عید کے روز ماتمی مائیں-محمد خان داؤد

81

عید کے روز ماتمی مائیں

تحریر:محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

گر دیو ٹیگور نے لکھا تھا
”بچہ جب رونے لگتا ہے
جب ماں اس بچے کا منہ دائیں چھا تی سے نکال دیتی ہے
لیکن ایک دم ہی دوسری گھڑی میں
ماں اس بچے کے منہ میں بائیں چھا تی دے دیتی ہے
اور رو تے بچے کو تسلی مل جا تی ہے!“
پر ان ماؤں کو کہاں تسلی ہے جن ماؤں نے اپنی دونوں چھاتیاں ان بچوں کو منہ میں دیں جو بچے ماؤں کی چھاتیوں سے نکلتے دودھ سے بڑے ہوئے،ہنسے مسکرائے،مکتبوں کو گئے،ان کی سیا سی،سماجی تربیت ہوئی۔انہوں نے عشق کیے،محبوباؤں کے گال، کاندھے، پستان، کمر اور ہونٹ چومیں۔ شادیاں کیں، مائیں بوڑھی ہوئیں، تو گھروں میں بہوئیں آ گئیں، وہ مائیں دادیاں بنیں۔ان بچوں پر زمانے کا بار پڑا وہ زمانے سے گھل مل گئے،کسی نے ملازمت کی،کسی نے کاروبار کیا،کوئی سیا ست کی پیچ دار وادیوں میں اتر گیا۔کوئی شاعر بن گیا،کسی پر دانش کی دیوی مہربان ہو گئی۔ کوئی دانش کا در پیٹ پیٹ کر اپنے ہاتھ لہو لہان کر بیٹھا پر اس پر دانش نہیں اتری،سو نہیں اتری،کوئی راہوں میں رُل گیا،کسی پر زندگی ٹھہر سی گئی،کسی کی زندگی وقت سے بھی بہت آگے نکل گئی،کوئی دانا ہوا،کوئی دیوانہ ہوا،کوئی محبوبہ کی ہنسی سے جڑ گیا،کوئی دھرتی کی مہک سے جڑ گیا۔کوئی خواب دیکھنے لگا،کوئی خوابوں کی تعبیر ڈھونے لگا۔ کوئی مٹی سے جُڑ گیا،کسی سے مٹی آپ ہی جُڑ گئی، کوئی دھرتی کا ہوکر رہ گیا،کوئی سرتی کا ہوکر!
کسی نے مذہب میں پناہ تلاش کی،کوئی انقلابی بن گیا
کسی نے بہت سی کتابیں پڑھ لیں
کسی نے زندگی بھر کوئی اخبار بھی نہ پڑھا
کسی نے کوئی خواب نہ دیکھا
کسی کو خوابوں نے نہ سونے دیا اور نہ جینے دیا
کسی کے سر ہانے کتابیں تھیں،تو کسی کے سرہانے محبوبہ کی زلفیں!
کسی کی بانہوں میں محبت تھی، تو کوئی پتھر کی سلِ پر سر رکھ کر سو رہا تھا
کوئی محبوبہ کی قربت میں اور دیس سے کوسوں دور
کوئی محبوبہ سے دور اور دھرتی کی بانہوں میں
کوئی دھرتی کی محبت میں جی رہا تھا،کوئی محبوبہ کی بس ایک مسکراہٹ کی خاطر
کسی کے پاس بہت سے بچوں کا ساتھ ہوگیا،کسی کے پاس بس بندوق کی گرم نال رہ گئی
کوئی پڑھ گیا،اور کوئی ہاتھوں کی ان لکیروں کو بھی نہ پڑھ سکا جن لیکروں کو دیکھ کر ایک بار راہ چلتے فقیر نے مجھے کہا تھا جلدی سے اس گلی سے پار ہو جاؤ ابھی یہاں گولیاں چلیں گی اور لوگ ما رے جائیں گے اگر تم نہیں گئے تو۔۔۔
اور میں نے دیکھا کہ میرے وہاں سے جا تے ہی وہاں بہت سی گولیاں چلیں اور بہت سے لوگ مرے
زندگی چلتی رہی،بچے بڑے ہوئے،بڑے بوڑھے،اور بوڑھے دھرتی میں سما گئے۔

جوان لڑکیاں پہلے محبوبائیں پھر مائیں اور ان کے ہاتھوں میں وہ تحفہ آگیا جس تغفے کی کہیں کوئی مثل نہیں۔ بھلے زندگی زندہ دلی کا نام نہ ہو،بھلے زندگی سکھ کی دو ساعتوں کا نام نہ ہو،بھلے زندگی ان ماؤں پر مہربان نہ ہو،جو کل بھی دھوپ میں جل رہی تھیں اور آج بھی دھوپ میں جل رہی نہیں
پر زندگی چلتے رہنے کا نام ضرور ہے
اگر زندگی چلتے رہنے کا نام نہ ہوتا تو کل کی معصوم سمی اتنی بڑی کیونکر ہو جا تی؟
ماؤں کی سیاہ زلفیں اپنے کی تلاش میں سفید کیوں کر ہو جاتیں؟
ان ماؤں کی آنکھوں سے بہتا آنسوؤں کا سیلاب کیوں کر ختم ہوجاتا؟
اب سمی اپنے بابا کا نام لیتے کیوں نہیں رو تی؟اب وہ ڈاکٹر دین کا نام اتنے اعتماد سے کیوں لیتی ہے اس کی زباں کیوں نہیں ہچکچاتی اور اس کی آنکھوں سے آنسو کیوں رواں نہیں ہو تے؟
اب مہلب کے ہاتھ کیوں نہیں کانپتے؟
مائیں بہت ہی اعتماد سے اپنے گمشدہ بیٹوں کا ذکر کیسے کر لیتی ہیں
وہ روتی کیوں نہیں وہ تڑپتی کیوں نہیں وہ ماتم یار کیوں نہیں کرتیں؟
کیونکہ زندگی بھی تو چل رہی ہے
اور چلتے رہنے کا نام زندگی ہے اس میں سیاہ بال سفید اور چھوٹی بچیاں جوان ہو جا تی ہیں۔

اس چلتے رہتے زندگی میں کئی بارشیں آتی ہیں، سردیاں آتی ہیں۔گرمیوں میں جسم جلتے ہیں اور آنب پکتے ہیں۔سوکھے راستوں پر گھاس اُگ آتی ہے، وہ گھاس چلتے پیروں سے کچلی جا تی ہے۔ پھول کھلتے ہیں، پھولوں میں رس بھر آتا ہے، ہوائیں چلتی ہیں۔کئی سورج طلوع ہو تے ہیں،کوئی ڈوب جا تے ہیں۔کئی چاند آکاش پر آتے ہیں اور ماتم کرتی ماؤں کو دیکھ کر بادلوں میں چھپ جا تے ہیں
زندگی چلتی رہتی ہے
بظاہر زندگی چلتی رہتی ہے
پر ان ماؤں،بیٹیوں کی زندگی ٹہرسی جا تی ہے جن کے جواں سالہ بیٹے رات کی تاریکوں میں اُٹھا لیے گئے اور وہ مائیں،بیٹیاں مسافر بن گئیں،
در بہ در
صوبہ بہ صوبہ
شہر بہ شہر
نگری بہ نگری
ان ماؤں بیٹیوں پر کوئی عید کا چاند طلوع نہیں ہوتا۔
وہ ماتمِ یاراں میں ہو تی ہیں اور جب زمانے کے لیے عید کا دن ہوتا ہے
تو ان ماؤں بیٹیوں کا درد کچھ اور مزید ہوتا ہے
آج عید کا دن ہے
پر ان ماؤں۔بہنوں،بچیوں،بیٹیوں جو کراچی اور کوئٹہ کے پریس کلب کے در پر بیٹھی ہیں
وہ تو یارانِ ماتم میں ہیں
گر دیو ٹیگور کے الفاظ ان ماؤں اور بیٹوں کے لیے بلکل بے معنیٰ ہیں کہ
”بچہ جب رونے لگتا ہے
جب ماں اس بچہ کا منھ دائیں چھا تی سے نکال دیتی ہے
لیکن ایک دم ہی دوسری گھڑی میں
ماں اس بچے کے منہ میں بائیں چھا تی دے دیتی ہے
اور رو تے بچے کو تسلی مل جا تی ہے“
یہ مائیں،بہنیں،بیٹیاں ماؤں کی چھاتیوں سے جدا کیے بچے نہیں کہ دائیں چھا تی سے جدا ہوں تو بائیں سے لگ کر سکون میں رہیں!
نہیں!
ایسا ہر گز نہیں یہ بائیں دیکھتی ہیں تو پھر بھی درد ہے
اور وہ دائیں دیکھتی ہیں تو پھر بھی درد ہے
یہ درد کے درمیاں رو تی مائیں ہیں
یہ مائیں دعائیں تھیں
اس ریا ست نے ان ماؤں کو دیوارِ گریہ بنا دیا
یہ مائیں تو مقبول دعائیں تھیں
اس ریا ست نے تو ان ماؤں کو حجرہ اسود بنا دیا
اب ایک مائیں اس لیے نہیں سوتیں کہ وہ خواب نہیں آتا
اور ایک مائیں اس لیے نہیں سوتیں کہ ان کی نیند تو وہ آپ لے گیا
“میڈا ڈھولا
میڈا ساجن
میڈا ملوووووووووک!“


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں