بلوچ لبریشن آرمی نے گذشتہ ماہ زامران میں ایک حملے میں پاکستانی فورسز کے کیمپ کو نشانہ بناکر پانچ اہلکار ہلاک کردئے تھے۔
بلوچ لبریشن آرمی کے مطابق انکے سرمچاروں نے 29 مارچ کو ضلع کیچ کے علاقے زامران میں پاکستانی فوج کے ایک کیمپ پر مختلف سمتوں سے حملہ، جس کی ویڈیو آج تنظیم نے جاری کردی ہے۔
بی ایل اے کے میڈیا چینل ہکل پر جاری ویڈیو کے آغاز میں ایک کمانڈر حملے کی منصوبہ بندی کی تفصیلات ایک ماڈل کے ذریعے بیان کرتا ہے اور مسلح سرمچاروں کو مختلف سمتوں سے پیش قدمی کی ہدایات دیتا ہے۔
بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا ونگ نے اس کارروائی کو “معرکۂ زامُران” کا نام دیا ہے، حملے کے فوٹیج میں دکھایا گیا ہے اس دوران سرمچاروں نے ڈرونز کے ذریعے ایف سی کیمپ کی نگرانی اور ویڈیو ریکارڈنگ کی۔
یاد رہے کہ رواں سال بی ایل اے نے “قہر” (Qazi Aero Hive Rangers) کے نام سے ایک فضائی یونٹ کے قیام کا اعلان کیا تھا، جسے تنظیم نے اپنی کارروائیوں کے دوسرے مرحلے “آپریشن ہیروف” کا حصہ قرار دیا تھا۔
تنظیم کے ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق اس یونٹ نے ابتدائی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں اور ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے دور دراز اور حساس مقامات کو نشانہ بنانا ممکن ہوا ہے، ان کا کہنا تھا کہ جدید جنگ صرف زمینی محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ فضائی اور دیگر شعبوں تک پھیل چکی ہے۔
بی ایل اے کے مطابق معرکہ زامُران میں پاکستانی فوج کے پانچ اہلکار ہلاک ہوئے اور کیمپ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
تنظیم نے یہ بھی بتایا کہ اس حملے میں انکا ایک ساتھی عبدُوست عزیز عرف “المان” شہید ہوگئے تھے۔


















































