ایک سال قبل میرے کمسن بیٹے کو حراست میں لیا گیا جو تاحال لاپتہ...
بلوچستان ضلع کیچ کے رہائشی علی محمد کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال جون میں اس کے کمسن بیٹے کو سادہ کپڑوں میں ملبوساہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے جس کے حوالے سے ایک سال سے کوئی خیر خبر موصول نہیں ہواہے۔
ضلع کیچ کے علاقے گورکوپ جمک کے رہائشی علی محمد کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لئے ہر دروازے پہ دستک دیہے تاہم ہر جگہ ناامیدی کے علاوہ کچھ ہاتھ میں نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ میرا تیرہ سالہ بیٹا طالب علم ہے جنہیں گذشتہ سال 26 جون کو تربت کے علاقے زیارت سر سے حراست میں لیا جسکے بعد پولیس تھانہ میں ایف آئی آر درج کیا ہر طرح کی کوشش کی تاہم کہیں سے بھی کوئی خبر خیر موصول نہیں ہوئی۔
خیال رہے کہ گذشتہ سال ضلع کیچ کے علاقے زیارت سر سے مذکورہ کمسن لڑکے کے ہمراہ ایک گیارہ سالہ بچہ بختیار کو بھیحراست میں لیا گیا تھا۔
نیشنل پارٹی ساحل اور وسائل کی محافظ جماعت ہے – ڈاکٹر مالک
نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی بلوچستان کے وسائل اور ساحل کی محافظ جماعت ہے...
مالک ترین کی بطور وائس چانسلر تعیناتی، پنجگور یونیورسٹی کی تالہ بندی
جامعہ مکران میں وائس چانسلر کی تعیناتی کا معمہ حل نہیں ہوسکا، طلباء کا احتجاج جاری ہے-
ملران یونیورسٹی پنجگور کیمپس میں نئے وائس...
کوٸٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف مظاہرہ، پیاروں کو منظر عام لایا جائے۔لواحقین
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعرات کے روز پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرے اہتمام جبری لاپتہ ہونے والے نوجوان شہزاد بلوچ...
تربت: حق دو تحریک کارکنان کی گرفتاری کے خلاف گوادر سمیت مکران بھر میں...
جمعرات کے روز بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں لیویز فورس کی جانب سے حق دو تحریک، انجمن تاجران اور ٹرانسپوٹرز کی گرفتاریوں کے...
کراچی: لاپتہ افراد کے لواحقین کا بھوک ہڑتالی کیمپ جاری
کراچی میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے قائم علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ آج بھی جاری رہا- جبری گمشدگی کے شکار بلوچوں کے لواحقین شریک...
طالب علم حفیظ بلوچ کو انسداد دہشت گردی کورٹ نے باعزت بری کردیا۔
بلوچ طالب علم حفیظ بلوچ کو ماورائے عدالت کیس زدوکوب کرکے غائب کردیئے گئے ،جعلی ایف آئی آر اغواء کے بعد انکے خلاف درجکرائی گئ۔آج بمورخہ تیس جنوری کو...
لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4688 دن ہوگئے
کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4688 دن ہوگئے، آج اظہارِ یکجہتی کرنےوالوں میں پی ٹی ایم کے رہنماء آغا زبیر شاہ، جلال خان کاکڑ، نور آغا اور دیگر شامل تھے۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ پاکستانی ریاست کی جانب سے جبری گمشدگیوں اور بلوچنسل کشی میں اضافہ ہو گیا ہے، کراچی میں بلوچ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین پچھلے چھ دنوں سے کراچی پریس کلب کے سامنےمسلسل احتجاج پہ بیٹھے ہیں، ان کو حسب دستور ملکی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا مکمل نظر انداز کر رہا ہے، انکے پیاروں کو پی پیپی کی سندھ حکومت کی مدد سے کراچی رینجرز، سی ٹی ڈی اور خفیہ ایجنسیوں نے اٹھا کر جبری لاپتہ کر دیا ہے، ان کا ایک آئینیمطالبہ ہے کہ انکو پیاروں کو منظر عام پر لایا جائے، کراچی کے مختلف علاقوں سے بلوچوں کی جبری گمشدگیوں میں کافی اضافہدیکھا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ سے گزشتہ دنوں جبری لاپتہ کیے گئے چار طلباء کے لواحقین سخت پریشان ہیں، انکی بازیابی کیلئے مہممیں حصہ لیں اور تمام بلوچوں کی جبری گمشدگی اور انکی بازیابی کیلئے لواحقین کا ساتھ دیں۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالی ادارے اور میڈیا ہاؤسز بلوچ جبری گمشدگیوں اور بلوچستان میں انسانی حقوق کے سنگینخلاف ورزیوں سے آگاہ ہیں، انہیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، لیکن افسوس ہے کہ سب نے آنکھیں بند کرکے مجرمانہ خاموشی اختیارکیا ہوا ہے، ہماری مائیں بہنیں بچے جب تک سڑکوں پہ گھسیٹے نہیں جاتے ہیں تب تک ہماری نیوز ہی نہیں چلتی ہے نا الیکٹرانک میڈیاپہ کوئی سائٹ پہ ہم میڈیا کے تمام ملکی اور بین الاقوامی اداروں سے اور انسانی حقوق کے تنظیموں سے ایک بار پھر اپیل کرتے ہیںکہ وہ اپنی مجرمانہ خاموشی توڑ کر بلوچستان اور کراچی سے جبری گمشدگیوں کے خلاف ہماری آواز بنیں اور ہمارے پر امناحتجاج کو دنیا کے سامنے لانے میں مدد کریں -
مستونگ: فورسز کا گھر پر چھاپہ، ایک شخص لاپتہ
مستونگ میں فورسز نے گھر پر چھاپے کے دؤران ایک شخص کو حراست بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے-
تفصیلات کے مطابق بلوچستان...
زامران حملے میں کیپٹن سمیت چھ اہلکار ہلاک و زخمی کئے۔ بی ایل ایف
بلوچستان لبریشن فرنٹ نے ضلع کیچ کے علاقے زامران، نہنگ تنک میں پاکستانی فوج کے چار فوجی اہلکاروں کے ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔


























































