آپریشن ہیروف کا دوسرا فیز ؛ بلوچ قومی آزادی کا ناقابل فراموش معرکہ ۔ ظہیر بلوچ

221

آپریشن ہیروف کا دوسرا فیز ؛ بلوچ قومی آزادی کا ناقابل فراموش معرکہ 

تحریر: ظہیر بلوچ 

دی بلوچستان پوسٹ

آزادی کیا ہے ۔؟ قومیں آخر کیوں آزادی کے حصول کے لیے اپنے سینوں سے بارود باندھ کر دشمن کے مضبوط قلعوں میں گھس جاتی ہیں اور اپنی جانوں کو داؤ پر لگا دیتی ہیں۔؟ کیا آزادی واقعی اتنی مقدس ہے کہ انسان اپنی سب سے قیمتی متاع، یعنی زندگی، قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔؟ انسان کو آزادی کی ضرورت آخر کیوں پیش آتی ہے اور کیوں بلوچ قوم کے نوجوان، بزرگ اور خواتین اس مقصد کے لیے اپنی جانیں نچھاور کر رہے ہیں۔؟ اس کا جواب نہایت سادہ مگر گہرا ہے، آزادی وہ نعمت ہے جس کے سائے میں انسان اپنی زندگی اپنی مرضی سے، وقار اور عزت کے ساتھ جیتا ہے۔ جہاں اختیارِ زندگی چھن جائے، وہاں سانس لینا تو ممکن ہوتا ہے مگر جینا نہیں۔ اپنی مرضی، شناخت اور عزت کے ساتھ جینے کا نام ہی آزادی ہے، اور آج بلوچ قوم اسی باوقار زندگی کے حق کے لیے اپنی قربانیاں پیش کر رہی ہے۔

آپریشن ہیروف

پچیس و چھبیس اگست 2024 کی شام بلوچ سرزمین سے کالے بادل جو آندھی و طوفان سے بھرپور تھے، بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے ہوتے ہوئے لسبیلہ اور پورے بلوچستان میں گرجنے اور برسنے شروع ہوئے لیکن اس گرج و برسنے میں غصہ بھی تھا اور محبت بھی جھلک رہی تھی۔ کالی آندھی جب آتی ہے تو سب گرد اٹھا کر لے جاتی ہے لیکن اس کالی آندھی میں محبت تھی، عشق تھا جو صرف اس بدبودار نظام کو اس فضاء سے نکال کر اپنے ہم وطنوں کے لئے اپنے خون سے پورے سماج میں معطر کرنا چاہتا تھا۔ یہ کالی گھٹائیں بیس گھنٹوں تک جاری رہی اور نظام میں پھیلے وردی والے سینکڑوں تعفن زدہ لوگوں کو ٹھکانے لگانے میں کامیاب رہی۔اس کالی آندھی کو جو پاکستان کے لئے بربادی کا پیغام تھی بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن ہیروف کا نام دیا اور یہ اس آپریشن کا پہلا مرحلہ تھا۔

اکتیس جنوری کی فضاء جب آسمان میں اللہ و اکبر کی صدائیوں سے گونج رہی تھی،پرندے بھی خاموش تھے شاید کسی طوفان کی پیش گوئی تھی، پہاڑوں کو بھی اس طوفان کی آمد کا علم تھا لیکن اس لمحے بلوچستان کی پہاڑوں کی خاموشی میں کچھ سرفروش اپنے قیادت کی سربراہی میں ایک دوسرے سے بغل گیر تھے، محبت کی داستانیں رقم ہونے والی تھی،بلوچستان کی فضائیں اپنے عاشقوں کے انتظار میں بانہیں پھیلائے ہوئے کھڑی تھی اور خود پر رشک کررہی تھی کہ میں اتنی خوبصورت ہوں کہ میرے سینکڑوں عاشق مجھے اپنے لہو سے تر وتازہ کرنے والے ہیں۔

جونہی یہ طوفان اٹھا اور پلک جھپکتے ہی پورے بلوچستان کی فضائیں مہک اٹھی اور یہ طوفان دشمن پر ایسے قہر بن کر ٹوٹا جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ طوفان کی رفتار نے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اور دشمن کو اس ہیروپ نامی طوفان میں اپنے شکست واضح نظر آنے لگی اور ان کے رونے کی آوازیں بلوچستان کی فضاؤں میں گونجنے لگی۔ انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ بلوچستان نامی سونے کی چڑیا کا جس کو وہ نام دیتے ہیں وہ دشمنوں کے لئے صرف موت کا کنواں ہے۔ وہ صرف اپنے بچوں کے لئے اپنی بانہیں کھولتی ہے جبکہ دشمنوں کے لیے وہ ہیروپ کا روپ دھار لیتی ہے جس میں تباہی ہی تباہی ہے۔

اس کالی آندھی سے تیز طوفان کو بی ایل اے نے آپریشن ہیروف فیز دوئم کا نام دیا جو آج چھ دنوں سے جاری ہے۔ اس طوفان کی ہواوں اور بوندوں نے سینکڑوں دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتار کر اپنے جان قربان کرکے اپنے لہو سے اس سماج کو معطر کردیا ہے اور کچھ بوندیں اب بھی دشمن پاکستانی فوج کو ملیا میٹ کررہی ہے۔

ہیروپ نامی طوفان بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دشمن پر قہر برساتا اور اپنے عوام کو عشق اور محبت کی داستان سناتا رہا، یہ داستان عشق ہے وطن کا جس نے اہلیان تمپ کو اپنی کہانی سناتے ہوئے بلیدہ کا رخ کیا اور دشمن کی چیخوں سے گوادر اور پسنی کے ماہی گیر بھی لطف اندوز ہوتے رہے۔ ہواؤں نے رخ بدلا اور طوفان قلات، مستونگ اور خاران سے ہوتا ہوا کوئٹہ پہنچا جہاں عوام کا جم غفیر اس کہانی کو سنتا رہا اور اس کہانی کے کرداروں کا ماتھا چوم کر انہیں خراج عقیدت پیش کرتا رہا تو نوشکی اور دالبندین کی فضاؤں میں بھی اس درد و عشق کی کہانی سننے کے لئے عوام بیتاب تھے اور بیتاب کیوں نہ ہوتے کیونکہ اس طوفان نے قوم کو یکجان و یک دل بنادیا تھا اور دشمن کو تباہی کے دہانے پہ لاکھڑا کردیا تھا۔

بلوچ شہدا

ہیروپ نامی کالی آندھی سے بھرپور طوفان جو بلوچ سماج کو ایک نئی زندگی عطا کرتی ہے اس طوفان کے بلند و بالا کرداروں نے بلوچ سماج کو ایک ایسی توانائی بخشی جو ہزارہا سال تک اس سماج کو مہکاتی رہیگی۔ اس آپریشن میں ابتک کی اطلاعات کے مطابق چھیالیس بلوچ سرمچار شہید ہوئے جس میں انتیس فدائی، دس فتح اسکواڈ کے ممبر اور سات ایس ٹی او ایس کے ممبران شہید ہوئے ہیں

شہید ناکو میران، ایک باپ جس نے پسنی کے ساحلوں میں بہنے والی لہروں کو سننے پر مجبور کردیا اور پاکستان کے ایٹمی غرور کو پسنی کے سمندری ریت کے نیچے منوں مٹی تلے دفن کردیا، ہتم ناز سمالانی ایک ماں جس کے فولادی ارادوں نے نوشکی کے پہاڑوں کا قد بھی اپنے کردار و قربانی سے چھوٹا کردیا۔

شہید وسیم بلوچ اور شہید یاسمہ بلوچ نے زامران اور بلیدہ کے پہاڑوں سے نکل کر پسنی کے ساحلوں میں ہاتھوں سے ہاتھ ملا کر، محبت کا بوسہ دیکر سمندر کو بتایا کہ عشق کیا ہوتی ہے، محبت کیا ہوتی ہے اور زمین کیا ہوتی ہے۔؟ جب پسنی کے سمندر کو ان کے عشق کی کہانی کا علم ہوگا تو وہ بھی جھک کر انہیں خراج عقیدت پیش کریں گا۔

تمپ کی حوا، جو دروشم بن کر گوادر کے نیلگوں سمندر اور کوہ باتیل کی پہاڑوں پر چیخ چیخ کر بتاتی ہے کہ خواتین کمزور نہیں بلکہ بلوچ سماج کا حصہ ہے جو اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ آزادی کی جنگ کو ایک نئی قوت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

نوشکی کی آصفہ مینگل آروسی لباس میں دلہن بن کر مٹی کی آغوش میں سر رکھ دیتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ عشق کا اولین حقدار ہماری زمین ہے جس نے ہمیں محبت اور عشق کا اصل مطلب سمجھایا۔

عبید، سبزل اور سراج تاریخ کی صفحات میں ایک کہانی لکھتے ہیں اور وہ کہانی ہے آزادی کے سپاہیوں کا جس کو تاریخ سنہرے حرفوں میں یاد رکھیں گی۔

حارث بادینی، رازق نیچاری، حزب اللہ نیچاری اور قادر بخش کرد اپنی قربانی سے ثابت کرتے ہیں کہ زمین کی محبت میں جان کی قیمت کچھ نہیں ہوتی۔

آپریشن ہیروف کے اثرات

کالی گھٹائیں جب زوروں سے برسیں اور اپنی طاقت سے جب سب کچھ بہا کر لے جائیں تو متاثرہ افراد پر ایک ہیبت طاری ہوتی ہے کہ ہم برباد ہوگئے لیکن بلوچستان میں برسنے والی کالی گھٹائیں مکمل جانبدار تھی، وہ اپنے عوام کو پہچانتی تھی، اپنے لوگوں سے جب ملاقات ہوتی تو ان کے ساتھ میل ملاقات ہوتی، گپ شپ ہوتی، عقیدت ہوتی لیکن جب دشمن کو اپنی زمین پر دیکھتی تو آپے سے باہر ہو جاتی کیونکہ وہ کالی گھٹائیں جانتی تھی کہ ہماری زمین پر جو خون کی ندیاں بہائی گئی یہ انہی دشمنوں کی کارستانی ہے اور ہمارے برسنے کا مقصد ہی ان دشمنوں کو رلانا ہے۔

کالی گھٹائیں اب بھی برس رہی ہے اور سرفراز کی ہچکیاں بند نہیں ہورہی ہے اور اسمبلی میں خواجہ آصف، بلوچ اور براہوی کو الگ قومیت کی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کررہے ہیں اور الزام وہی پرانا روایتی کہ انڈیا نے پنجاب کو چھوڑ کر آرٹیفیشل کالی گھٹائیں بلوچستان بھیج دی ہے تاکہ ان کے برسنے سے پنجابی مرجائیں، اور یہیں محمود خان اچکزئی جیسے سیاستدان جس کو کوئی پختون نہیں پوچھتا وہ مست ہاتھی کی طرح قابض کے بجائے بلوچ قوم کے خلاف ایک نیا پنڈورا بکس کھولنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ بلوچ اور پشتون پنجابی فوجی کے لئے ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوجائیں۔

پاکستان کے پروپگینڈہ بریگیڈ نے آپریشن ہیروف کو ناکام دکھانے کے لئے جنگجووں کو گرفتار دکھایا اور شہید دروشم بلوچ کی اے آئی بنا کر اسے گرفتار کرلیا یہ سب ہار کی نشانیاں ہے لیکن ان کے چہرے کے تاثرات بتارہے ہیں کہ اتنا جانی نقصان ہوا ہے کہ اب پنجابی فوج نفسیاتی و ذہنی طور پر شکست خوردہ ہوچکی ہے اور شکست خوردہ ہونے کا مطلب صرف پنجابی فوج کی موت کا نام نہیں بلکہ ان کے دلالوں کے لیے بھی موت کا پیغام ہے۔

قومی محبت کی اعلی مثال۔

جب ہفتے کی صبح بلوچستان کی فضاؤں میں کالے بادلوں کا سفر شروع ہوا تو بلوچ قوم کے فرزند سڑکوں میں دیوانہ وار جھومتے رہے اور اپنے سرمچاروں کے ہاتھوں کو، پیشانی کو چھوم کر ان کو اپنا مسیحا پیش کرتے رہے لیکن اس وقت سب نے دیکھا کہ ڈر کے مارے نوآبادیاتی نظام کے خالق اس برستی بارش کو دیکھ کر گھروں سے باہر ہی نہ نکلے لیکن عوام صرف اپنے مسیحاوں سے بغل گیر ہوئے اور انہیں کہا کہ ہمارے دلوں پر صرف آپ لوگوں کا راج ہے۔

آپریشن ہیروف فیز دوئم میں سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی ویڈیو میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک بلوچ لڑکی سرمچاروں کو کلاشنکوف کی کچھ گولیاں یہ کہہ کر دیتی ہے کہ یہ آپکی بہن کی طرف سے، یہ محبت ہے اپنے زمین سے، یہ محبت ہے اپنے محافظوں سے اور دنیا جانتی ہے کہ بلوچستان میں یہ محبت کبھی پاکستانی فوج کو نصیب نہیں ہوگی۔

جان کی قربانی لیکن کیوں۔؟ 

درد، دکھ، تکلیف، خوف، مسائل، جینے کی آزادی نہ ہونا جب ایک ساتھ مل جائیں تو انسان، انسان نہیں رہتا وہ پہاڑ بن جاتا ہے جس کو نہ جھکنا آتا ہے اور نہ ٹوٹنا آتا ہے بس توڑنا سیکھ لیتا ہے۔ آپریشن ہیروف میں دی گئی قربانیاں پھل آور درخت بن کر پاکستانی غرور کو ملیا میٹ کریں گی لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بلوچ قوم کے فرزند و دختر کیوں جان کی قربانی دے رہے ہیں۔؟، اس سوال کا آسان جواب ہے کہ آزادی کی عدم موجودگی، عزت سے جینے کی عدم موجودگی جو انسان کو اتنا بہادر بنادیتی ہے کہ وہ اپنی جان کی قربانی بھی دینے کے لیے تیار رہتا ہے۔

ہتم ناز سمالانی ایک بزرگ خاتون جس کی عمر گھر میں آرام کرنے کی ہے لیکن وہ پہاڑوں کی مہمان بن جاتی ہے۔ ناکو میران جس کی عمر پوتے، پوتیوں سے پیار کرنے کی ہے وہ انہیں اپنے عمل سے قربانی کا مفہوم سمجھا کر امر ہو جاتا ہے۔ یہ قربانیاں صدیوں کے ظلم سے نکلنے والی نفرت کا ہے اور یہ نفرت کسی انسان سے نہیں بلکہ اس نظام سے ہے جو انسان کو غلام بنادیتا ہے اور غلامی انسان کو ناپسند ہے۔

نتائج ؛

آپریشن ہیروف کے نتائج کیا ہونگے اس کا تجزیہ کرنا اتنا مشکل نہیں اب تباہ و برباد پاکستان اپنی پوری فوجی قوت کو بلوچستان میں استعمال کریں گا لیکن اسکے مقدر میں صرف بربادی ہوگی کیونکہ طوفان کا رخ موڑا نہیں جاسکتا اور نہ ہی ندیوں کے پانی کو بند سے روکا جاسکتا ہے اور اگر بند باندھنے کی کوشش کی تو بلوچ قوم کے خون سے بننے والا پنجاب بھی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوگا۔

حروف آخر۔

آپریشن ہیروف نے بلوچ قوم کو ایک باشعور قوم میں تبدیل کیا ہے اور تاریخ میں پہلی بار نظر آرہا ہے کہ بلوچ ایک قوم کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ نوری نصیر خان سے لیکر موجودہ دور تک پہلی بار بلوچ قوم کو ایک مکمل قوم بننے کے راستہ پر گامزن ہے اور قوم بننے کا عمل قومی تحریک آزادی میں بڑا کردار ادا کرے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔