کوئٹہ:وی بی ایم پی کا احتجاج 6134ویں روز جاری، جبری لاپتہ محمود علی لانگو کے لواحقین کی شرکت

28

جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6134ویں روز بھی جاری رہا، جہاں جبری لاپتہ محمود علی لانگو کے لواحقین نے شرکت کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

محمود علی لانگو کی والدہ محمود علی لانگو کے کمسن بچے کے ہمراہ کیمپ پہنچیں۔ ان کی آنکھوں میں بیٹے کی جدائی کا کرب صاف جھلک رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی جبری گمشدگی کو ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مگر آج تک نہ اس کی بازیابی ممکن ہو سکی ہے اور نہ ہی اس کی خیریت کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں اور متعلقہ اداروں کے دروازوں پر مسلسل دستک دے رہی ہیں، مگر ہر بار مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طویل انتظار نے ان کے خاندان کو شدید ذہنی اذیت اور غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے، جہاں ہر گزرتا دن ایک نئی تکلیف بن کر سامنے آتا ہے۔

محمود علی لانگو کی والدہ نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ وہ خدارا ان کے بیٹے کے حوالے سے معلومات فراہم کریں اور اس کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ ان کے خاندان کا کرب کم ہو سکے۔

وی بی ایم پی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ جبری گمشدگیاں نہ صرف آئین و قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ ایک سنگین انسانی حقوق کی پامالی اور انسانیت کے خلاف جرم ہیں۔ اس عمل نے ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں مفلوج کر دی ہیں اور پورے معاشرے میں خوف، بے چینی اور عدم اعتماد کو جنم دیا ہے۔

تنظیم نے حکومت اور ریاستی اداروں کے سربراہان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے اس سنگین مسئلے کو انسانی ہمدردی اور قانون کی بالادستی کے اصولوں کے تحت حل کریں۔ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت اقدامات کا فوری خاتمہ کیا جائے، اور محمود علی لانگو سمیت تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کر کے ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔

مزید برآں، جن افراد پر کسی بھی نوعیت کے الزامات ہیں، انہیں آئین کے مطابق منظرِ عام پر لا کر عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ انہیں شفاف ٹرائل کا حق حاصل ہو۔

بیان میں کہا گیا کہ جب تک ریاست قانون کی حکمرانی کو یقینی نہیں بنائے گی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ نہیں کرے گی، اس وقت تک بلوچستان میں پائی جانے والی بے چینی اور اضطراب کا خاتمہ ممکن نہیں۔