدہ قتل عام میں مصروف ہے۔ نسل کشی کی عالمی تعریف کے مطابق یہ کاروائیاں نسل کشی کے ضمرے میں آتے ہیں، نسل کشی کی ان کاروائیوں کی روک تھام کے لئے اقوام متحدہ کو فوری کردار ادا کرنا چاہیے۔
تازہ ترین
پروفیسر غمخوار حیات کو خراجِ عقیدت؛ کوئٹہ اور نصیر آباد میں شمعیں روشن، تقریبات...
پروفیسر غمخوار حیات کی علمی اور ادبی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کوئٹہ اور نصیر آباد میں...
جبری گمشدگیاں غیر آئینی و غیر اخلاقی عمل، ریاستی جبر کے باوجود آوازیں دبائی...
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنماء ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا ہے کہ جبری گمشدگیاں خود ایک غیر آئینی، غیر قانونی اور...
پنجگور: 21 سالہ ڈرائیور 66 روزہ جبری گمشدگی کے بعد قتل۔ بی وائی سی
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ محسن، ولد مسلم، 21 سالہ محنت کش ڈرائیور سکنہ پروم، ایک غریب گھرانے سے تھا...
خضدار، ہرنائی، دالبندین: مرکزی شاہراہوں مسلح افراد کا کنٹرول، متعدد گاڑیاں نذرآتش
بلوچستان کی مرکزی شاہراہوں پر مسلح افراد کا کنٹرول، گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ، معدنیات لیجانے والی متعدد گاڑیاں نذرآتش
آج صبح خضدار کے علاقے ونگو...
جھل مگسی: پولیس تھانے پر حملہ، چوکی نذرِ آتش، پولیس اہلکار زیر حراست
مسلح افراد اور جھل مگسی پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات، حملہ آوروں نے پولیس چوکی کو نذرِ آتش کردیا جبکہ فورسز گاڑی کو...














































