بلوچستان: بی این پی کے سینیٹرز کی جبری گمشدگی، احتجاجاً بلوچستان بھر میں شاہراہیں...

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سینیٹرز کی جبری گمشدگی کے خلاف بی این پی کی کال پر بلوچستان میں احتجاجاً شاہراؤں کو بند کردیا گیا۔

خضدار سے لاپتہ شخص بازیاب

خضدار سے 3 سال قبل لاپتہ ہونے والا شخص بازیاب دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع خضدار کے تحصیل وڈھ سے...

پنجگور: گرڈ اسٹیشن چوکی پر بم حملہ

ہفتے کی شب پنجگور گرڈ اسٹیشن پر قائم پاکستانی فورسز کی چیک پوسٹ پر دستی بم سے حملہ کیا گیا۔ تاہم حملے کے بعد...

مشکے: پاکستانی فورسز کے ہاتھوں نوجوان لاپتہ

بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے مشکے سے پاکستانی فورسز نے ایک نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا ہے۔ لاپتہ ہونے والے شخص کی شناخت شاہنواز...

بی ایل ایف نے مسلح کارروائیوں کی ششماہی رپورٹ جاری کردی

سال 2020 میں سیکیورٹی فورسز پر 67 حملے کئے اور ان حملوں میں 130 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئیں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے تنظیم کی...

کوئٹہ لاپتہ افراد کے لیے احتجاج کو 4496 دن مکمل

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ کو آج 4496 دن مکمل ہوگئے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں نے کیمپ آکر...

بلوچستان کے طلباء کو پنجاب میں نسلی تعصب کا سامنا ہے- طلباء

پنجاب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں بلوچستان کے بلوچ پشتون طلباء کا مطالبات کے حق میں احتجاجی دھرنا آج بھی جاری رہا۔طلباء بلوچستان کے ریزرو سیٹوں پر فیسوں کی وصولی، انتظامیہ کی جانب سے طلباء کو ہراساں کرنے کے خلاف دھرنا دیئے ہوئےہیں- طلباء کا کہنا تھا بلوچستان کے طلباء جو بلوچستان کے مخصوص نشستوں پر پنجاب کے مختلف جامعات میں بغیر کوئی فیس ادا کیےتعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں تو اسی طرح سال میں درجنوں طلبا طویل سفر طے کرکے بلوچستان کے مخصوص نشستوں پر اسلامیہیونیورسٹی بہاولپور کا بھی رخ کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے جامعہ حکومتی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 2020 سے بلوچستانکے غریب طلباء سے آدها فیصد فیس وصول کررہی ہے اور اس کے ساتھ بلوچستان کے طلباء کیلئے ہاسٹل کے دروازے بالکل بند کردئیے گئے ہیں جس کے خلاف بلوچستان کے طلباء نے 27 ستمبر بروز سوموار اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا لیکن انتظامیہ کی طرفسے مطالبات نہ سننے کی وجہ سے مجبوراً بلوچستان کے طلباء کو جامعہ کے مرکزی گیٹ کے سامنے دھرنا دینا پڑا۔  طلباء کا کہنا تھا پچھلے بارہ دنوں سے بلوچستان کے بلوچ اور پشتون طلباء یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ کے سامنے دھرنا دیئے ہوئےہیں لیکن انتظامیہ کی طرف سے طلباء کے مسائل حل کرنے کے لیے کوئی بھی سنجیدگی اختیار نہیں کی گئی لیکن ان سب کے برعکسانتظامیہ کی طرف سے بلوچستان کے طلباء کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جارہاہے اور طلباء کو ڈرا اور دھمکا کر احتجاج سےدور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ضلعی انتظامیہ اور بہاولپور پولیس کی طرف سے بھی طلباء کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیاگیا ہے جس میں بلوچستان کے طلباء کے ہاسٹلز میں چھاپہ مارکر باقاعدہ ان کو ٹارچر کیا گیا بلوچستان طلباء کے تصویر لیے گئے اورکمروں کی تلاشی لی گئی۔ بہاولپور پولیس کی یہ غیر قانونی ہتھکنڈے یہاں پر ختم نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے کیمپ میں آ کر بلوچستانکے طلبہ کو دھمکی دی اور کیمپ کو زبردستی ختم کرنے کی دھمکی بھی دی گئ۔ دھرنے کے مقام سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلباء کا کہنا تھا یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے بلوچستان کے طلباء کو ڈرانے اوران کی آواز دبانے کی کوششیں یہاں تک ختم نہیں ہوئی بلکہ کیمپ کے تیسرے دن بلوچستان کے 9 طلباء کو بغیر ان کے موقف سنےیونیورسٹی سے بے دخل کردیا گیا اور یونیورسٹی میں ان کے انٹری پر مکمل طور پر پابندی لگا دی گئی۔ انہوں نے کہا طلباء علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور اس علامتی بھوک ہڑتال کے دوران ہمیں بہت سارے مشکلات کاسامنا کرنا پڑا علامتی بھوک ہڑتال کی وجہ سے ہمارے طلباء کی صحت جسمانی اور ذہنی طور پر متاثر ہورہی ہے، طلباء نے بتایا کہاتوار کو ہمارے ایک دوست کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اس مشکل حالات کے دو دن بعد ہمیں یہی حالات دوبارہ دیکھنے پڑے ہمارےتین دوستوں کی حالت پھر سے بگڑ گئی، جس میں ایک فیمیل بھی شامل تھی جسے ہم فوراً سیکورٹی کی گاڑی میں ہسپتال لے گئے یہبات قابل ذکر ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ طلباء بے ہوش ہورہے ہیں پھر بھی ہمیں ایمبولینس سروس فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہیہماری کوئی شنوائی ہورہی ہے- طلباء کا کہنا تھا افسوس ہیں کہ جامعہ اسلامیہ ہمارے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کی بجائے اس پر سیاست کررہی ہے اور پاکستانکے نامور صحافیوں کو غلط معلومات فراہم کر کے ہمارے مسئلے کو غیرسنجیدہ اور محض پروپیگینڈہ قرار دینا چارہی ہے جامعہاسلامیہ کی انتظامیہ لوگوں میں یہ تاثر بنانے کی کوشش کررہی ہے کہ ہم پڑھنے نہیں آئے ہیں بلکہ لڑنے جھگڑنے اور احتجاج کرنےکیلئے آئے ہیں جو ایک تعلیمی ادارے اور اس کے انتظامیہ کے لئے باعث شرم کی بات ہے ایسے پروپیگینڈہ جامعہ اور انتظامیہ کیلئےبلوچستان کے طلباء کے ذہنوں میں منفی اثرات بھی پیدا کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہمارا احتجاج کوٹہ سیٹ پر آدھا فیصد فیس طلبی کے خلاف ہے جامعہ اسلامیہ میں سالانہ بلوچستان کے طلباء کیلئے126 سیٹیں مختص کی گئی ہیں اور عموماً 60 یا 70 طلباء سالانہ داخلہ لیتے ہیں 2020 میں جب بلوچستان کے کوٹہ سیٹ پر 50 فیصد فیس لگائی گئی تو تب سے لے کر آج تک 80 طلباء بھی نہیں آئے لیکن انتظامیہ یہ غلط بیانی کررہی ہے کہ 1000 طلباء آئے ہیںہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ نہ تو ڈرانے دھمکانے سے ہمارے حوصلے پست ہونگے اور نہ ہی غلط معلومات فراہم کرنے سے ہم کمزورہوں گے ہم اپنے آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے بروز پیر 10 اکتوبر تک اگر جامعہ اسلامیہ کی طرف سے مسئلے کا حل نہیں نکلا گیاتو مجبوراً ہم جامعہ کے اندر ایک پرامن ریلی نکالیں گے یا جامعہ کی مرکزی گیٹ کو بھی بند کرسکتے ہیں اور تادم بھوک ہڑتالی کیمپمیں بھی بیٹھ سکتے ہیں ۔

نوجوانوں کو روزگار دینے کے بجائے اربوں روپے بٹورا جارہا ہے ۔ نیشنل پارٹی

نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم کی خالی اسامیوں کو سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کے ذریعے پُر کرانے کی پالیسی سمجھ سے بالاتر...

گوادر: ایک شخص کی لاش برآمد

پولیس نے ضروری کاروائی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردیا۔ دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع گوادر کے علاقے پسنی...

سوراب :کان میں گیس بهرنے سے 6 افراد جانبحق

 سوراب کے علاقے سیاہ کمب میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس سے جانبحق ہونے افراد کے نام یہ ہیں ۔۔ دی بلوچستان پوسٹ ویب ڈیسک کو موصول ہونے والے...

تازہ ترین

افغانستان کی پاکستان میں ڈرون حملے، اسلام آباد میں سکیورٹی الرٹ، بین الاقوامی ہوائی...

افغانستان کی حکومت کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان فورسز نے جمعہ کی شام اسلام آباد کے قریب واقع...

گوادر اور جھاؤ میں قابض فوج پر حملوں میں 4 اہلکار ہلاک، تربت نیول...

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے...

کوئٹہ میں گھر پر ڈرون گرنے سے دو بچیاں زخمی

کوئٹہ کے علاقے سرا غڑگئی کلی ملا خیل میں ایک گھر پر ڈرون گرنے کے باعث دو بچیاں زخمی ہوگئیں۔ پولیس کے...

آپریشن ھیروف فیز ٹو میں بی ایل اے کی منظم، مہلک اور شاندار حکمت...

آپریشن ھیروف فیز ٹو میں بی ایل اے کی منظم، مہلک اور شاندار حکمت عملی کے ساتھ تاریخ ساز کامیابی - دْرپشان بلوچ آپریشن ھیروف...

خضدار: کرخ میں پاکستانی فورسز اور بلوچ آزادی پسندوں کے مابین تازہ جھڑپیں

بلوچ آزادی پسندوں کا ضلع خضدار کے علاقے کرخ کے قریب سی پیک روٹ پر کنٹرول آج پانچویں روز بھی برقرار...