ماما سکندر کرد – سید محبوب شاہ
ماما سکندر کرد
تحریر: سید محبوب شاہ
دی بلوچستان پوسٹ
یہ 27 اگست 2016 کی سرد صبح تھی۔ میں قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول تھا کہ اتنے میں میرے موبائل کی...
کوئٹہ: اسپتالوں میں سہولیات کے فقدان کے خلاف ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج
ینگ ڈاکٹر ایسویس ایشن کے صدر ڈاکٹر یاسر خان خوستی نے کہا ہے کہ حکومت سرکاری ہسپتالوں میں صحت کی تمام سہولیات فراہم کرے ورنہ وائی ڈی اے ہسپتالوں...
کیچ :کولواہ میں مسلح افراد کا فورسز چوکی پر حملہ
کیچ میں فورسز چوکی پر حملہ.
دی بلوچستان پوسٹ کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نےکولواہ شاپکول فورسز کی پر حملہ کیا .
مسلح افراد نے یہ حملہ...
مات ءِ دلبڈی – شاہ بلوچ شاہ
مات ءِ دلبڈی
نبشتہ کار: شاہ بلوچ شاہ
دی بلوچستان پوسٹ
اگاں راستی ءَ من بہ گْوش آں دو ءُ سے ماہ بیت کہ دُراھیں گیدی یک ٹوھیں نادراھی یے ءَ گورجتگ...
تربت: جبری لاپتہ افراد کے لواحقین نے کل اجلاس طلب کرلیا
بلیدہ زامران سمیت ضلع کیچ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے جبری لاپتہ افراد کے لواحقین نے کل اجلاس طلب کرلیا ہے ۔
ایرانی فورسز کی فائرنگ کمسن بلوچ بچی زخمی
مغربی بلوچستان کے علاقے چابہار میں ایرانی فورسز کی فائرنگ سے بلوچ لڑکی زخمی ہوگئی۔
اطلاعات کے مطابق لڑکی کی شناخت در دانگ رضوی...
اگر زندہ ہوتا کہانی لکھتا – اسد بلوچ
اگر زندہ ہوتا کہانی لکھتا
تحریر: اسد بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
یہ صبح صادق کا وقت ہے اور میں دو دنوں سے معمولی ہواؤں کے باعث بجلی کے کئی کھمبے گرنے کی...
پنجگور: اسکولوں میں داخلہ مہم کے حوالے سے واک
پنجگور کے علاقے خدابادان میں گورنمنٹ بوائز ہائیر سیکنڈری سکول خدابادان کی جناب سے تعلیمی سلسلے میں ایک واک کا اہتمام کیا گیا جس کی قیادت اسکول کے ہیڈ...
کوئٹہ لاپتہ افراد کے لواحقین کا دھرنا احتجاجی مظاہرہ
زیارت آپریشن و جعلی مقابلے کے خلاف بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا گورنر ہاؤس کے سامنےدھرنے کو اٹھائیس دن مکمل ہوگئے۔
آج لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے منو جان چوک سے گورنر ہاؤس تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین نے گذشتہ روز کوئٹہ کے مختلف مقامات پر احتجاجی کیمپ پر قائم ہوئے تھیں جہاں سے آج لواحقین نےدھرنے کے مقام پر گورنر ہاؤس تک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا، ریلی میں لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ بڑی تعداد میں دیگرسیاسی جماعتوں، طلباء تنظیموں کے کارکنان شریک ہوئے-
لاپتہ افراد کے لواحقین گذشتہ اٹھائیس روز سے دھرنے پر بیٹھے ہوئے لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں-
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے لواحقین کا کہنا تھا کہ حکومتی غیر سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ گذشتہ چار ہفتوں سے لاپتہ افراد کےلواحقین جن میں بچے اور ضعیف خواتین شامل ہیں، دھرنا دیئے ہوئے ہیں لیکن حکمران دس قدم چل کر انکے مطالبات سننے کے لئےراضی نہیں ہیں-
لواحقین کا کہنا تھا کہ دھرنا پچھلے مہینے 21 جولائی سے شروع کیا گیا جو کہ تاحال جاری ہے اس حوالے سے ہمارے تین مطالباتتھے پہلا زیارت واقعہ پر ایک جوڈیشل انکوائری تشکیل دیا جائے، دوسرا لاپتہ افراد کے لواحقین کو یہ یقین دہانی کروائی جائے کہ انکے پیارے اس طرح کے جعلی مقابلے میں مارے نہیں جائیں گے، تیسرا لاپتہ افراد کے بازیابی کو ممکن بنایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ پہلا مطالبہ زیارت واقعہ پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا لیکن ہم واضح کرتے ہیں کہ اس پر ابھی تک آگے کام نہیںہوا ہے نہ ہی متاثرہ فیملی سے کوئی رابطہ ہوا ہے اور نہ ہی لاشوں کی ڈی این اے اور پوسٹ مارٹم وغیرہ کی بات کی گئی ہے جو کہہم سمجھتے ہیں عدالت عالیہ کی اور جوڈیشل کمیشن میں منتخب معزز جج کی غیر سنجیدگی کو واضح کرتی ہے۔
بلوچستان میں 16 سو سے زائد اسکول محض کاغذوں میں موجود، تعلیمی ادارے بنیادی...
بلوچستان میں 16سو سے زائد سرکاری سکول محض کاغذوں میں موجود ہیں، تعلیمی ادارے تمام سہولیات سے محروم ہیں۔
بلوچستان میں تعلیمی ایمر جنسی پر اربوں روپے خرچ کرنے کے...


























































