اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے منگل کو بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ ’ان قابلِ نفرت دہشت گردانہ کارروائیوں کے مرتکبین، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جواب دہ ٹھہرا کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘
31 جنوری 2026 کو بلوچستان کے 12 مختلف شہروں پر بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کے تحت ’مربوط حملے‘ کیے۔
بلوچ لبریشن آرمی نے ہفتے کی صبح بلوچستان کے 12 شہروں میں بیک وقت حملوں کا آغاز کرتے ہوئے اپنے “آپریشن ھیروف” (کالی آندھی) کا اعلان کیا تھا۔ اس آپریشن کے تحت کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، خاران، مستونگ، قلات، خضدار، گوادر، پسنی، تربت، تمپ میں بڑے پیمانے پر کاروائیاں کی گئی۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کونسل کے صدر جیمز کیریوکی نے اس حوالے سے بیان جاری کیا، جس میں متاثرین کے خاندانوں، پاکستان کی حکومت اور عوام سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، اور زخمی ہونے والوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے اس امر کی توثیق کی کہ ’دہشت گردی اپنی تمام صورتوں اور مظاہر میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔‘
ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ ’ان قابلِ نفرت دہشت گردانہ کارروائیوں کے مرتکبین، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جواب دہ ٹھہرا کر انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘
ساتھ ہی کونسل کے ارکان نے تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ ’بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اس ضمن میں حکومتِ پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔‘
سلامتی کونسل کے ارکان نے اس امر کا بھی اعادہ کیا کہ ’دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی مجرمانہ اور ناقابلِ جواز ہے، چاہے اس کے محرکات کچھ بھی ہوں، وہ کہیں بھی، کبھی بھی اور کسی کے ہاتھوں بھی انجام دی گئی ہو۔‘
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام ریاستیں اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی دیگر ذمہ داریوں، بشمول بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون، بین الاقوامی پناہ گزینوں کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ہر ممکن ذرائع سے دہشت گردانہ کارروائیوں کے باعث بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کا مقابلہ کریں۔‘


















































