بلوچستان میں پنجابی سمگلنگ کا المیہ – حمّل بلوچ

36

بلوچستان میں پنجابی سمگلنگ کا المیہ

تحری: حمّل بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان میں پنجاپی حکومت کی ظلم و بربریت کی داستان اتنی طویل ہے کہ اسے بیان کرتے کرتے کہیں لوگ اپنی بلوچی روایات جیسے بہادری شجاعت اور دشمن کو للکار کر تہہ تیغ کرنا بھول جاتے ہیں اور خود کو صرف ایک غلام قوم کی حیثیت سے خاموش اور دشمن کی ہر پالیسی کے سامنے بے بس پاتے ہیں۔ یہی نقطہ بی ایل اے کے کماش بشیر زیب بلوچ نے بھی اپنی کتاب ‘موکش’ میں خوب بیان کیا ہے کہ مظلومیت کی سوال اپنی جگہ برحق اور ناقابل انکار ہے مگر مظلومیت کسی قوم کے افراد کی دل و دماغ پر اس طرح ہاوی نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنی ہر ناکامی یا ہر برے عمل کو مظلومیت کا بہانہ بناکر ٹال دیں یا دشمن کے ہر آن میں آن ملانے کو اپنی مجبوری سمجھ کر اپنی شناخت طاقت اور بلوچی روایات کو بھول جائے۔

اگر اسی نقطے کو لیکر ہم آگے بڑھے تو معلوم ہوگا کہ آج بلوچ قوم مظلومیت و محکومیت کی اس سوچ سے بالکل باہر آ چکے ہیں جو اسے دشمن کے سامنے سر جھکانے پر مجبور کریں یا اپنی ہر ناکامی بے بسی کو غلامی اور مظلومیت کا نام دے کر ٹال مٹول کریں۔ تاہم چند دلالوں نے بلوچی ایمان اور فکرِ فدا کو بیچ کر پیسے اور مال و دولت کو اپنا ایمان بنا ڈالا ہے ان کا حساب باقی ہے۔

مگر آج جو مجبور ہے وہ پنجاپی اور اس کے دلار ہے۔ آج جس پر بلوچستان کی سرزمین تنگ ہے وہ پنجاپی اور اسکے دلال اور وہ بلوچ ایمان فروش ہے جنہوں نے چند پیسوں کے عوض اپنی بلوچ بہن بھائیوں کی عزت اور جان کی لاج بھی نہیں رکھی۔ آج بلوچ ایک غلام اور محکوم قوم ہوتے ہوئے بھی سر تانے کھڑا ہے۔ اور پنجاپی اور اسکے دلال سر جھکائے بسوں کے بیٹھک سیٹ کے نیچے سفر کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ مگر یہ بھی ایک المیہ ہے کہ چند پیسوں کے عوض بلوچ اپنی سرزمین گوادر و پسنی اور شال تک پنجاپی دلالوں کو چھپاکر سمگل کرتے ہیں۔

ایک بس ڈرائیور سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہا تھا کہ سمگلنگ کے بغیر ہمیں بچت نہیں ہوتی اس لئیے کبھی تیل، منشیات یا تو پنجاپیوں کی سمگلنگ کرتے ہیں۔ پنجاپی لٹیروں افسروں اور فوجیوں کی سمگلنگ میرے لئے کافی حیران کن تھی اس لئے بارہا پوچھنے پر معلوم ہوا کہ پنجاپی فوجی، بیوروکریٹس و دیگر کراچی تا گوادر بسز کے نیچے خانوں میں بھیڑ بکریوں کی مانند گھس کر سفر کرتے ہیں جن سے کوچ مالکان ہزاروں روپے کرایہ وصول کرتے ہیں۔ اسی طرح شال کیلے بھی کوچ مالکان پنجاپیوں کی سمگلنگ کرکے انہیں بحفاظت شال یا پنجاپ پہنچاتے ہیں۔

المیہ یہ نہیں کہ کوچ مالکان دوگنا یا دس گناہ زیادہ کرایہ وصول کر رہے ہیں بلکہ المیہ یہ ہے کہ پنجاپی جسے بلوچستان سے نکال باہر کرنے کا ایک قومی فیصلہ لیا جا چکا ہے اسی کو چند پیسوں کے عوض بلوچ سرزمین پر استحصال کرنے بحفاظت پہنچایا جاتا ہے۔
بلوچستان لبریشن آرمی و دیگر مسلحہ تنظیمیوں کی اس پر کھڑی نظر ہونی چاہئیے کہ کوئی بھی پنجاپی بلوچستان سمگل ہوکر نا آ سکیں وگرنا گوادر کی آدھی آبادی سیٹلرز ہونے کا خدشہ بھی رہے گا اور پنجاپیوں کی موجودگی میں بلوچستان اور بلوچ قوم کی سائل و وسائل کی استحصال کا اندیشہ بھی۔

یاد رہے پاکستانی مقبوضہ بلوچستان میں پنجاپی فوج کی خواہش یہیں ہے کہ بلوچستان میں بلوچ آبادیوں کو اقلیت میں تبدیل کرکے اہم بلوچ شہروں جیسے گوادر پسنی شال و دیگر پر اپنی گرفت مضبوط کریں جس طرح ماضی میں کوہ سلیمان کے دامن میں ڈیرہ غازی خان، اسماعیل خان اور تونسہ جیسے بلوچ اکثریت علاقوں کے ساتھ کر چکے۔

عجیب بات یہ ہے کہ جس سرزمین پر پنجاپی اپنی حاکمیت برقرار رکھنے کیلئے بلوچوں کو تقسیم کرنے کا آلہ استعمال کرتا تھا، نوجوانوں کو لاپتہ یا شہید کرکے چھپ کروایا جاتا تھا آج اسی گلزمین پر پنجاپی بھیڑ بکریوں کی طرح سر نیچے کئے ہوئے آنکھوں میں خوف لیکر سفر کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا واحد ثبوت ہے کہ بلوچ محکوم و مظلوم ہوتے ہوئے بھی اپنی طاقت اور نسلی روایات یعنی جرات و شجاعت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اور پنجاپی ایک قبضہ گیر چور اور لٹیرہ قوم ہے جو بلوچستان میں سمگل ہوتے ہوئے پایا جاتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔