تمہاری یادوں کی آہٹ محسوس ہو رہی ہے – سدو بلوچ

48

تمہاری یادوں کی آہٹ محسوس ہو رہی ہے

تحریر: سدو بلوچ
ترجمہ: ہارون بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ہر انسان اپنے اندر ایک پوری دنیا بساتا ہے اور کسی بھی انسان کے ساتھ گزارے گئے لمحے زندگی بھر آپ کے ساتھ رہتے ہیں اور آپ کی ہمراہی کرتے ہیں۔ انسان کے جانے کے بعد بھی یہ یادیں رہ جاتی ہیں، کبھی کبھار یہ یادیں زندگی جینا سکھاتی ہیں اور کبھی یہ بہانے بنانے کا سبب بنتی ہیں لیکن جنہوں نے زندگی جینے کے فلسفے کے لیے موت کو قبول کیا ہے، انہیں یاد کرنے اور جینے کے لیے ہمیں کسی بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ ہر لمحے ہمارے ساتھ رہتے ہیں اور ہمارے ساتھ زندگی جیتے ہیں۔

انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ اپنے لیے ایک معنی تلاش کرتا ہے اور پھر اسی معنی کے ساتھ وہ زندگی گزارتا ہے لیکن جو لوگ دوسروں کے لیے اپنی زندگیاں قربان کرتے ہیں، ان کی پوری زندگی ایک معنی کی پاسداری کرتی ہے اور پھر وہ اسی معنی کے ساتھ اپنی زندگی گزارتے ہیں اور اپنی زندگیوں کو بامقصد بنا دیتے ہیں۔ وہ انسان جو خود اس پوری اجتماعی حقیقت کی شکل ہوتے ہیں، ان کی زندگی کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا لیکن انسان کی ایک اندرونی کیفیت ہوتی ہے، اور میں چاہتی ہوں کہ اوتاک (کیمپ) اور پہاڑوں کے اندر وہ چند لمحے، جو میں نے شہید ساتھیوں کے ساتھ آخری وقت میں گزارے تھے، آخری گولی تک جس وقت ہم ایک ساتھ تھے، انہیں الفاظ کی قید میں ڈال دوں اور دل کے اندر جو آگ لگی ہوئی ہے اسے کچھ ہلکا کروں۔

میں جب بھی قومی آزادی کی اس جنگ میں شامل ساتھیوں کو دیکھتی ہوں، ان شہید ساتھیوں کے بارے میں سوچتی ہوں، ان کی ہستی کے بارے میں خیال کرتی ہوں، تو میرے اندر زندگی کرنے کی طلب زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ یہ موت کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ ہمارے ساتھ ابدی طور پر زندگی کرتے ہیں اور مجھ سمیت اس پوری اجتماعیت کو معنی دیتے ہیں۔ یہ معنی دن بدن مزید وسعت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ میں جب بھی شہید ہونے والے ساتھیوں کو دیکھتی ہوں تو میرے اندر زندگی کرنے کی طلب اور بھی بڑھ جاتی ہے اور میں خود کو ایک نامکمل انسان تصور کرنے لگتی ہوں۔ شہید ہونے والے ساتھی مکمل طور پر خالص انسان ہوتے ہیں اور اس خالصی میں وہ مکمل طور پر عاجز ہوتے ہیں۔ زندگی اور موت دونوں حالتوں سے گزرنے کے بعد وہ ہمارے خیالوں میں تاابد زندہ رہتے ہیں۔

ہم نے زندگی کو بہت محدود بنا دیا ہے، لیکن بلوچ شہداء نے اپنی معنویت بھری زندگی سے اس محدودیت کو اپنے لہو اور محنت سے پیدا ہونے والی کہانی کے ذریعے دوبارہ معنویت دی ہے۔ ان سخت پہاڑوں میں جنگ لڑنا، ان غاروں کے اندر آزادی کے ساتھ زندگی کرنا ان جہدکاروں کی جدوجہد کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ ان کے منہ سے ایک آہ نہیں نکلتی اور ان کی گولیوں سے چھلنی لاشیں کسی ویرانے میں پڑی ہوتی ہیں اور پھر وہ سرزمین کی مٹی کی امانت بن جاتی ہیں۔ نہ وہ زمانے سے گلہ کرتے ہیں اور نہ ہی وہ کسی معاملے کو لے کر دل میں کوئی ملال رکھتے ہیں، اپنی لی ہوئی کمٹمنٹ پر عمل کرتے ہیں اور عظیم حوصلوں کے ساتھ اپنے فیصلوں پر قائم رہتے ہوئے آزادی کی موت کو اپنے لیے قبول کرتے ہیں۔

جو موت آزادی کے ساتھ آئے، اس سے بڑھ کر برتر زندگی کیا ہو سکتی ہے؟ اس وقت جنگ جاری ہے، ہر طرف بم و بارود پھیلا ہوا ہے اور میں اپنی آنکھوں سے سرمچار ساتھیوں کو ہنستے اور مسکراتے ہوئے دیکھ رہی ہوں، اور ان کی آنکھوں میں جو روشن جھلک موجود ہے، وہ آزادی کا پیغام اور صبح کی نوید دیتی ہے۔ وہ ہنستے ہنستے ان پہاڑوں کے غاروں میں، رات کے اندھیروں میں، ان پتھروں کے تودوں کے درمیان، ان کے چہروں سے وہ مسکراہٹ غائب ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔

کون اس کیفیت میں تکلیف محسوس نہیں کرتا جب ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے ساتھی دشمن کی گولیوں سے چھلنی ہوتے ہیں اور ان کی بندوق، جو دشمن کو نشانہ بنانا چاہتی ہے، آگ برسانا بند کر دیتی ہے؟ جب کسی سرمچار کی بندوق جنگ کے درمیان آگ برسانا بند کر دیتی ہے تو ان کی آنکھوں سے آنسو نکلتے ہیں۔ دشمن آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے اور بندوق نے دھوکہ دیا ہوتا ہے، لیکن جونہی وہ اپنے قریب بیٹھے ساتھی پر دشمن کو قہر برساتے دیکھتا ہے تو ان کی آنکھوں کی وہ روشن جھلک اور اندر موجود نور دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔

اس عظیم جدوجہد کے اندر ہر ساتھی اپنے قومی فیصلے کا خود ذمہ دار ہوتا ہے، اور کسی بھی انسان کے لیے سب سے مشکل مرحلہ فیصلہ لینا ہوتا ہے۔ لیکن جب کسی انسان نے اپنی زندگی میں فیصلہ لیا اور عمل کے وقت اس فیصلے پر ثابت قدم رہا، تو یہ کمٹمنٹ اور حوصلے کا وہ آخری مرحلہ ہوتا ہے؛ اس سے بڑھ کر کوئی شے وجود نہیں رکھتی۔

میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے جنگ کے دوران ساتھیوں کو ہنستے اور مسکراتے دیکھا ہے۔ جب وہ اوتاک کے اندر موجود تھے تو اس وقت بھی ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، اور جب وہ دشمن پر بھرپور آگ برسانے کے لیے سامنے موجود تھے تو اس وقت بھی ان کے گولیوں سے چھلنی بدن مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا ہے۔ یہ حیران کن ضرور ہے، مگر ایک عظیم حقیقت کے طور پر میری آنکھوں کے سامنے موجود رہی ہے۔

آپ الفاظ کے ذریعے کچھ بیان تو ضرور کر سکتے ہیں، مگر وہ کبھی بھی مکمل حقیقت کے اظہار کا سبب نہیں بن سکتا۔ البتہ یہ حقیقت تک پہنچنے، اسے سمجھنے یا اس کا احساس رکھنے کا ایک مرحلہ ہو سکتا ہے، لیکن مکمل حقیقت اپنے اندر بہت وسیع اور گہرے سمندر کی مانند ہوتی ہے۔

میں نے جو کیفیت اور حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے، شاید وہ الفاظ کے ساتھ یہاں بیان نہ ہو، یا اسے بیان کرنے کی انتہا مجھ میں نہ ہو، کیونکہ میں کبھی بھی الفاظ یا بیان کے ذریعے عظیم قربانی سے گزرنے والے ان ساتھیوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتی۔ جو زندگی انہوں نے وطن کی خاطر جیا ہے، جو تکلیف و مشکلات، سختی و خواری انہوں نے دیکھی ہے، اور جو مہر و محبت کی انتہا قوم و زمین کے لیے ان کے دل کے اندر موجود ہے، وہ انتہا میرے الفاظ کی کبھی بھی محتاج نہیں ہو سکتی، لیکن میں چاہتی ہوں کہ میں اپنی اس بے بسی کے درمیان بھی ان ساتھیوں اور دوستوں کو قلمبند کروں۔

اس آخری سفر میں ہوا جان بھی ہمارے ساتھ تھیں، ہم ہمیشہ ہنستے اور مسکراتے تھے۔ ہمیشہ ہنستے تھے اور ایک دوسرے کو ہنساتے تھے۔ کبھی لگتا تھا کہ میں اور ہوا نے ایک ہی زندگی گزاری ہے اور ہماری زندگی کی معنویت اور انتہا ہمیں ایک ساتھ ہی دی گئی ہو، صرف موت کے وقت ہماری تقدیر الگ الگ لکھی گئی ہو۔ لیکن ہم اب بھی ایک دوسرے کے ساتھ زندگی کر رہے ہیں۔

ہوا جان جب اس آخری لمحے میں مجھ سے بات کر رہی تھیں، ان کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی اور وہ مسکراتے اور ہنستے ہوئے مجھ سے محوِ گفتگو تھیں۔ اس دوران پہاڑ ہیں، خاموشی ہے، ہوا چل رہی ہے، اور ہم پتھروں کے درمیان بیٹھ کر قصہ سنا رہے تھے۔ پہاڑوں کے درمیان موجود سرمچاری وتاک ایک الگ دنیا ہے۔ آپ کی پوری دنیا یہی سنگت ہوتے ہیں اور بلوچستان کے وہ خوبصورت پہاڑ ہوتے ہیں۔ وہاں کوئی آسائش نہیں مگر مکمل زندگی موجود رہتی ہے۔ مہر و دوستی و سنگت موجود ہوتی ہے، ہر ساتھی دوسرے سنگت سے زیادہ مہربان و قربان ہوتا ہے، وہاں محبت اپنی انتہا میں رہتی ہے۔ کسی بھی ساتھی کو کسی دوسرے سنگت سے چھوٹا سا ضد و اختلاف نہیں رہتا۔

جب بھی میں اور ‘ہوا’ ایک دوسرے سے اپنی کہانیاں سنا رہے تھے تو بندوق ہمارے زانوں پر موجود رہتی تھی، جاٹہ ہمارے سائیڈ پر رکھا ہوتا تھا، اور کاوہ چائے پتھر کے اوپر رکھا ہوا ہوتا تھا۔ ہوا جان ایک پتھر کے سہارے بیٹھی ہوئی تھیں اور میں انہیں سن رہی تھی۔

بقول ہوا، وہ گزشتہ پانچ سالوں سے اس دن کا انتظار کر رہی تھیں۔ فدائیت کی اس سے بڑی مثال کیا ہو سکتی ہے کہ ایک انسان پانچ سالوں تک اپنے اس فیصلے کی انجام دہی کا انتظار کرے اور اپنی شعوری و فکری موت کو دیکھنے کے لیے منتظر رہے۔ ان جیسے وطن زاد ساتھیوں کے ساتھ گزرے لمحات کی زندگی کس حد تک خوبصورت ہوگی، اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔

میں اس وقت ان کے ہونٹوں پر کھلکھلاتی ہوئی مسکراہٹ کو دیکھ رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے گوادر کا سمندر بھی اسی طرح مسکرا رہا ہو، شاید دونوں ایک ساتھ مسکرا رہے ہوں گے، اور ہوا جان سمندر کی ان آتش زدہ لہروں کے اندر آزادی کی دنیا میں زندگی کر رہی ہوں اور اپنی آنکھوں سے آزادی کے منظر کا نظارہ کر رہی ہوں اور خود ایک نظارے کی مانند سب کے سامنے موجود ہوں۔

اور جب ہماری جدائی کے آخری ایام آئے تو انہوں نے میر احمد کا مشہور گیت (بش مبو یارک)، جس میں فدائین کے آخری لمحے کا منظر پیش کیا گیا ہے، وہی گیت شروع کیا اور پھر زمین پر پڑنے والی کیفیت کے ساتھ رقص کر رہی تھیں۔ جب ان کے پاؤں کی چاپ نغمے کے ساتھ مل رہی تھی تو مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے بلوچستان بھی اس وقت زہیرونک گاتے ہوئے رقص کر رہی ہو اور اپنے بچوں اور بچیوں کو شادی کے جوڑے میں دیکھ رہی ہو، اور اس انقلابی منظر کو دیکھتے ہوئے میرے لیے زندگی جیسے مکمل دکھائی دے رہی تھی۔

میں اس وقت جب آخری مرتبہ ہوا جان کو پیشانی پر بوسہ دے رہی تھی تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اس وقت آسمان اور زمین دونوں جیسے ایک ہو چکے ہیں، اور میری آنکھوں سے خوشبو پھیل رہی ہے اور اس کی آواز میرے کانوں میں جیسے آزادی کا پیغام پہنچا رہی ہے۔ ہوا جان ہمیشہ مسکراتی رہتی تھیں اور میدانِ جنگ میں بھی آخری وقت تک وہی ہوا تھیں، وہ مکمل طور پر خود ہی تھیں۔

اس سفر میں ہمارے ساتھ کئی ساتھی موجود تھیں اور ہر سنگت و ساتھی کی باتیں اور یادیں ہمیشہ میرے لیے رہنمائی کرتی رہیں گی، مجھے زندگی کرنا سکھاتی رہیں گی اور میری زندگی کے ہر لمحے میں مجھے جگاتی رہیں گی اور سکھاتی رہیں گی۔ میں اس سفر میں شامل کس ساتھی کی عظمت کا ذکر کروں؟

میں جب ان ساتھیوں کے کردار، مخلصی و خلوص، عاجزی و مہر و محبت کو دیکھتی ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں اور میری ذات ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں۔ لمہ یاسمہ، ان کی مہر و دوستی، خیال داری، برداشت اور صبر، وہ تمام ساتھیوں کے لیے ایک ماں جیسی تھیں۔ انہیں خود ساتھیوں کی تمام چیزوں کا غم تھا۔ اس پورے سفر میں تیاری سے لے کر آخری منزل اور لمحے تک یاسمہ مسلسل ہمیں اپنی ماں جیسی مہر سے نواز رہی تھیں۔

وہ اپنے تمام بیٹوں کے لیے جیسے ایک ماں کی طرح دیوانی تھیں، اور کیمپ کی تمام ذمہ داریاں ان کے اپنے کندھوں پر تھیں۔ جنگی حکمتِ عملی اور تربیت میں وہ مکمل طور پر ایک پختہ اور سرگرم خاتون تھیں، لیکن ہمیں وہ کسی بھی چیز کو ہاتھ لگانے بھی نہیں دیتی تھیں۔ وہ مکمل طور پر مضبوط تھیں، مکمل تیار تھیں، اور ہر چیز کا غم انہیں خود تھا۔ سفر کی تیاری سے لے کر چولہے تک سب چیزیں وہ خود کرتی تھیں اور ہمیں کسی بھی طرح زحمت کرنے نہیں دیتی تھیں۔ وہ کبھی بھی یہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کے دیگر بیٹے تکلیف میں رہیں اور اپنے تمام بیٹوں کے لیے ایک ماں جیسی تھیں۔ صرف وہ ایک ماں نہیں بلکہ ان کے بیٹے بھی انہیں ایک ماں کی طرح مہر و عزت دیتے تھے۔ کبھی کوئی سنگت ان کے ساتھ بیٹھ کر مذاق کر رہی ہوتی، تو کبھی کوئی سنگت بیٹھ کر ان کا پاگ باندھ رہی ہوتی تھی۔

میں جب شہزاد جان کو دیکھتی تھی تو حیران ہو جاتی کہ ایک انسان کو خود کو بدلنے کے لیے کس حد تک وقت درکار ہوتا ہے۔ ان کی مجلس، بیٹھک و مسکراہٹ اب بھی میرے کانوں میں گونجتی اور خیالوں میں آتی ہے۔ شہزاد کہتا تھا: “اس سفر سے پہلے میں بالکل ایک مختلف انسان تھا، اور میں انسانوں یا سوشل سرکلز سے بھاگ جاتا تھا، اور گھر میں جب کوئی مہمان یا شخص آ جاتا تو میں خود کو واش روم میں بند کر دیتا تھا تاکہ کوئی بھی مجھے نہ دیکھے اور میں ہمیشہ خود کو چھپاتا تھا۔ لیکن جب میں نے شہزاد کو کیمپ میں دیکھا تو وہ ایک مکمل بدلا ہوا انسان تھا اور ان کے اندر بچپن کی موجود شرمیلا پن مکمل غائب تھا اور وہ کیمپ کے اندر سب سے روشن اور ہنس مکھ سنگت تھا۔ اس نے اپنے اندر موجود شرمیلے انسان کو ختم کر دیا تھا اور مکمل طور پر بدل چکا تھا۔

جب شام ہوتی تو لاشاری ہمیں قصہ سناتا۔ لاشاری کو قصہ سنانے کا بہت زیادہ شوق تھا۔ وہ کہتا تھا کہ جب میں نے شروعات میں قصہ لکھنے کا آغاز کیا تو میری کہانیوں کو زرمبش تاک چھاپنے سے انکار کرتا تھا اور کہتے تھے کہ تمہیں اب بھی لکھنے کا انداز اور ہنر سیکھنا چاہیے۔

ان کی کہانیوں میں ماھو بنیادی کردار ہوتی تھی۔ ہر شام ہم جب بھی ان کی کوئی کہانی سنتے تو ماھو ان کا ایک حصہ ہوتی تھی۔ ماھو ان کی محبت تھی اور قصہ سنانا لاشاری کو بہت خوبصورت انداز میں آتا تھا۔ ہم جب بھی بور ہو جاتے تو لاشاری ہمیشہ ہمارے لیے کوئی نہ کوئی قصہ ضرور لاتا۔ اور جب رات ہو جاتی تو وہ اپنے دشتار کی کہانی سناتا تھا۔ اپنی ماں اور بہنوں کی تصویریں ہمیں دکھاتا تھا اور وہ ہمیشہ ہم سے ان کے قصے اور باتیں کرتا تھا۔

ہر گزارے ہوئے ساتھی کے ساتھ یادوں کا ایک لمبا داستان موجود ہے۔ جو لمحے ان نایاب ساتھیوں کے ساتھ گزرے ہیں، وہ میری زندگی کے سب سے خوبصورت اور یادگار لمحے تھے۔ ہمارا وتاک اپنے آپ میں ایک گھر اور دنیا تھا۔ ایک ہی وقت میں ہم درد بانٹ رہے تھے، مہر بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر رہے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ زندگی اور موت کا فیصلہ بھی لیا تھا۔

پہاڑوں میں کسی بھی چیز کی آسائش نہ ہونے کے باوجود بھی ہمیں تنہائی کا کچھ بھی خیال نہیں تھا۔ ہم خوش اور شاداں تھے، ہر ساتھی اپنے فیصلے پر فخر محسوس کر رہا تھا اور زندگی کی حقیقی و خوبصورت شکل میں نے وتاک اور سرزمین کے ان وارثوں کے ساتھ گزارتے وقت کے ساتھ دیکھی تھی۔

یاگی اپنے آپ میں خود ایک مثال تھا، اسے گانے اور رقص کرنے کا بہت زیادہ شوق تھا، وہ ہمیشہ رقص و دو چاپی کی خواہش رکھتا تھا۔ ہم جب بھی کام کے سلسلے میں فارغ ہو جاتے تو یاگی جان کا رقص و دوچاپی شروع ہو جاتا اور ہمارا ماحول اور زیادہ خوشگوار بنا دیتا تھا۔

انہی کرداروں میں ایک کردار سرباز بھی تھا۔ خاموش مزاج شخصیت ان کے اندر موجود تھی، لیکن مزاح اور مسکراہٹ اور ساتھیوں کو تنگ کرنے کے معاملے میں اسے کوئی ہرا نہیں سکتا تھا۔ وہ ایک ہی وقت میں بہت زیادہ پیچیدہ انسان لگتا تھا۔ جب بھی کوئی سنجیدہ گفتگو شروع ہوتی، تو اس کی مثال دیکھنے کو نہیں ملتی تھی۔ وہ ہمیشہ اپنی سرگرمیوں اور ذمہ داریوں کے سلسلے میں مشغول رہتا تھا۔

سرباز ہر کام اور سرگرمی کو ایک بہترین انداز میں سرانجام دینا چاہتا تھا۔ ظاہر کرنے کا شوق اسے بالکل بھی نہیں تھا۔ ایک مکمل اور کامل جہدکار کی تمام خصوصیات اس کے اندر موجود تھیں۔ نظم و ضبط، رازداری، تنظیمی سرگرمی اور بہترین فیصلہ سازی میں سرباز ہم سب کی آنکھوں کا نور ہوا کرتا تھا۔ اس کی برداشت کی کوئی حد و حدود نہیں تھیں اور وہ اپنی خاموشی کے اندر ایک دنیا بسا رہا تھا۔

کبھی میں اسے دیکھتی تو مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے وہ خود سے باتیں کر رہا ہو اور خود کو دلاسہ دے رہا ہو۔ لیکن جب بھی وہ اپنی نظریں پہاڑوں کی جانب کرتا تو ایسا محسوس ہوتا جیسے بلوچستان کے بامعنی پہاڑ سرباز جان کے ساتھ محوِ گفتگو ہوں، اور پھر پہاڑ بھی اس کی طرح معنی خیز لگتے، خاموش؛ اسی لیے وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔ اور دونوں ایک دوسرے کو جانتے تھے اور ایک دوسرے سے مکمل طور پر آشنا تھے، اس لیے دونوں ہی کسی کو الگ نہیں کرتے تھے اور ایک دوسرے کے بہترین دوست تھے۔

اس نے اپنے آخری لمحوں تک اپنی مضبوطی و محکمتی قائم رکھی۔ اور پانچ منٹ پہلے ہی اس نے اپنے گھر والوں کے لیے اپنا پیغام لکھ دیا تھا:
“یہ آزادی کی جنگ ہے، یہاں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، انسان مختلف حالات کا سامنا کرتا ہے، اور مشکل و خواری آتی ہے انسان کے اوپر۔ انسان کو ان مشکل حالات کا سامنا کرنا چاہیے، لیکن آزادی کے اس کارواں کا ساتھ نہیں چھوڑنا ہے اور آخری وقت تک، آزادی تک یہ جنگ جاری رہنی چاہیے۔ آزادی تک ایک ساتھ ہیں۔”

وہ اپنا آخری پیغام لکھنے کے بعد آخری لمحے تک اپنے فیصلے پر قائم رہا اور ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔ پہاڑوں میں وتاک سے لے کر آخری لمحے تک ہم ہنس رہے تھے۔ کسی کے ہونٹوں پر کوئی مایوسی نہیں تھی، اور ہم ہنستے ہنستے جنگ کے آخری لمحوں تک پہنچ چکے تھے۔

لیکن ہم انسان ہیں، چاہے جس طرح بھی مضبوط رہنے کی باتیں کریں، اپنے اندر موجود جذبات و احساسات کو رد نہیں کر سکتے۔ وہ ساتھی جنہیں ہم اپنی آنکھوں کا نور سمجھتے ہیں، لیکن ہماری آنکھوں کے سامنے جب ان کی بندوقیں رکھی ہوتی ہیں تو انسان کسی نہ کسی طرح ایک مخلوط کیفیت کا شکار رہتا ہے۔ لیکن جب یہ سوچتے ہیں کہ انہوں نے یہ شہادت کا فلسفہ اور منزل کیوں اور کس کے لیے چنی ہے تو انسان مضبوط ہو جاتا ہے۔

انہی ساتھیوں کی سرزمین کے ساتھ مہر و محبت انسان کو حوصلہ دیتی ہے اور انسان پھر اس کے نظریے کو لے کر خود کو مضبوط اور توانا کرتا ہے۔

جب ساتھیوں نے آخری وقت آخری گولی کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے خود کو شہید کیا تو میں اور ماہ گنج واپسی میں اکیلی آ رہی تھیں۔ یہ الوداع کرنے کا لمحہ ہمارے لیے بہت مشکل تھا۔ جب ہم جارہے تھیں تو ہم ایک ساتھ تھیں اور واپسی میں صرف میں اور ماہ گنج اکیلی رہ گئی تھیں اور ہمارے ہونٹ خشک ہو چکے تھے۔

ہم ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لیے ہنر بنا رہی تھیں۔ وہ سوچ رہی تھیں کہ میں غم میں ہوں اور میرے خیال میں ان کی حالت یہی تھی۔ ہم واپسی پر پورے راستے ایک دوسرے کے ساتھ مزاح کر رہی تھیں تاکہ ہم اپنے اندر موجود اس غم کا اظہار نہ ہونے دیں۔ لیکن درد کیسے چھپایا جا سکتا ہے؟

اسی حالت میں ماہ گنج نے مجھ سے کہا: “دیکھو، ہمارا دل جس طرح درد سے بھرا ہوا ہے، لیکن ہم زبردستی ایک دوسرے کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انسانوں کے جانے کا لمحہ کتنا غمزدہ احساس ہے، اور اس وقت اپنے اندر موجود اس غمزدہ درد کا احساس بس ہمیں تھا کہ کس انتہا کا درد لیے ہم وتاک واپس جارہے تھیں۔”

“انسانوں کا بدل کوئی شیشہ و آئینہ نہیں ہو سکتا” اور پھر جہدکار ساتھیوں کا بدل کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ ہم کبھی کوئی شعر سناتیں تو کبھی گانا لگا دیتیں تاکہ اپنے اندرونی درد کو خود سے بھگا دیں۔

اور جب ہم وتاک واپس پہنچے تو ہماری آنکھوں کے سامنے وہی ساتھی موجود تھے۔ ان کی جگہیں خالی تھیں، مگر یہ آزادی کی جنگ ہے، یہاں قربانی دینا لازمی ہے۔ انہی ساتھیوں کی جگہ، ہماری جگہ، نئے ساتھی و سنگت آئیں گے اور آزادی کی یہ جنگ اسی شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔

انسانوں کا اس دنیا سے چلا جانا یقیناً تکلیف دہ ہے، مگر کیا کریں، آزادی کے لیے ان ساتھیوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ یہ قربانیاں کوئی بھی اپنے ذاتی مفاد کے لیے نہیں دے رہا، یہ آزادی اور وطن کے لیے دی جا رہی ہیں۔ اس لیے آزادی تک یہ جنگ جاری رہے گی، اور چلے گئے ساتھیوں کی ذمہ داریاں ہمارے اور آپ کے کندھوں پر آ گئی ہیں۔

ہم ایک ساتھ رہیں گے، ایک مختلف جگہ، ایک مختلف شکل، اور ایک الگ سفر میں۔ آزادی کے ستاروں کی چمک سے پہلے اور بعد میں بھی ہم ایک ساتھ ہیں اور ایک ساتھ رہیں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔