کیچ میں خاتون قتل

بلوچستان کے ضلع کیچ میں گذشتہ شب پیش آنے والے ایک واقعہ میں خاتون پر حملہ کرکے اس کو قتل کردیا گیا ہے۔ واقعہ ضلع کیچ کے علاقے مند لبنان میں پیش آیا ہے، پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ رات لبنان مند میں مشتبہ ملزمان نے چھریوں سےوار کرکے مسماۃ ( م )سکنہ پھل آباد تمپ کو قتل کردیا ہے۔  مند پولیس کا کہنا ہے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے تاہم پولیس نے ملزمان کیشناخت میڈیا میں ظاہر نہیں کی ہے۔ علاقائی ذرائع کے مطابق مند لبنان کے رہائشی عبدالرسول ولد غلام رسول سکنہ لبنان نے...

دکی: کوئلہ کان میں گیس بھرنے سے کانکن جانبحق، ایک بے ہوش

دکی مقامی کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھرنے کے باعث دم گھٹنے سے ایک کانکن جان بحق جبکہ ایک بے ہوش ہوگیا- ہسپتال ذرائع...

دنیا میں کہیں بھی نیا نشہ پیدا ہو اسے مختصرمدت میں بلوچستان میں پہنچا...

بلوچ نیشنل موومنٹ کے آواران اور منسلک ھنکینان کے ممبران نے 26 جون کو منشیات اور اس کی اسمنگلنگ کے خلاف عالمی دن اور تشدد سے متاثرہ...

کراچی: لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج جاری، پولیس کے ساتھ مذاکرات

جمعہ کے روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی آرگنائزر آمنہ بلوچ کی قیادت میں کراچی سے لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین کے ہمراہ سندھ پولیس کے...

جبری گمشدگی کا دورانیہ اذیت ناک لمحہ تھا – حفیظ بلوچ

لاپتہ بلوچ طالب علم حفیظ بلوچ منظر عام پر آنے کے بعد ضلع نصیر آباد کے سینٹرل جیل میں تھے، عدالت سے بریت کے بعد گذشتہ روز...

خضدار: نامعلوم افراد کی فائرنگ، ایک شخص ہلاک

بلوچستان کے ضلع خضدار میں بروز جمعہ نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو ہلاک کردیا۔ فائرنگ کا واقعہ خضدار کے علاقے کھنڈ رسول آباد میں پیش آیا جہاں فائرنگ کے واقعہ میں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت حاجیخان میراجی کے نام سے ہوا ہے۔  لاش کو اسپتال منتقل کرکے ضابطے کی کاروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کیا گیا، تاہم واقعہ کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکےہیں۔  خیال رہے کہ چوبیس گھنٹے کے دورانیہ میں خضدار میں فائرنگ کے دو واقعات میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں، گذشتہ روز خضدار کےعلاقے زہری میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص مارا گیا تھا جسکی شناخت عبداللہ کے نام سے ہوئی جس  کا تعلق خضدارکے علاقے مولہ سے بتایا جارہا ہے۔

بلوچستان کے رہائشی چھ افراد سندھ سے لاپتہ

پاکستانی فورسز نے سندھ کے مختلف علاقوں سے چھ بلوچوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا ہے۔ لاپتہ ہونے والوں کی شناخت مٹھا ولد نصیر، حمید ولد موسیٰ، نوکاپ ولد درمحمد، وڈیرہ ولد درمحمد، اسماعیل ولد زرک اور موریا ولدزرک کے ناموں سے ہوئی ہے۔ مذکورہ افراد کو سندھ کے علاقے جیکب آباد اور خیرپور سے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا جسکے بعد وہ لاپتہ ہیں۔ خیال رہے کہ بلوچستان و دیگر علاقوں سے جبری گمشدگیوں کے رکنے والا سلسلہ جاری ہے، دوسری جانب اس وقت کراچی، کوئٹہ اورتربت میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے احتجاج بھی جاری ہے۔

عبدوئی سرحد بندش: بھوک و پیاس سے ایک ڈرائیور جانبحق

عبدوئی سرحد پہ پھنسنے کی وجہ سے ضلع کیچ کے علاقے ہوشاپ کے رہائشی فقیر جان ولد دلدار وفات پاگئے۔  تفصیلات کے مطابق گذشتہ کئی دنوں سے عبدوئی سرحد پر تیل کے کاروبار سے منسلک گاڑیوں کو پاکستانی فورسز کی جانب سےروکے رکھا گیا ہے، پہاڑی و گنجان علاقہ ہونے کی وجہ سے لوگ بے یارومدگار تپتی دھوپ میں اذیتیں سہہ رہے ہیں۔ تیل کے کاروبار سے منسلک ہزاروں افراد کو خوراک کی قلت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ اس ڈرائیور فقیر جان اپنی جان کی بازی ہارگیا ہے۔ خیال رہے کہ مغربی و مشرقی بلوچستان میں روزگار کے موقع نہ ہونے کی وجہ سے اکثر نوجوان تیل کے کاروبار سے وابسطہ ہیںجہاں فورسز کی سختیاں ہر روز بڑھتی جارہی ہیں جن کی وجہ سے اکثر اس نوعیت کے واقعات رونماء ہوتے آرہے ہیں۔  رواں سال اپریل کے مہینے میں بلوچستان کے سرحدی علاقے چاغی میں پاکستانی فورسز نے فائرنگ کرکے حمید نامی ڈرائیور کو قتلکردیا جبکہ متعدد گاڑیوں کو ریگستان میں ناکارہ کرکے ڈرائیوروں کو پیدل چھوڑ دیا گیا جس سے مزید ڈرائیور جانبحق ہوئیں۔ واقعہ کے خلاف مظاہرہ کرنے والے مظاہرین پر بھی فورسز کی فائرنگ سے آٹھ افراد زخمی ہوئے تھے۔ اسی طرح گذشتہ سال مغربی و مشرقی بلوچستان کو جدا کرنے والی گولڈ سمتھ لائن پہ ایرانی سرحدی فورسز نے فائرنگ کرکے تیسسے زائد لوگوں کو قتل کیا تھا۔

ایک سال قبل میرے کمسن بیٹے کو حراست میں لیا گیا جو تاحال لاپتہ...

بلوچستان ضلع کیچ کے رہائشی علی محمد کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال جون میں اس کے کمسن بیٹے کو سادہ کپڑوں میں ملبوساہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے جس کے حوالے سے ایک سال سے کوئی خیر خبر موصول نہیں ہواہے۔ ضلع کیچ کے علاقے گورکوپ جمک کے رہائشی علی محمد کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لئے ہر دروازے پہ دستک دیہے تاہم ہر جگہ ناامیدی کے علاوہ کچھ ہاتھ میں نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ میرا تیرہ سالہ بیٹا طالب علم ہے جنہیں گذشتہ سال 26 جون کو تربت کے علاقے زیارت سر سے حراست میں لیا جسکے بعد پولیس تھانہ میں ایف آئی آر درج کیا ہر طرح کی کوشش کی تاہم کہیں سے بھی کوئی خبر خیر موصول نہیں ہوئی۔ خیال رہے کہ گذشتہ سال ضلع کیچ کے علاقے زیارت سر سے مذکورہ کمسن لڑکے کے ہمراہ ایک گیارہ سالہ بچہ بختیار کو بھیحراست میں لیا گیا تھا۔

نیشنل پارٹی ساحل اور وسائل کی محافظ جماعت ہے – ڈاکٹر مالک

نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی بلوچستان کے وسائل اور ساحل کی محافظ جماعت ہے...

تازہ ترین

بولان: مسلح افراد کے ہاتھوں تین مزدور اغواء

بولان کے علاقے سے نامعلوم مسلح افراد نے 3مزدوروں کو اغواء کرلیا۔ بولان پولیس کے مطابق بولان کے...

کوئٹہ: بلوچستان سے جبری گمشدگیوں کے خلاف ‏وی بی ایم پی کا احتجاج کیمپ...

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام احتجاجی کیمپ کو تنظیم کے چیرمین نصراللہ...

کوئٹہ احتجاج، درجنوں سرکاری ملازمین گرفتار

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے درجنوں سرکاری ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

نصیر آباد میں بجلی کے دو ٹاورز کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول...

بلوچ ریپبلکن گارڈز کے ترجمان دوستین بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ شب بلوچ ریپبلکن گارڈز...

تربت: جبری لاپتہ نوجوان کے لواحقین کا احتجاج، سی پیک ایم 8 شاہراہ بند

کیچ کے علاقے تجابان، کرکی میں جبری لاپتہ نوجوان کے لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے سی پیک ایم 8 شاہراہ (تربت۔ کوئٹہ روڈ) بند...