ریکوڈک میں مسلسل پانی کے استعمال سے بلوچستان میں خشک سالی ہو سکتی ہے – سپریم کورٹ

226

ریکوڈک صدارتی ریفرنس کیس پر پاکستان کے سپریم کورٹ نے فریقین کے وکلا کا دلائل مکمل ہونے پر ریکوڈک صدارتی ریفرنس پر رائے محفوظ کرلی۔پاکستانی سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس پر رائے آئندہ ہفتے سنائے گی۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز پاکستانی سپریم کورٹ میں ریکوڈک منصوبے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بنچ نے کیس کی سماعت کی،ریکوڈک منصوبے کے ماحول دوست ہونے کے عدالتی سوالات پر وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ریکوڈک منصوبے میں تمام تر ماحولیاتی تحفظات کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے،عدالت نے ریکوڈک منصوبے کیلئے استعمال ہونے والے پانی کا سوال کیا تھا، کمپنی جو پانی استعمال کرے گی وہ جانداروں کے استعمال کے قابل نہیں، پائپ لائن سے جانے والا پانی گوادر بندرگاہ پر صاف ہونے کے بعد سمندر میں جائے گا۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کیا سمندر کا پانی ریکوڈک تک لاکر استعمال نہیں ہوسکتا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہاکہ ریکوڈک سے گوادر 680 کلومیٹر ہے، روزانہ پانی لانا ناممکن ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پراجیکٹ میں مسلسل پانی کے استعمال سے بلوچستان میں خشک سالی ہوسکتی ہے۔

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تحقیق کے مطابق ریکوڈک میں پانی کا ذخیرہ منصوبے کی مجموعی زندگی سے زیادہ ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ غیر ملکی کمپنی بلوچستان کے پانی کا ری سائیکلنگ پلانٹ لگائے؟ ریکوڈک کان میں کام کرنے والے مزدوروں کے تحفظ اور مراعات کیا طے ہوئیں؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ریکوڈک میں کام کرنے والے مزدوروں کی مراعات لوکل مزدوروں سے بہتر ہونی چاہئیں۔

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ لوکل لیبر قوانین ہی ریکوڈک کان کے ملازمین پر لاگو ہوں گے، اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اقدار کی پابندی کی جائے گی۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ بیرک گولڈ کے پاکستان اور دیگر ملکوں میں جاری منصوبوں میں مزدوروں کی تنخواہوں کا موازنہ بتائیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ دنیا بھر میں کان کنی کرنے والے مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں، مزدوروں کے تحفظ کا فریم ورک بتائیں۔

ریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کار حکومتی ملکیتی اداروں کے وکیل جہانزیب اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ریکوڈک معاہدے میں حکومت پاکستان 50 فیصد سرمایہ کاری کر رہی ہے، پاکستان کی سرمایہ کاری براہِ راست نہیں ہے، پاکستان 3 حکومتی ملکیتی اداروں کے ذریعے ریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ وکیل جہانزیب اعوان نے کہاکہ حکومتی مالیاتی اداروں میں او جی ڈی سی ایل ، پاکستان پیٹرولیم کمپنی لیمیٹڈ شامل ہیں،گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ کمپنی بھی سرمایہ کار حکومتی مالیاتی اداروں میں شامل ہے، تینوں حکومتی مالیاتی اداروں کی جانب سے منصوبے میں 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی،پاکستان نے 4.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کیساتھ 900 ملین ڈالر زجرمانہ بھی ادا کرنا ہے۔ پاکستان کے جرمانے کی مد میں تینوں حکومتی مالیاتی اداروں نے 562 ملین ڈالرز ادا کر دیئے ہیں،ریکوڈک منصوبے سے ملنے والا 64 فیصد فائدہ پبلک سیکٹر کو ہو گا، ریکوڈک منصوبے میں تمام ٹرانزیکشنز کا آڈٹ اسٹیک ہولڈرز کو میسر ہو گا،عدالت نے ریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کار حکومتی ملکیتی اداروں کے وکیل جہانزیب اعوان کے دلائل مکمل ہونے پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ ریکوڈک کو رواں سال کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کے حوالے کیا گیا تھا۔ حکومت کا موقف ہے کہ ریکوڈک کے پچیس فیصد بلوچستان کو ملینگے جبکہ پچیس فیصد مرکزی حکومت اور دیگر پچاس فیصد سرمایہ کاروں کی ہوگی۔

بلوچستان میں عسکری اور قوم پرست تنظیمیں ریکوڈک معاہدے کو مسترد کرچکے ہیں ۔

یاد رہے کہ کینیڈین کمپنی سے پاکستان کی معاہدے کے بعد براس ترجمان بلوچ خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان ایک مقبوضہ ریاست ہے، جہاں حقیقی بلوچ قیادت کے بجائے قابض پاکستان کی چنندہ ایک کٹھ پتلی حکومت بٹھائی گئی ہے تاکہ قابض کی توسیع پسندانہ و استحصالی عزائم کو ایک نام نہاد قانونی شکل دیکر تقویت دی جاسکے۔ ان تاریخی و معروضی حقائق کو نظر انداز کرکے بیرک گولڈ کارپوریشن کا بلوچ سرزمین پر قابض قوت اور اسکے کٹھ پتلیوں سے معاہدہ اس امر کا اظہار ہے کہ مذکورہ کمپنی بلوچ رائے عامہ اور بلوچوں کی تاریخی حق ملکیت کا احترام کرنے کے بجائے، جارح قوت سے ساز باز کرکے بلوچ وسائل کا پونے داموں لوٹ مار پر تلا ہوا ہے۔