بندوق صرف سرمچاروں کے ساتھ جچتی ہے – فرحان بلوچ

64

بندوق صرف سرمچاروں کے ساتھ جچتی ہے

تحریر: فرحان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

آج جس سنگت کے بارے میں لکھ رہا ہوں، وہ کوئی اور نہیں بلکہ اپنا ساربان ہے۔ ہاں، وہ پنجگور کا عبداللہ تھا۔ وہ عبداللہ جس نے اپنے والدہ سے اپنے چھوٹے بھائی کی پیدائش پر کہا اما جان اپنے بیٹے کا نام عبداللہ رکھو۔ اما حیران ہو کر کہنے لگیں میرا بیٹا عبداللہ تو تم ہو، پاگل کیوں ایسی باتیں کرتے ہو؟

تو عبداللہ نے کہا اما جان، نہیں۔ میں تو جاؤں گا اور بلوچستان کے لیے قربان ہو جاؤں گا۔ میں آپ کا وہ عبداللہ نہیں رہا، میں اب زمین کا ساربان ہوں، اور ایک دن خود کو اسی زمین پر قربان کر دوں گا۔ اس لیے اپنے اس بیٹے کا نام عبداللہ رکھو جو آپ کے پاس رہے اور مجھے یوں سمجھیں کہ میں کبھی پیدا ہی نہیں ہوا۔

آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ سن کر اس ماں پر کیا گزری ہوگی۔

عبداللہ ایک انقلابی ہیرو تھا۔ وہ ایک وجودی انتخاب کا نام تھا۔ اُس نے یہ فیصلہ کر رکھا تھا کہ وہ حالات کا پیدا کردہ کردار نہیں بنے گا، بلکہ اپنی خاموشی اور مسلسل عمل سے تاریخ میں امر ہو جائے گا۔

وہ کہتا تھا: “جو انسان خود سے سوال نہیں کرتا، وہ کسی نظام کو بھی چیلنج نہیں کر سکتا۔ اور انقلابی وہ نہیں جو اعلان کرے کہ وہ کون ہے، بلکہ وہ ہے جو خاموشی سے یہ ثابت کرے کہ وہ کیا بننے سے انکار کر چکا ہے۔”

ہاں، عبداللہ نے خاموشی سے یہ ثابت کر دیا کہ اُس نے غلامی میں جینے سے انکار کیا اور آزادی کے لیے موت کو ترجیح دی۔

عبداللہ ہر وقت یہ کہتا تھا کہ بلوچ جدوجہدکار کے پاس عظیم مقصد یعنی آزادی موجود ہے، اور خوش نصیب ہے وہ نسل جو اس میں آسانی سے شریک ہو سکتی ہے اور اپنا فرض ادا کر سکتی ہے۔ جدوجہدکار کی زندگی اُس کی موت کے بعد شروع ہوتی ہے، اور جب تک بلوچ کی بندوق کی آواز بلوچستان میں گونجتی رہے گی، تب تک ہر وہ ساتھی جو قربان ہوا ہے، وہ زندہ ہے۔

وہ اپنے دوستوں میں “عبدو” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ دوست اسے کبھی عبداللہ کہہ کر نہیں پکارتے تھے۔ یوں سمجھیں جیسے دوست جانتے ہی نہ ہوں کہ عبدو کا اصل نام عبداللہ ہے۔

عبدو کی خوبصورتی بولان کے چشموں، چلتن کی اونچائی، خاران کے ریگستان، دشت کے میدان، شال کے موسم، پنجگور کی کھجور، خضدار کے ملا چوٹوک، مُرید کی شاعری، میر احمد کی آواز، شارل کی مسکراہٹ، جیہند کے حملے، ریحان کی سمُل، رشید کی مریم، برزکوہی کی تحریر اور استاد اسلم کی رہبری جیسی تھی۔

ساربان یار مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب میں تم اور چیئرمین سفیان شور کے پہاڑوں میں ایک ساتھ سفر کر رہے تھے تو تم نے کہا تھا
میری خواہش ہے کہ ایک دن چیئرمین سفیان کی طرح سی پیک روڈ پر ناکہ بندی میں دشمن کا فرنٹ لائن پر مقابلہ کروں اور یہ باور کرا دوں کہ بلوچستان کی شاہراہوں پر صرف بلوچ سرمچار ہی گھوم سکتے ہیں۔ جو بھی دشمن یہاں آئے گا، اس کا سامنا عبداللہ جیسے کسی سرمچار سے ہوگا جو وطن کے لیے قربان ہونے نکلا ہے۔

تم یہ بھی کہتے تھے کہ دشمن کی تنخواہ پر لڑنے والے لوگ عبداللہ جیسے سرمچار کو دیکھ کر بھاگ جائیں گے جبکہ سرمچار یا تو دشمن کو ختم کرے گا یا خود وطن پر قربان ہو جائے گا۔ آپریشن ہیروف نے عبداللہ جان کی یہ خواہش بھی پوری کر دی۔

بلوچستان میں ایک کہاوت بہت مشہور ہے کہ بندوق صرف سرمچاروں کے ساتھ جچتی ہے۔ ہاں بے شک، مگر جس طرح بندوق اور وہ مہلے کپڑے عبداللہ پر جچتے تھے شاید ہی کسی اور پر اتنے جچے ہوں۔ عبداللہ پہاڑوں کے بیچ ایک خوبصورت پھول کی مانند تھا۔ آج بھی شور کے پہاڑ عبداللہ کے لیے گنگناتے محسوس ہوتے ہیں۔

عبداللہ یار وہ تصویر آج بھی میرے پاس ہے جو تم نے لی تھی۔ تمہیں یاد ہوگا، تم نے میرا کالا ہاتھ اپنے بولان کے پانی جیسا سفید ہاتھ کے ساتھ رکھ کر تصویر لی تھی۔ میں نے کہا تھا یارتم تو مجھے اپنی خوبصورتی سے احساسِ کمتری میں مبتلا کر رہے ہو۔ تو تم نے مسکرا کر کہا تھا یہ تصویر اس لیے لے رہا ہوں کہ جب میں شہید ہو جاؤں تو تم جب بھی اسے دیکھو، تمہیں اس بات پر فخر ہو کہ ہم سب سے اچھے دوست تھے۔ یہ تصویر تمہیں ہر وقت مجھے یاد کرنے پر مجبور کرے گی۔ اور واقعی آج تمہاری یہی تصویر مجھے تم پر لکھنے پر مجبور کر رہی ہے۔

وہ دن بھی میں کبھی نہیں بھول پاؤں گا جب میں سفر پر کہیں جا رہا تھا اور راستے میں مجھے عبداللہ ملا۔ اس نے کہا یار، کہیں سے گوشت کا بندوبست کرو، کب سے گوشت کا رنگ بھی نہیں دیکھا حالانکہ میں ایک ضروری کام کے لیے جا رہا تھا مگر عبداللہ کی بات سن کر فوراً کیمپ واپس گیا، جہاں کچھ دیر پہلے ایک دوست نے دو بکری کی ٹانگیں پکائی تھیں۔ میں ان میں سے ایک لے کر عبداللہ کے پاس آیا۔ گوشت ملنے پر وہ اتنا خوش ہوا کہ اس کا وہ چہرہ آج بھی میری نظروں کے سامنے ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔