پشتون لانگ مارچ: پولیس نے پی ٹی ایم رہنماوں کو تحویل میں لے لیا

98

گذشتہ کئی روز سے بنوں جانی خیل میں لاشوں کے ہمراہ دھرنا دینے کے بعد لوگ احتجاجی ریلی کی شکل میں اسلام آباد کے طرف پیدل لانگ مارچ کررہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہے۔ لانگ مارچ میں شریک پشتون تحفط مومنٹ کے رہنماء منظور پشتین اور ایم این اے محسن داوڑ کے قافلے کو پولیس نے تحویل میں لے لیا۔

ایم این اے محسن داوڑ کو خیبر پختونخواہ کے علاقے کرک جبکہ‏ پی ٹی ایم کے قائد منظور پشتین کو کوہاٹ پولیس نے تحویل میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے تاہم یہ معلوم نا ہوسکا ہے کہ وہ پولیس کے حراست میں ہے کہ نہیں۔

پی ٹی ایم رہنماء چند روز قبل جانی خیل میں پیش آنے والے واقعہ کے خلاف احتجاجی ریلی میں شریک تھے۔ مظاہرین بذریعہ روڈ اسلام آباد کے طرف پیدل لانگ کررہے ہیں۔

مظاہرین و پولیس میں کئی مقامات پر جھڑپوں کے بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مظاہرین کے مطابق پولیس کے جانب سے اسلام آباد کے طرف جانے والے رستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے مظاہرین پر تشدد و انہیں گرفتار کیا جارہا ہے۔

یاد رہے 21 مارچ کو خیبر پختونخواہ کے علاقے بنو جانی خیل سے چار بچوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی تھی جس کے بعد سے بچوں کے لواحقین اور پشتون تنظیموں کے جانب لاشوں کے ہمراہ جانی خیل میں احتجاجی دھرنا جاری تھا تاہم آج دھرنا مظاہرین اسلام کے طرف مارچ کررہے ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ قتل ہونے والے بچوں کو انصاف فراہم کیا جائے اور قبائلی علاقوں میں پھر سے طالبان سمیت دیگر مسلح لوگوں کو جگہ دینے کی کوشش بند کی جائے۔ اس سے قبل پشتون علماء کی جانب سے مظاہرین سے مزاکرات کی کوشش کی گئی تاہم مظاہرین سے مزاکرات ناکام ہوئے۔