میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟ (بارہواں حصہ) – مہر جان

236

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟

تحریر: مہر جان

دی بلوچستان پوسٹ

“ہمیں تاریخ کے سبق کو دہرانا چاہیے کہ بالادست کے منہ سے محکوم قوم کے لئے ترقی کا لفظ صرف لوٹ کھسوٹ کیلئے نکلتا ہے ۔“ (بابا مری) ترقی میں چُھپے ہوئے استحصال کو باریک بینی سے دیکھنا اور اسکی مکاری کو پرکھنا بابا مری کا خاصہ رہا ہے، یہ بصیرت محکوم اقوام کے قوم پرستوں کو میسر رہی جو زبان کی جادوگری کو جانتے ہوئے اسے طاقت سے جوڑ کر تاریخ کے تشکیلی عمل میں جانچتے ہیں۔ مارکس جیسا ذہین انسان بھی نوآبادیاتی عہد میں ترقی کو اپنے انداز میں جدلیاتی طریق کار پہ پرکھ تو رہا تھا لیکن اُنہیں وہ آنکھ اُس وقت (کالونائزڈ ہندوستان) میسر نہیں رہی جو کالونیل استحصال کو بنیادی سوال کے طور پہ دیکھ سکتی، اُس کی نظر میں کالونائزڈ کا استحصال جو یقینی طور پہ ہورہا تھا وہ اسے ثانوی حیثیت میں رکھ کر سماج کی ترقی کو اولیت دے رہا تھا جبکہ اس کے برعکس بابا مری جارج آرویل کی “جنگ میں امن” یا ھیگلیائی جدلیات کی طرح ”ترقی میں استحصال” کو دیکھ کر اسے ثانویت کی بجائے اولیت دے کر ترقی کی مخالف سمت میں کھڑے ہوکر “ترقی مخالف سردار” کہلائے جانے لگے، یہی بات ریاست کی سول سوسائٹی کو اس قدر لُبھائی کہ وہ اسے ریاستی بیانیےکو توانا کرنے کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں سمجھے۔ ریاستی سول سوسائٹی اس بیانیے کو آگے پھیلاتی گئی جبکہ بابا مری بقول ایک سنگت کے “گونگے پہلوان“ کی طرح اپنی لڑائی آپ لڑکر قوم کو زبان دیتے رہے، وہ اُس شطرنج کی کھلاڑی کی طرح خاموش لڑتے رہیں جن کی آواز آخری چال میں “چیک میٹ” کی کہہ کر نکلتی ہے، وہ نہ صرف “خاموشی کی آواز” سے واقف تھے بلکہ اُنہیں خاموشی کی طاقت کا بھی اندازہ تھا کہ انسان خاموش رہ کر نوآبادیاتی حکمرانوں کے لیے کتنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ دُکانداری کی سیاست سے دُور اخلاص، خاموشی اور صبر کے ہتھیاروں سے لیس ہوکر کسی بھی انفرادی دوڑ میں شامل ہوئے بغیر نہ صرف انہوں نے اپنا رستہ بدلا بلکہ دماغ کو بھی بدلا، یہ قومی مزاحمت ان کے لئے انفرادی دوڑ سے بڑھ کر ایک قومی و تاریخی سفر تھا کیونکہ دوڑ میں انسان انفرادیت اور جلد بازی کا شکار ہوتا ہے جبکہ تاریخی سفر میں کوئی جلد بازی نہیں ہوتی بس ایک پڑاؤ سے دوسرے پڑاؤ تک کا سفر ہوتا ہے جس میں پوری تاریخی عمل شامل حال ہوتا ہے، اس واضح تفریق سے اب بلوچ سیاست دو دھاروں میں بہنے لگی ایک طرف بڑے بڑے نیشنلسٹ بُرج ریاستی پولیٹکل، سول سوسائٹیز کا حصہ بن کر، تاریخ سے بے خبر فقط خبروں کی زینت بن کر اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو ترقی یافتہ بنانے کی دوڑ میں شامل ہوگئے جبکہ دوسری طرف بابا مری نے“ترقی” میں استحصال کے پہلو کو دیکھ کر ترقی مخالف، روڈ مخالف، تعلیم (پاکستانیت) مخالف جیسے القابات قبول کرکے اپنی راہ لی۔ قبل اس کے کہ ہم ان دو سیاسی دھاروں کے افتراق کا تجزیہ کریں، یہ دیکھتے ہیں کہ ترقی اپنے آپ میں کیا ہے؟مختلف نقطہ نظر اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ترقی کو اپنے انداز میں کیسے دیکھتے اور پرکھتے ہیں۔ نیشنلسٹ اس حوالے سے کہاں کھڑے ہیں؟، کیا نیشنلسٹ سماج ترقی کے مخالف ہیں یا وہ اپنا ایک الگ نقطہ نظر رکھتے ہیں؟ قومیتی نقطہ نظر کو تاریخی حقائق کس قدر تقویت دیتے ہیں اور بابا مری نے جو نوآبادیاتی ترقی مخالف راہ اپنائی وہ کس قدر آج کی تاریخ میں تیر بہ ہدف ثابت ہوئی ہے؟

مابعد جدیدیت (پوسٹ ماڈرنسٹ) لفظ “ترقی” کو سرے سے مانتے ہی نہیں۔ ان کی نظر میں یہ لفظ (ترقی کا لفظ) طاقت کا بیانیہ لے کر طاقت کے لیے راہ ہموار کرتا ہے، اور یہ طاقت فقط ایک کلامیہ (Discourse)سے دوسرے کلامیہ  (Discourse) تک کا سفر ہے۔ وہ کسی بھی ارتقاء کے قائل نہیں ہیں ان کے لئے شال کی “ترقی” قلات کے مقابلے میں “ترقی” نہیں بلکہ ایک شہر کے دوسرے شہر سے مختلف ہونا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ “ترقی میں ھیگل کی تاریخ اور ڈارون کے تصور ارتقاء کو یکجا کیا گیا، جس پہ مارکس نے سائنسی رنگ جمایا اور جب یہ نعرہ عوام تک پہنچا تو استعمار کو اس سے طاقت ملی”وہ اتفاق کو لازمیت پر اور موضوع کو معروض پہ فوقیت دے کر ہر ایک کے لیے راہیں ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ فقط دائروں کا سفر کرتے ہیں ہر داہرہ ان کے لیے کلامیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ حقیقت کو دائروں میں دیکھنے کے قائل ہیں ۔ وہ تاریخ کو غیر تجربی قرار دے کر تاریخی ارتقائی سفر سے انکار کرتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں مارکسسٹ تاریخی سفر میں ترقی و ارتقاء پہ یقین رکھتے ہیں، وہ تاریخیت کے اس پہلو سے قدرے واقف ہیں کہ کس طرح تاریخ کا پہیہ نظر نہ آنے والی تاریخی قوتوں کی وجہ سے سے آگے کا سفر طے کررہی ہے اسی بنیاد پہ مارکس ہندوستان میں کالونیل ترقی میں سماج کی ترقی کو بنیادی حیثیت دے رہے تھے، جبکہ ان کے مقابلے میں گاندھی ہندوستانی تہذیب کے رکھوالے نظر آتے ہیں۔مارکس کی سوچ کو اسی بنیاد پہ “یوروپی مرکزیت” کہا گیا لیکن مارکس شاہد میرے خیال میں جدلیاتی پہلو کو اک اور انداز سے دیکھ رہے تھے کہ ریل کی پٹریاں، کبھی انگریز کے پاؤں کی بیڑیاں بن جائیں گے۔ ہندوستان کی فوج جس کی برطانیہ تشکیل کررہی تھی خود ان کیخلاف اُٹھ جائیگی، جبکہ انڈسٹرلائزیشن سے نہ صرف سماج کی ترقی ممکن ہوگی بلکہ مزدور انقلاب آئے گا، وہ تاریخیت کے پہلو میں سماج کی ترقی کو بنیادی مان رہے تھے جبکہ استحصال کو ثانوی طور پہ لے رہے تھے، لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یورپ کی چمک دھمک اسی استحصال کے سبب ممکن ہوا، یورپ، امریکہ کے کوئی بھی یادگار عمارت، میں مقامی لوگوں کی یا کالونائزڈ لوگوں کے خون کے آثار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس حقیت کو کسی حد تک مارکس بعد کے اوائل میں سمجھ گئے اور داس کیپیٹل لکھتے وقت ان کے خیالات میں کم و پیش تبدیلی ضرور آئی ، اس پورے پس منظر میں تاریخ ہندوستان کو سامنے رکھنا بے حد ضروری ہے کہ کیسے باہر سے لوگ آکر ہندوستان پہ حکمرانی کرتے رہے اور سماج کے سامنے پُل بھی باندھتے رہے جبکہ مسلمان اپنی کالونیل ازم کو مغرب کی کالونیل ازم سے کچھ قدرے بہتر اس طرح جواز تراشتے ہیں کہ برٹش کالونیل ازم کا مرکز برطانیہ تھا جبکہ مسلمانوں نے مرکز ہندوستان کو بنایا ہوا تھا۔

محکوم نیشنلسٹ ترقی کو محکوم کے خلاف جدید نوآبادیاتی ہتھیار سمجھتے ہیں جو کالونیل مائنڈ سیٹ بڑی چالاکی و مکاری سے استعمال کرتا ہے وہ اس ہتھیار سے نہ صرف ذہنوں کو مسخر کرتا ہے بلکہ کالونائزڈ علاقوں کے وسائل کو نکالنے کے ذرائع ڈھونڈتا ہے۔ محکوم اقوام کی دانش ریل کی پٹڑیوں کو، شاہراہوں کو، بڑے بڑے نوآبادیاتی میگا پروجیکٹس کو نوآبادیات کے وسائل لُوٹنے، قدم جمانے کے ذرائع سمجھتی ہے، مقامی لوگوں کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ روڈ و ہسپتال، اسکول آپ کی خوشحالی، سماجی ترقی کیلئے بن رہے ہیں لیکن درحقیقت وہ ان مقامی لوگوں سے ان کی باغیانہ پن کو عامیانہ پن میں تبدیل کررہا ہوتا ہے۔ ترقی کے نو آبادیاتی ہتھیار سے قومی مزاج کو یکسر ختم کردیا جاتا ہے۔ قومی مزاج جو بندوق سے زیادہ سامراج کے لیے خطرناک ہے، یہ مزاج بنتے ہوئے کئی صدیاں لگتی ہیں اس مزاج کو مینیو فیکچر کرنا نوآبادیاتی ریاستوں کی اولین ترجیح ہوتی ہے جس کے لیے اربوں روپے بہا دیئے جاتے ہیں اور وہ انہیں کسی حد تک ترقی کے ہتھیار سے مینیو فیکچر کر بھی لیتے ہیں۔ ترقی کے نام پر نوآبادیات کا وسائل کو لُوٹنا اب عام وطیرہ بن چکا ہے اسے سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں، ہندوستان میں بہت حد تک یہ کوشش کرلی گئی اسی طرح اس کی کئی مثالیں بلوچستان میں موجود ہے جہاں ساحل وسائل پہ ترقی کے نام پہ قبضہ جمایا جارہا ہے۔ جس طرح اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوشبو آتی تھی اسی طرح آج اورنج ٹرین کی پٹڑیوں سے گوادر کے باسیوں کے خشک ہونٹوں کی پیاس جھلکتی ہے، جس طرح گوادر کے لوگوں کو انکی زمینوں سے بے دخل کیا جارہا ہے یہ بے دخلی ہندوستان میں جاری بھومی سواد کی تحریک کی یاد دلاتی ہے، ترقی کا یہ مصنوعی ہتھیار اس قدر دلکش و دلفریب نظر آتا ہے کہ کہیں مرتبہ مقامی لوگ خود اس ہتھیار کو اپنے سینے میں پیوست کرنے کے آرزو مند ہوتے ہیں۔ اور نوآبادیاتی و مابعد جدیدیت کے پیروکار دانشور فقط رٹے رٹائے الفاظ دہراتے ہوئے اسے ھیگلئین تناظر میں جائز مانتے ہیں جو کہ ایک خوامخواہ کا خبط ہے جو ان کے سروں پہ سوار ہے اور وہ اس خوامخواہ کے خبط سے نکلنے کے لیے تیار نہیں بقول سارتر “نوآبادیاتی حکام کو ہیگل کے مطالعے کے لیے تنخواہ نہیں ملتی اسی لئے وہ اس کا مطالعہ کم ہی کرتے ہیں لیکن انہیں یہ بتانے کے لیے کسی فلسفی کی ضرورت نہیں کہ غیر مطمئن ضمیر اپنے ہی تضادات میں پھنس جاتا ہے۔“ اسی دلکشی کے پیش نظر محکوموں کا بڑے بڑے شاہراہوں کے لیے لاشعوری طور پہ مہم چلانا مثلاً گوادر کے لیے سی پیک جیسے منصوبہ کی تکمیل کا مطالبہ کرنا، وسائل پر جاری نوآبادیاتی لوٹ کھسوٹ کے منصوبوں میں حصہ داری مانگنا یا ریکوڈک جیسے استحصالی منصوبوں کے لیے لفظ “معاہدہ” استعمال کرنا تاریخی اور قومی ملکیت کی روح کیخلاف ہے کیونکہ معاہدہ ہمیشہ دو برابر فریقوں کے درمیان ہوتا ہے ۔ بقول کنفانی “کالونائزر و کالونائزڈ کا تعلق تلوار اور گردن کا تعلق ہے” تلوار اور گردن کے درمیان کبھی معاہدات و مذاکرات نہیں ہوتے۔ اس لیے بابا مری نے نہ صرف اپنا راستہ بدلا بلکہ اپنا دماغ بھی بدلا اب ان کے لیے مذاکرت، معاہدات، حصہ داری، شراکت داری اور سب سے بڑھ کر ترقی جیسے لفظ اپنی اہمیت کھوچکے تھے، بُدھا جیسی شخصیت نے ھیگلیائی فلسفہ میں عمل کے تناظر میں بلوچ قومی وجود (بی اینگ، نتھنگ) کو جوہر (ایسنس) سے کاربند کرنے لیے مزاحمت کی راہ کو بہترین سمجھا، تاکہ فکر (نوشن) تک کا سفر طے ہوسکے اور جنگ کا سفر طے کرتے ہوئے اپنی وجود کی لازمیت میں آزاد زندگی بسر کرسکے ۔

(جاری ہے )


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں