کراچی: سرفراز بلوچ کی جبری گمشدگی کو ایک سال مکمل، لواحقین کی بازیابی کی اپیل

1

جبری طور پر لاپتہ کیے گئے سرفراز بلوچ کے لواحقین نے ان کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرفراز بلوچ کو گزشتہ سال 26 فروری 2025 کو برانی اسپتال، صدر کراچی کے باہر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جب وہ اپنے ماموں کی تیمارداری کے لیے وہاں موجود تھے۔

ایک سال گزرنے کے باوجود سرفراز بلوچ کے بارے میں خاندان کو کسی قسم کی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ نہ تو ان کی بازیابی عمل میں آئی ہے اور نہ ہی ان کی حالت یا مقام کے بارے میں کوئی تسلی بخش جواب دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، اہلِ خانہ کو روزانہ بے بنیاد سوالات اور تفتیش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کی ذہنی اذیت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

لواحقین کے مطابق، سرفراز بلوچ کی شادی کو محض دو ماہ ہوئے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔ شادی کی خوشیاں ابھی جاری تھیں کہ یہ سانحہ پیش آ گیا۔ اب سرفراز کی یادیں صرف پوسٹروں اور تصاویر تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ خاندان کے مطابق، خوشیوں کا یہ موقع ادھورا رہ گیا اور پورا گھرانہ شدید صدمے سے دوچار ہے۔

خصوصاً سرفراز کی والدہ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ وہ اکثر بیماری اور کمزوری کی حالت میں اپنے بیٹے کا نام دہراتی رہتی ہیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ اس تکلیف دہ صورتحال کے باوجود متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔

لواحقین نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ سرفراز بلوچ کو بغیر کسی شرط کے فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کا واحد مطالبہ ہے اور وہ انصاف کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔