کراچی پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کیلئے احتجاج
پاکستانی فورسز کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھےہیں۔
احتجاجی کیمپ میں لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے شریک ہیں ان لاپتہ افراد کو بلوچستان اور سندھ کےمختلف علاقوں سے حراست میں لیا گیا جو تاحال لاپتہ ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی آرگنائزر آمنہ بلوچ نے ہفتہ کے روز کراچی پریس کلب کے باہر لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سےلگائے جانے والے احتجاجی کیمپ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کراچی سے لاپتہ افراد کی بازیابی کی جدوجہد ایک پرامن اورجمہوری تحریک ہے لاپتہ افراد کے لواحقین قانون و آئین کے دائرے میں رہ کر بلوچ لاپتہ افراد کی جبری گمشدگی کے خلاف تحریکچلارہے ہیں حکومت اور اس کے ادارے قانون کا احترام کرکے لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کریں۔
آمنہ بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جمہوری جدوجہد کا احترام کیا جائے اور قانون و آئین کے دائرے میں رہ کر سندھ میں لاپتہافراد کی بازیابی کو یقینی بنائیں اور ہماری جمہوری اور قانونی تحریک کو دبانے کے لئے طاقت کا استعمال نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ماورائے قانون کے مرتکب ہورہے ہیں جس سے سندھ میں بھی انسانی حقوق کی پامالیہورہی ہے۔ اس وقت بے شمار افراد سی ٹی ڈی اور وفاقی اداروں کے قید میں ہیں وہ بے گناہ ہیں۔
بلوچستان: جبری گمشدگی کے شکار پانچ افراد بازیاب
بلوچستان سے مختلف اوقات میں جبری گمشدگی کے شکار ہونے والے پانچ افراد بازیاب ہوگئے ہیں- بازیاب افراد کو مختلف اوقات میںحراست بعد لاپتہ کردیا گیا تھا-
تفصیلات کے مطابق رواں سال 25 اپریل کو آبسر تربت سے جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے طالب علم کلیم شریف اور 23 اپریلکو گومازی سے فورسز کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے یوسف اکبر منظر عام پر آگئے ہیں-
دونوں نوجوانوں کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ سے ہے اور گزشتہ روز بازیاب ہوکر اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں-
پنجگور سے اطلاعات کے مطابق لاپتہ راشد ولد واحد بخش آج بازیاب ہوگئے ہیں- راشد کی بازیابی کی تصدیق انکے قریبی ذرائع نےکی ہے-
ادھر بلوچستان کے ضلع کیچ سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مند گوبرد کے رہائشی لاپتہ دو نوجوان وسیم ولد سلیم اور وسیم ولد شوکتآج بازیاب ہوکر گھروں کو پہنچ گئے ہیں- اسی طرح رواں مہینے بازیاب ہونے والے لاپتہ افراد کی تعداد 16 ہوگئی-
اس سے قبل 21 جون کو بلوچستان سے مختلف اوقات میں جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے آٹھ افراد منظر عام پر آگئے تھے جنمیں سے چار افراد بازیاب ہوگئے تھیں تاہم چار افراد تاحال نوشکی سی ٹی ڈی کے تحویل میں ہیں کراچی سے جبری گمشدگی کےشکار تین افراد 23 جون کو بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں، جن میں علی ولد بخشی، اسرار ولد انورعمر اور نواز علی ولد ناصرشامل ہیں-
نوشکی میں سی ٹی ڈی کے حوالے کئے گئے افراد میں پیرجان ولد سردو سکنہ ایرو، پسند علی ولد چار شمبے سکنہ کساک بلیدہ،عبدالصمد ولد رحیم بخش سکنہ ایریکان، پھلان حان ولد خدا بخش شامل ہیں -تاہم پولیس کی جانب سے ان افراد پر عائد کئے گئےکسی بھی طرح کی کیس کی تفصیلات میڈیا کو فراہم نہیں کئے گئے ہیں-
جیکب آباد میں دستی بم حملہ، ایک شخص ہلاک، آٹھ زخمی
جیکب آباد کے علاقے مولا داد پھاٹک کے قریب دھماکا ہوا ہے، دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے۔
پولیس...
آر سی ڈی؛ ایک خونی شاہراہ ۔ اسلم آزاد
آر سی ڈی؛ ایک خونی شاہراہ
تحریر: اسلم آزاد
دی بلوچستان پوسٹ
آر سی ڈی شاہراہ بلوچستان کی سب سے طویل روڑ ہے جو پورے بلوچستان کے نہ صرف ایک ضلع کو...
پانی کا مسئلہ، گوادر کے رہائشی ایک بار پھر احتجاج پر مجبور
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پانی کی قلت بدستور جاری عوام کا احتجاج
تفصیلات کے مطابق گوادر کے علاقے دربیلا میں پانی بحران...
کوئٹہ: وی بی ایم پی کا بھوک ہڑتالی کیمپ جاری
بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کوئٹہ میں قائم طویل بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4683 دن مکمل ہوگئے، پشتونخوا میپ کے مرکزی عہدیدار قادر آغا،...
پاکستانی وزیر اعظم کا دورہ گوادر، لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں جمعہ کے روز پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ کے موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر سراپا احتجاج...
شہید ساجد عرف سگار اور شہید ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ بی...
بلوچ نیشنلسٹ آرمی کے ترجمان مرید بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 19جون 2022 بروز اتوار کو پنجگور کے علاقےپروم انجیر کوہ کے مقام پر ہمارے اور ساتھی تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچار معمول کی گشت پر تھے کہ ان کا سامناقابض پاکستانی فوج اور ان کے زرخرید ڈیتھ اسکواڈ کارندوں سے ہوا جس سے ایک طویل جھڑپ کا آغاز ہوگیا۔ اس طویل اور خونیجھڑپ میں قابض فورسز اور ڈیتھ اسکواڈ کارندوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اور وطن کی دفاع میں سرمچار ساجدبلوچ عرف سگار سمیت ساتھی تنظیم بی ایل ایف کے پانچ ساتھی سرمچاروں کیپٹن ظہورحمل عرف بالی، اکبر عرف حمل، سکینڈلیفٹیننٹ ساجد محمود عرف سمیر، صابرقادر عرف تاھیر ، عطا عرف ناصر نے جام شہادت نوش کی۔
انہوں نے کہا کہ شہید ساجد جان عرف سگار ولد حسین سکنہ چتکان پنجگور گزشتہ دو سالوں سے بلوچ نیشنلسٹ آرمی کے پلیٹفارم سے مسلح جد وجہد سے وابستہ تھے۔ وہ ایک بہادر و جفاکش سرمچار تھے اور بلوچستان کی آزادی کےلیے دشمن کے خلافمسلح سرگرمیوں میں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھاتے رہے اور آخری سانس و خون کے آخری قطرے تک دشمن کےخلاف لڑتے رہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ نیشنلسٹ آرمی ساجدبلوچ عرف سگار اور ساتھی شہید سرمچاروں کو خراج عقیدت اور سرخ سلام پیش کرتیہے۔ اس عزم کو دہراتے ہیں کہ قابض کے خلاف آخری گولی اور آخری سرمچار تک ہماری مسلح کاروائیاں مزید تیزی کے ساتھ جاریرہیں گے۔
کراچی سے صحافی لاپتہ، ایمنسٹی کی اظہار تشویش
ایمنسٹی ساؤتھ ائیشیاء کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کو ارسلان خان کی جبری گمشدگی پر گہری تشویش ہے۔
مہاجر انسانی حقوق کے کارکن ارسلان خان کو آج کراچی سے جبری لاپتہ کردیا گیا ہے ارسلان خان کے ساتھیوں کے مطابق انہیںفورسز ادارواں نے علی الصبح انکے گھر سے زبردستی حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا جس کے بعد سے وہلاپتہ ہیں-
کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی فواد حزان نے ارسلان خان کی جبری گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ارسلان خان کوآج کراچی سے لاپتہ کردیا گیا ہے فواد کے مطابق ارسلان خان بتور صحافی کراچی میں لاپتہ مہاجروں کے کیس پر انکے ساتھ کامکررہے تھے-
صحافی فواد حزان کا کہنا تھا ارسلان خان کراچی کی ایک توانا آواز ہیں۔ انکی جبری گمشدگی سے ثابت ہوتا ہے کہ ریاست کراچیکے لئیے آواز اٹھانے والوں کو برداشت نہ کرنے کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ پاکستان کو لوگوں کو اپنے پیاروں سے دور کر کے اختلاف رائے پر سزا دینے کیاس گھناؤنے عمل کو ختم کرنا چاہیے- حکومت کی جانب سے لاپتہ افراد معاملے پر قائم کردہ کمیٹی کو دیکھ لینا چاہیے کہ وہ دعویٰکیا کررہے ہیں اور درحقیقت ملک میں کیا چل کررہا ہے-
وی بی ایم پی کی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4682 دن ہوگئے، بی ایس او پجار شال زون کے ممبر آفرین شاہوانی انکی بہن اور ماشکیل...


























































