گیس کمپنی اور کوہلو کےعوام میں پائی جانیوالی تشویش – کوہ مزار

537

گیس کمپنی اور کوہلو کےعوام میں پائی جانیوالی تشویش

تحریر: کوہ مزار

دی بلوچستان پوسٹ

17۔05۔2021 کو او۔جی۔ڈی۔سی۔ایل نے لندن سٹاک ایکسچینج اور پاکستان سٹاک ایکسچینج کو مطلع کرتے ہوئے ایک لیٹر لکھا کہ مذکورہ کمپنی نےضلع بارکھان کے جاندران بلاک۔4 میں 1200 میٹر ڈرلنگ کے بعد کنویں سے 08۔7 ملین کیوبک فیٹ روزانہ گیس اور 55۔0 بیرل کنڈینسڈ لیکویڈ جو کہ 1300 پی۔ایس۔آئی پریشر کے ساتھ بہہ رہا ہے، دریافت کیا ہے۔

بابا خیر بخش مری نے فرمایا تھا کہ پاکستان کو بلوچ سے کوئی مطلب نہیں بلکہ بلوچستان میں پائی جانیوالی معدنیات کی ضرورت ہے۔ لگ رہا ہے کہ بابا مری کی باتیں ان لوگوں کو بھی سچ لگ رہی ہیں جو شاید چند پیسوں کے لالچ میں بابا مری کے خلاف آخری حد تک گئے اور اسی لالچ کی وجہ سے کئی مری نوجوانوں کو فوج کے ہاتھوں اغوا اور شہید کروانے میں ملوث رہے۔ یہاں تک کہ ان بے ضمیروں نے چند ٹکوں کیلئے مریوں کے گھر جلوائے اور انہیں پاکستانی فوج کے ہاتھوں علاقہ بدر کرنے پر مجبور کیا۔ بابا مری اور دیگر بلوچ رہنماوں کی باتیں ان تلوے چاٹنے والوں کو کیوں راست لگ رہی ہیں۔اس کے پیچھے بھی ایک بہت بڑا راز پوشیدہ ہے۔

قریبا ایک یا ڈیڑھ سال سے پاکستانی فوج اور انکی کمپنیاں ضلعی کوہلو کے مختلف علاقوں میں گیس و تیل اور دیگر قیمتی قدرتی معدنیات کی تلاش میں بھاری مشینری کے ساتھ سرگرداں ہیں۔انہیں معدنیات کی تلاش میں حکومت پاکستان نے اربوں کھربوں روپے خرچ کئے۔ان معدنیات کو تلاش کرنے کیلئے ضلع بارکھان کے کچھ علاقوں کے ساتھ ضلع کوہلو کے قریبا ہر میدان اور پہاڑ پر بلڈوزر اور دیگر مشینری کے ذریعے روڈ بنائے گئے اور سروے کئے گئے۔ فورٹ منرو سٹیل برج، کوہلو ٹو رکھنی ہائی وے روڈ اسی منصوبے کو کامیاب بنانے اور بلوچستان کی لوٹ مار کیلئے ریاست کے کئے گئے انویسٹمنٹ ہیں۔

کوہلو کے سب سے بڑے پہاڑ جاندران، جہاں انسان کا پیدل جانا مشکل تھا اسی پہاڑی پر بھی فوج و کمپنی نے کئی کچے روڈ بنائے۔اسی طرح ماڑ کوہ، بیر کوہ، چلیں تل،سئوڑی، فاضل چیل، نیلی،منجھرہ،ماوند،سفید اور قریبا ہر پہاڑی پر کمپنی نے کچے سڑکوں کے ذریعے گیس و تیل تلاش کرنے کی سرتوڑ کوشش کی۔ یہاں تک کہ کمپنی نے اس مقصد کیلئے فاضل شاہ کوہ سے ملحقہ پہاڑوں پر کئی سڑکیں بنائیں۔فوج و کمپنی نے کئی جگہوں جیسے کہ جاندران،ماڑ کوہ اور ریس موڑ پر اپنے خیمے لگا کر ڈیرے ڈال دیئے۔

اب چلتے ہیں مقامی آبادی اور انکے مسائل پر۔کوہلو کی بیشتر آبادی مری قبیلہ پر مشتمل ہے جن میں زیادہ تر لوگ بھیڑ بکریاں پالتے ہیں لیکن اب یہ پیشہ بھی قحط سالی ،ککر،فوجی آپریشنز اور انہی کمپنیوں کی وجہ سے بہت حد تک کم ہوگیا ہے۔ دوسری طرف جاندران،ماڑ اور گزگاڑ میں گیس کمپنی نے قدرتی پانی سے بھرے تالابوں سے پانی بھرنا شروع کردیا،جو کہ وہاں کے غریبوں(پینے کا پانی) اور انکے مال مویشیوں کیلئے پانی کا واحد ذریعہ ہیں۔ اب ان کمپنیوں کی بے حد پانی کے استعمال سے مقامی لوگ نکل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے۔

کوہلو میں جونہی کوئی نئی کمپنی آتی ہے، چاہے وہ گیس و قدرتی وسائل نکالنے کیلئے ہوں یا پھر روڈ بنانے کیلئے آئے ہوں۔کچھ مقامی وڈیرے،میر اور وہاں کے حالیہ سردار عوام کو دودھ اور شہد کی ندیوں کے خواب دکھاتے ہیں۔وہ نامنہاد معتبرین خود تو مراعات لیکر مزے کی زندگی گزارتے ہیں مگر غریب عوام کو صرف سیکورٹی کیلئے رکھا جاتا ہے یا پھر دہاڑی کیلئے مزدوری پر رکھا جاتا ہے۔اس کی اصل وجہ وہ خفیہ معاہدے ہیں جو عوام سے پس پشت رکھ کر ریاست،فوج اور مقامی میروں،سردار اور وڈیروں کے مابین ہوتی ہیں۔

کئی دہائیوں قبل جب ساٹھ اور ستر اور کی دہائی میں فوج نے زور زبردستی کوہلو کے تحصیل کاہان(نواب خیر بخش مری کا آبائی گاوں) کے علاقے بامبھور سے تیل نکالنے کی کوشش کی تو نواب مری سمیت ہزاروں مریوں نے اپنی بے تحاشا مزاحمت کے نتیجے میں سرکار کی تیل نکالنے کی کوشش کو ناکام بنایا تھا۔جس کی وجہ سے بالآخر بھٹو کو تیل کے کنویں سیل کرکے وہاں سے فوج واپس لے جانا پڑا۔

بابا مری اس بات پر قائم تھے کہ فوج اور حکومت پاکستان بلوچستان سے معدنیات،تیل و گیس نکال کر پنجاب لے جائیں گے۔اس لئے انہوں نے مزاحمت کا راستہ اپنا کر پہاڑوں پر چلے گئے اور بالآخر اسی مزاحمت کے نتیجے میں ہزاروں مریوں اور بلوچوں کے ساتھ افغانستان ہجرت کرکے چلے گئے۔یہ ان کی اپنی سرزمین سے بے انتہا محبت تھی کہ سرزمین کو قابض ریاست کی لوٹ مار سے بچانے کیلئے انہیں اپنی سرزمین سے بے دخل کر دیا گیا۔

آج کوہلو کے مقامی لوگ،پارٹیز اور نوجوان اس بات پر اپنی حیرت کا اظہار کررہے کہ گیس کمپنی نے زمین مالکان کو بنا کچھ دیئے ڈرلنگ اور گیس نکالنے کا کام شروع کردیا۔ آج وہ لوگ بھی رونا رو رہے جو بابا مری اور بالاچ سمیت ہزاروں مریوں کی قربانی کو روندتے ہوئے فوج کی تعریفیں کرکے اپنی وفاداریاں ثابت کرنے میں بابا مری کی سیاسی سوچ اور انکی اپنے قوم سے محبت کو گالیاں دیتے تھے۔آج ان پیٹ پرست و نامنہاد عوامی نمائندوں کو معلوم ہو رہا کہ حکومت پاکستان کوہلو کے وارث،مری قبیلہ،سے پوچھے بغیر وسائل کو لوٹ کر پنجاب لے جا رہا۔

آج جب گیس کمپنی جاندران،ماڑ اور گزگاڑ سے گیس لوٹ کر فلٹریشن پلانٹ پنجاب کے علاقے سخی سرور میں لگا رہا۔اب وہی لوگ بابا مری کی سیاسی جدوجہد کو درست کہہ رہے۔

اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ان واویلا کرنے والوں میں سے اکثر وہی لوگ ہیں جو بیچ راہ میں سرکار سے مذاکرات کرکے اپنے لئے مراعات لینے کی کوشش کرینگے اور اگر سرکار نے انہیں کچھ مراعات بھیک میں دیئے تو یہی لوگ چپ بیٹھیں گے اور سرکار کی تعریفوں کے پل باندھیں گے۔

کوہلو میں ماڑی گیس کمپنی اور OGDCL کے آتے ہیں کئی نئی پارٹیاں بن گئی تھیں ، جنہوں نے شروع سے ہی ان کمپنیوں سے مطالبے کئے ہیں۔گزشتہ روز کوہلو میں آل پارٹیز کانفرس کی گئی تھی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ انکی بات سنی جائے اور کوہلو کو اسکے حقوق دیئے جائیں۔مگر یہ سرکار ہے زور آور ہے اس نے اب تک عوام کو سیکورٹی کیلئے عارضی طور پر رکھا مگر کوہلو کے عوام کو لالی پاپ دکھایا اور دیا اسکے برعکس جاندران بلاک 4 جہاں سے گیس نکل رہا اسی علاقے کو بارکھان کا حصہ قرار دیا۔

کہا جارہا کہ کوہلو میں سردار اور کچھ میروں نے فوج سے ڈیلنگ کی اور مراعات حاصل کئے جن میں سے حالیہ اور گزشتہ سابقہ دونوں ایم۔پی۔ایز کا نام آ رہا۔اور وہ چپ ہیں یا تو پھر فوج کی تعریفیں کرکے اپنی وفاداریاں نباہ رہے ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ کوہلو کے عوام میں شعور آئے اور وہ خود اس لوٹ مار کے خلاف سخت مزاحمت کرکے اپنے حقوق لیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں